ماواں ٹھنڈیاں چھاواں۔۔۔نصرت بھٹو

سعید پرویز  منگل 22 اکتوبر 2013

ماواں ٹھنڈیاں چھاواں!

مگر اب نہ وہ ٹھنڈیاں چھاواں والا گھنا درخت ہے، نہ اس کی ٹھنڈی چھاواں میں بیٹھنے والے بہرحال ماں، ماں ہوتی ہے چاہے امیرزادی ہو یا غریب۔ اولاد کے لیے ماں کا پیار ایک سا ہوتا ہے۔ ’’اک ممتا کا رشتہ سچا، جھوٹے رشتے سارے‘‘ ایک ماں ہی کا آج ذکر ہے جس کو دنیا چھوڑے دو سال ہو گئے۔ ویسے تو وہ جیتے جی بہت پہلے ہی دنیا چھوڑ چکی تھی۔ بس سانس چل رہی تھی اور ماں آخری ہچکی کا انتظار کر رہی تھی۔ دو سال پہلے اس نے آخری ہچکی لی اور اپنے پیاروں کے پاس چلی گئی۔

ماں وقت کے ایک بہت بڑے آدمی کی بیوی تھی، پھر ایسا ہوا کہ اس کا شوہر اپنے ملک کا مرد اول بن گیا اور ماں خاتون اول۔ ماں کا شوہر بڑا ہی باصلاحیت انسان تھا، اور وہ اپنے ملک کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اس کا ملک آزاد ہونے کے باوجود آزاد نہیں تھا۔ اس کے ملک کے فیصلے کہیں اور ہوتے تھے، بھوک، غربت، بیماری، جہالت، خوف عوام کا مقدر اور زندگی چند لوگوں کے ہاتھوں میں۔ یہ چند لوگ نسل در نسل بکاؤ مال چلے آ رہے تھے۔ خوشامد ان کی فطرت تھی اور جھکنا ان کی عادت۔ یہی چند گھرانے آباد چلے آ رہے تھے اور کروڑوں ناشاد۔ مرد اول نے دنیا بھر کے اپنے جیسے لوگوں کو جمع کیا تو دشمن کے کان کھڑے ہو گئے اور دشمن نے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا۔ وہ بھی جان چکا تھا کہ اب مردانہ وار موت کو گلے لگانا ہو گا۔ پھر یوں ہوا کہ شب خوں مارا گیا اور اس کے ہی مقرر کیے گئے فوجی جرنیل نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اب شوہر جیل میں تھا ماں نے دونوں بیٹوں کو ملک چھوڑ کر چلے جانے کو کہا اور بیٹے چلے گئے۔ ماں جانتی تھی کہ قابض جرنیل بیٹوں کو بھی نہیں چھوڑے گا۔

ماں کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ ان میں ایک بیٹی باپ کی بڑی چہیتی اور بے نظیر بیٹی تھی۔ باپ کی چہیتی بیٹی نے ماں کے ساتھ احتجاج کا علم اٹھا لیا۔ وہ اپنے باپ کا معاملہ عوام میں لانا چاہتی تھی اور ملک کے سبھی جمہوریت پسند ان کے ساتھ تھے۔ قابض فوجی جرنیل اپنی عدالتوں میں کیس چلا رہا تھا اور فیصلہ بھی اسی کے حق میں ہوا۔ ماں کے عظیم شوہر کو ناکردہ جرم کی پاداش میں پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ ماں اور بیٹی جیل میں ڈال دیے گئے۔ ایک ملاقات کرائی گئی۔ ماں کے شوہر اور چہیتی بے نظیر بیٹی کے باپ نے دونوں کو الوداع کہا اور تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جانے کے رستے پر چل دیا۔ یہ رستہ پھانسی گھاٹ کی طرف جاتا تھا۔ ماں بیٹی کو پھر سے جیل میں ڈال دیا گیا۔ علی الصبح جلاد نے دار کا تختہ کھینچا۔ ادھر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی۔ موذن کی اذان ختم ہوئی اور مقتل کا قصہ بھی تمام ہوا۔ فوجی جرنیل نے لاش کو سخت پہرے میں مرنے والے کے آبائی گاؤں پہنچایا۔ گنتی کے چند لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی اور پھر تدفین کا عمل مکمل کیا گیا۔

ملک کے سب سے بڑے آدمی کو سنگینوں کے سائے میں دفنا دیا گیا۔ اس روز گاؤں کے تمام دروازے بند رکھے گئے۔ ماں بیٹی سیکڑوں میل دور جیل میں تھیں اور دونوں بیٹے ملک سے باہر تھے۔ بیٹوں نے بھی اپنے عظیم باپ کا علم اٹھا رکھا تھا اور دشمن بھی ہر علم بردار کا پیچھا کر رہا تھا سو اسے جیسے ہی موقع ملا تو ایک بیٹے کو زہر دے کر مار ڈالا۔ بیٹا زندہ تو ملک میں نہیں آ سکتا تھا لاش کی صورت بیٹے کو بھی آبائی قبرستان لایا گیا۔ ماں بیٹی جیل سے باہر تھیں، ماں نے کمال حوصلے کے ساتھ جوان بیٹے کو باپ کے قریب دفنا دیا۔ ماں کا ایک بیٹا اب بھی باہر تھا۔ ملک میں سیاہ ترین رات چھائی ہوئی تھی۔ رات کے دشمن اجالوں کے متوالے تحریک چلا رہے تھے۔ ماں بھی اس تحریک کا حصہ تھی۔ لوگ سڑک پر احتجاج کر رہے تھے کہ رات کے ایک رکھوالے کی لاٹھی ماں کے سر پر پڑی۔ خون ماں کے ماتھے اور رخساروں کو سرخ کرتا ہوا دامن میں جذب ہو رہا تھا۔ بیٹی نے ماں کو سنبھالا۔ ماں کے اردگرد سبھی اس کے بیٹے تھے۔ ماں کا خون سڑک پر بھی گرا اور تاریخ رقم کر گیا۔

شوہر اور جوان بیٹے کی قبریں سامنے تھیں اور ماں ان کا علم اٹھائے سڑکوں پر تھی۔ قابض جرنیل اپنی ڈیوٹی خوب نبھا رہا تھا۔ ملک کے چپے چپے میں کلاشنکوف اور ہیروئن جیسا زہریلا نشہ پھیل چکا تھا۔ بظاہر قابض جرنیل کے حصے کا کام ہو چکا تھا۔ اور پھر ایک دن ایک محفوظ ہوائی جہاز نے فضا میں اڑان بھری اور کچھ دیر بعد فضا میں ہی پھٹ گیا اور قابض جرنیل اپنے حواریوں کے ساتھ ہوائی جہاز کے ٹکڑوں میں منتشر ہو گیا۔ ملک پر چھائی سیاہ ترین رات ختم ہوئی تو سڑکوں پر نعرے بلند ہونے لگے۔ یہ نعرے عظیم باپ کی چہیتی بے نظیر بیٹی کے لیے تھے۔ لوگوں کو چہیتی بیٹی میں باپ نظر آنے لگا۔ اور وہ اسے باپ کی تصویر کہہ کر پکارنے لگے۔ پھر یہ نعرے قریہ قریہ، نگر نگر پھیلتے چلے گئے اور باپ کی چہیتی بے نظیر بیٹی ملک کی خاتون اول بن گئی۔

شوہر اور جوان بیٹے کی جدائی کے زخم کسی حد تک مندمل ہوئے تو ماں نے اپنے بیٹے کو واپس بلوا لیا۔ اب بیٹا دن رات ماں کے سامنے رہتا اور ماں بیٹے کو دیکھ دیکھ خوش ہوتی۔

بیٹی کی حکومت تھی، بیٹا ماں کے پاس تھا، سب کچھ بہت اچھا تھا، ماں کے دن رات اچھے گزر رہے تھے کہ ایک رات وہ رات کا پہلا پہر تھا، ماں کے گھر کے عین سامنے رات کے رکھوالے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ بیٹا گھر کے دروازے سے ذرا دور تھا کہ چاروں طرف سے فائر کھول دیا گیا۔ بیٹی حکمراں تھی ’’مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں‘‘۔ ’’شیر جوان‘‘ کی لاش دیر تک سڑک پر پڑی رہی۔ ماں کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا، حکمران بہن سیکڑوں میل دور دارالخلافہ سے گھر پہنچی ماں کو دیکھا۔ وہ ٹھہر سی گئی تھی جیسے اس کا سفر ختم ہو گیا ہو، سانس چل رہی تھی اور بظاہر وہ زندہ تھی۔ حکمران بہن اسپتال میں پڑے مردہ بھائی کو دیکھنے آئی۔ دنیا دیکھ رہی تھی حکمران بہن لرزتے پاؤں بھائی کے لاشے کی طرف بڑھ رہی تھی۔

تیسری لاش کو بھی باپ اور بھائی کے قریب دفنا دیا گیا۔ ادھر فیصلہ ہو گیا چہیتی بے نظیر بیٹی کی حکومت ختم کر دی گئی اور وہ سکتہ زدہ ماں کے ساتھ ملک سے باہر چلی گئی۔ یوں ہی آٹھ سال گزر گئے اور ملک پر چوتھی بار جرنیل قابض تھا۔ ذہین بے نظیر بیٹی کے پاس وقت کم تھا اور اسے منزل پانے کی جلدی تھی سو وہ آٹھ سال بعد وطن لوٹ رہی تھی۔ اس کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ آدھی رات گئے بے نظیر بیٹی کو منزل ملتے ملتے رہ گئی، بموں کے حملے میں وہ تو بچ گئی مگر اس کے 177 ساتھی منزل پا گئے۔ جنھیں اسی قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ جہاں عظیم باپ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ موجود تھا۔ مگر صرف ڈیڑھ ماہ بعد ہی باپ کی چہیتی بے نظیر بیٹی نے بھی آخر کار منزل کو پا لیا۔ دسمبر کی ٹھٹھرتی شام تھی جب ’’گمنام قاتل‘‘ نے سڑک پر آخری علم بردار کا گرم گرم خون بہایا۔ ملک سے باہر ماں بظاہر سانس کی ڈور سے بندھی، بستر پر پڑی تھی، مگر اسے خبر نہ تھی کہ سر مقتل اس کا اپنا خون پھر بہا دیا گیا۔ عظیم باپ اور دو بھائیوں کی عظیم و بے نظیر کو بھی آبائی قبرستان میں لایا گیا۔

ایک قبرکا اور اضافہ ہو گیا۔ ملک سے باہر ماں سکتے کے عالم میں آخر کب تک جیتی؟ سو دو سال ہوئے وہ بھی سانس کی ڈوری توڑ کر شوہر، بیٹوں اور بیٹی سے جا ملی۔ اب ماں کی صرف ایک بیٹی زندہ بچی ہے وہ بھی اس لیے کہ ماں نے اسے مقتل کے رستے پر نہیں آنے دیا۔

یہ ایک گھر کی پانچ قبریں، قربانی، بہادری کی عظیم داستان سناتی ہیں۔ سال بھر لوگ آتے ہیں کیا اپنے کیا پرائے داستان سنتے ہیں اور دلوں کو جگمگاتے ہیں۔ میں خوش نصیب ہوں کہ عظیم ماں نے میری کتاب ’’گھر کی گواہی‘‘ کی صدارت کی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔