سندھ حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

کورٹ رپورٹر  جمعـء 15 نومبر 2019
احتجاج کے نام پر آمدورفت روکنے کی کوشش پر قانونی ایکشن لیا جائے گا، مرتضیٰ وہاب۔ فوٹو: فائل

احتجاج کے نام پر آمدورفت روکنے کی کوشش پر قانونی ایکشن لیا جائے گا، مرتضیٰ وہاب۔ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

دائر درخواست میں حکومت سندھ نے موقف اپنایا کہ وفاقی حکومت نے جیلوں میں قیدیوں کو سہولیات کے متعلق آرڈیننس جاری رکھا ہے،آرڈیننس کے مطابق نیب کیس کا ملزم سی کلاس کی سہولت حاصل کر سکتا ہے، آئینی درخواست میں حکومت نے موقف اپنایا کہ وفاق جیلوں کے معاملے پر کوئی ترمیم نہیں کر سکتا، جیل صوبائی سبجیکٹ ہے، جیلوں کے متعلق قانون وفاقی حکومت نہیں بنا سکتی، جیلوں کے متعلق قانونی سازی صرف صوبے ہی کر سکتے ہیں، ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے حکومت کی طرف سے پٹیشن داخل کرائی گئی، پٹیشن سریم کورٹ کراچی رجسٹری میں داخل کی گئی۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر قانون ماحولیات وسا حلی ترقی اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس بالخصوص قیدیوں کے معاملات آئین پاکستان سے متصادم ہے جو صوبائی مداخلت کے زمرے میں آتا ہے۔

سندھ اسمبلی کے میڈیا کورنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جیل اور قیدیوں کے معاملات صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں، وفاقی حکومت نے قیدیوں کو جیل میں رکھنے کے لیے جو آرڈیننس جاری کیا ہے حکومت سے اس غیر آئینی اقدام کے لیے عدلیہ سے رجوع کرے گی، سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں اس آرڈیننس کے نافذ العمل ہونے کے خلاف پٹیشن دائر کردی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔