دنیا و آخرت کی کام یابی کی ضمانت

جنید رضا  جمعـء 15 نومبر 2019
ہمیں حضور اکرمؐ کی حیات مبارکہ سے ہر پہلو پر مکمل راہ نمائی حاصل کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

ہمیں حضور اکرمؐ کی حیات مبارکہ سے ہر پہلو پر مکمل راہ نمائی حاصل کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

آج کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مختلف مکاتب فکر میں حضور اکرمؐ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر بحث و مباحثہ تو کیا جاتا ہے، لیکن اس سے سماجی تبدیلیوں کے حوالے سے کوئی راہ نمائی نہیں لی جاتی اور نہ ہی اس کو بہ طور نظام عمل میں لانے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔

دنیا کی کوئی قوم یا جماعت اس وقت تک کام یابی حاصل نہیں کرسکتی، جب تک وہ اپنے حقیقی راہ بر کی حیات سے واقف اور عملی مطابقت نہ رکھتی ہو، اس تناظر میں بہ حیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے کامل راہ بر و راہ نما رسول کریمؐ کی عملی سیرت سے آگہی حاصل کریں۔

جب تک ہم حضور اکرمؐ کی سیرت سے مکمل واقفیت حاصل نہ کرلیں، تب تک ہم اپنے نظریے اور ایمان کو بھی مکمل طور پر واضح نہیں کرسکتے، کیوں کہ آپؐ کی سیرت مبارکہ ہی ہمارے نظریے اور ایمان کا عملی مظہر ہے اور حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ ہی ہمارے لیے ایک ایسا نمونہ ہے کہ جس کے ذریعے ہم زمین پر بسنے والی تمام اقوام کے اقتصادی، سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی قوانین حیات کا تقابلی مطالعہ کرسکتے ہیں۔

مسلمانوں کی زندگی کا ہر شعبہ خواہ وہ اقترابات یعنی اﷲ تعالی سے قُرب حاصل کرنے کے طریقے مثال کے طور نماز، روزہ، عبادات کا مکمل نظام ہو یا ارتفاقات یعنی دنیاوی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے طریقے مثلا سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات، عائلی زندگی کے قوانین، جنگ و جدل کے اصول اور انسان دوستی و دشمنی کے اصول و قوانین ہوں ال غرض حضور اکرمؐ ایک کامل و اکمل ترین شخصیت ہیں کہ جن کی حیات مبارکہ ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر راہ نمائی فراہم کرتی ہے۔

دوسرا درجہ آتا ہے کہ حضور اکرمؐ نے کام یاب زندگی گزارنے اور دنیاوی و اخروی حوالے سے ترقی حاصل کرنے کے جن اصولوں کو دنیا میں متعارف کرایا ہے، ان کو اپنایا جائے اور منظّم و شعوری جدوجہد کے ساتھ اپنے معاشرے میں ان کو غالب کرنے کی سعی و کوشش کی جائے، اس کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کا حکمت اور ہمّت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔

ہمیں حضور اکرمؐ کی حیات مبارکہ سے ہر پہلو پر مکمل راہ نمائی حاصل کرنا چاہیے، خواہ وہ خدائے عز و جل سے تعلق قائم کرنے کے حوالے سے عبادات کا مکمل نظام ہو یا قوموں کے نظام ہائے سیاسی و معاشی چلانے ہوں، یا اخوّت، ہم دردی اور بھائی چارگی کے پھیلانے کا عمل ہو، بہ جائے اس کے کہ ہم سیرت النبیؐ کو محض چند عبادات تک محدود کردیں یا محض اقترابات میں مقید کردیں یا صرف حضور اکرمؐ کی تعریفات کو منشائے حیات بناتے ہوئے آپؐ کے عملی اور انقلابی کردار کو پس پشت ڈال کر چند سنّتوں کو دین سمجھ بیٹھیں۔

حضور اکرمؐ جس کامل و اکمل فطری قرآنی اصول حیات کا تعارف کراتے تھے، تو محنت اور جدوجہد سے اس کو اپنے معاشرے میں غالب بھی کرتے تھے اور اس سے نتائج بھی اخذ کرتے تھے۔ مگر آج ہم سیرت کا مطالعہ تو کرتے ہیں لیکن اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر سیرت النبیؐ پر کسی درجے تک عمل کرتے بھی تو محض رسمی، انفرادی اور غیر شعوری بنیادوں پر، جس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے کے اندر اجتماعی حوالے سے کوئی خاطر خواہ تبدیلی پیدا نہیں ہوتی، ہم سیرت النبیؐ کو محض اپنی حد تک انفرادیت میں محدود کرلیتے ہیں۔ جب کہ حضور اکرمؐ کی سیرت کا ہر ایک پہلو ہمیں اجتماعیت کی دعوت دیتا ہے، کہ علم، سوچ و فکر اور عمل میں ہمیشہ اجتماعیت کو مدنظر رکھا جائے۔

اسی بنیاد پر حضور اکرمؐ کی حیات مبارکہ کا اگر بہ نظر عمیق مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپؐ نے اپنے نظریے کے مطابق معاشرے کے ہر شعبے میں بہ طور نظام دور رس تبدیلیاں کی تھی، اور ایک ایسا معاشرہ کہ جس کا تعلق خدا سے کٹ چکا تھا، دنیاوی معاملات میں دھوکا دہی، چوری، زنا، ظلم و ناانصافی، حقوق کو غصب کرنا اور نسلی بنیادوں پر زبردست امتیاز پایا جاتا تھا، ال غرض اقترابات و ارتفاقات کے فطری قوانین حیات زنگ آلود ہوچکے تھے، ایسے ماحول اور نظام میں حضور اکرمؐ نے آکر ایک انقلاب پیدا کیا اور انسانیت کی دبی ہوئی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے عدل و انصاف پر مبنی ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا۔

نبوّت کا مقصد محض چند عبادات یا چند اخلاقیات کا سبق دینا نہیں ہے، بل کہ ہر شعبۂ حیات میں مکمل طور پر ظلم کے نظام کو ختم کرکے عدل و انصاف کے نظام کا قیام ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جدوجہد کی اور سب سے پہلے اپنی سرزمین پر ایک تربیت یافتہ جماعت کے ذریعے اپنی قوم کے ظالم طبقہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ کے انسانیت کش نظام کو ختم کیا اور اس راہ میں جتنی تکلیفیں آپؐ کو اٹھانا پڑیں اس سے کوئی باشعور مسلم یا غیرمسلم نابلد نہیں ہے، اس کے بعد دوسرے ممالک کی طرف رخ کیا اور صحابہ کرام ؓ کی جماعت کے ذریعے مشرق و مغرب میں انسانی بنیادوں پر ایک عادلانہ نظام قائم کیا۔

دور زوال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرت نبی ﷺ اور اس کے تقاضوں کا صحیح شعور حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے ملک میں قائم فرسودہ، ظالمانہ اور سیرت نبویؐ سے متضاد نظام کو ختم کر کے سیرت النبیؐ کی روشنی میں انسانی بنیادوں پر عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کی جدوجہد اور کوشش کی جائے، تاکہ ہم اپنی دنیا و آخرت کو جنّت بنا سکیں اور انسانیت سکون کا سانس لے سکے، یہی انسانیت کی معراج ہے اور تب ہی ہم حضور اکرمؐ کی وراثت کا صحیح حق ادا کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔