ورلڈ اسنوکر: آصف اعزاز کا دفاع کرنے کیلیے پُراعتماد

اسپورٹس ڈیسک / اے ایف پی  بدھ 23 اکتوبر 2013
حکومتی اعلانات اور وعدوں کے باوجود عالمی ٹائٹل پر انعام تاحال نہیں مل سکا۔ فوٹو: فائل

حکومتی اعلانات اور وعدوں کے باوجود عالمی ٹائٹل پر انعام تاحال نہیں مل سکا۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستانی امیچر ورلڈ اسنوکر چیمپئن محمد آصف آئندہ ماہ لٹویا میں اعزاز کا دفاع کرنے کیلیے پُراعتماد ہیں۔

چیمپئن شپ 27 نومبر سے شروع ہوگی،ٹرافی پانے کے بعد بھی آصف کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، وہ اب بھی فیصل آباد کے نواحی علاقے میں رہائش پذیر ہیں، آصف گروبی بیسمنٹ کلب میں پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں، حکومتی اعلانات اور وعدوں کے باوجود انھیں ورلڈ چیمپئن بننے پر ایک لاکھ ڈالر ابھی تک نہیں مل پائے لیکن فیصل آبادمیں انھیںسپراسٹار کی حیثیت حاصل ہے، پرانی موٹر سائیکل کی جگہ سیاہ رنگ کی ٹویوٹا کرولا کار مل چکی، یہ انھیں پاکستان کے پراپرٹی ڈیولپرز نے تحفے میں پیش کی، غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت میں آصف نے کہا کہ میں جہاں کہیں بھی جائوں اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ لوگ مجھ سے پیار کرتے ہیں، ہر کوئی میرا خیال رکھتا اور میرے لیے دعاگو رہتا ہے، شہر میں سب مجھے جانتے اور یہ میرے لیے نہایت خوش کن بات ہے۔

آصف نے محمد یوسف کے ٹرافی جیتنے کے 20 برس بعد اسنوکر میں پاکستان کو ورلڈ ٹائٹل دلایا، انھوں نے گذشتہ ماہ آئرلینڈ میں منعقدہ ایونٹ میں بھی پاکستان  کے ٹیم ورلڈ ٹائٹل جیتنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس میں ان کے جوڑی دار محمد سجاد رہے تھے، آصف نے مزید کہاکہ حالیہ کامیابی نے اعتماد کو مزید بڑھا دیا اور میرا کھیل بھی بہتر ہوا ہے، میں نے دبائوکو سنبھالنا سیکھا جو اسنوکر میں اہم ہوتا ہے، آصف کو آئندہ برس پروفیشنل ایونٹ میں قسمت آزمائی کرنے کیلیے مقامی طور پر 20 ہزار ڈالر کی اسپانسر شپ بھی مل گئی،انھیں امید ہے کہ وہ امیچر چیمپئنز جمی وائٹ، جیمز ویٹانا اور کین ڈہورٹی کی طرح پروفیشنل سرکل میں کامیابیاں سمیٹیں گے۔

اسنوکر کا کھیل پاکستان میں خاصا مقبول لیکن اسے کرکٹ کی طرح فنڈز اور فروغ پانے کے زیادہ مواقع میسر نہیں آتے،کرکٹ اسٹارز خطیراسپانسر شپ معاہدے پانے میں کامیاب رہتے ہیں اور ان کا معیار زندگی بھی دیگر کھیلوں کے پلیئرز کے مقابلے میں بلند ہے، بینکنگ سے شیمپو تک ہر چیز کے اشتہار میں کرکٹرز کو شامل کیا جاتا ہے، اس صورتحال پر آصف کا کہنا ہے کہ کرکٹ سے اسنوکر کا موازنہ نہیں بنتا ، یہ بہترین گیم ہے جس میں آپ حریف کو اپنے بل بوتے پر شکست دے سکتے ہیں، کرکٹ میں ساتھی پلیئرز کی پرفارمنس پر انحصار کرنا پڑتا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے بانی قائداعظم محمد علی جناح بھی اسنوکر کھیلتے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔