ٹرانزٹ ٹریڈ کیلیے آن لائن سسٹم متعارف کرانے کافیصلہ مسترد

بزنس رپورٹر  منگل 22 اکتوبر 2013
سسٹم میں کرابی کے باعث مال طورخم بارڈر اور پھر افغانستان میں داخل ہونے کے باوجود سسٹم میں بیلنس موجود رہتا ہے۔ فوٹو: فائل

سسٹم میں کرابی کے باعث مال طورخم بارڈر اور پھر افغانستان میں داخل ہونے کے باوجود سسٹم میں بیلنس موجود رہتا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستان افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹراورخیبر پختونخوا چیمبر کی ریلوے اور ڈرائی پورٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ضیاء الحق سرحدی نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن اتھارٹی کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مینول کے بجائے آن لائن سسٹم متعارف کرانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طورخم بارڈر پربجلی کی عدم دستیابی اور طویل لوڈشیڈنگ کے باعث آن لائن سسٹم کارآمد ثابت نہیں ہوگا۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ طورخم بارڈر پر بجلی کے ناقص نظام، مواصلاتی نظام اور طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ایف بی آر کا کوئی سسٹم کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے کراچی سے مال طورخم بارڈر اور پھر افغانستان میں داخل ہونے کے باوجود سسٹم میں بیلنس موجود رہتا ہے اور مال کی کلیئرنس کا کوئی ریکارڈ ڈیٹا میں موجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا میں بروقت انٹری نہ ہونے کی وجہ سے کسٹمز حکام اپنی نااہلیت چھپانے کے لیے ایجنٹس پر تمام ملبہ گرادیتے ہیں جس کی ایک مثال حالیہ نیٹو کنٹینرز اسکینڈل ہے جو پرال سسٹم کی خرابی کی وجہ سے درد سر بنا ہوا ہے۔ ضیاء الحق سرحدی نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں آنے والے مال کی مینول انٹری کے عمل کو برقرار رکھا جائے اور جب تک سسٹم میں موجود خرابیوں کو دور نہیں کیا جاتا تب تک ای ڈی آئی کنیکٹیویٹی کا عمل شروع نہ کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔