مقبوضہ کشمیر کے باسیوں نے خود کرفیو کی چادر اوڑھ لی

دانش ارشاد  اتوار 17 نومبر 2019
احتجاج کایہ انداز بھارت کے لیے اعصاب شکن ہے، قابض فوج شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار۔ فوٹو: فائل

احتجاج کایہ انداز بھارت کے لیے اعصاب شکن ہے، قابض فوج شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار۔ فوٹو: فائل

ریاست جموں و کشمیر کی عملی تقسیم کے موقع (31اکتوبر)  پر سوائے کرگل کے ریاست میںکہیں کوئی احتجاج دیکھنے کو نہیں ملا۔

ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی اور جموں میں مکمل لاک ڈاؤن اور وادی کشمیر کی سیاسی قیادت کو نظر بند کردیا گیا تھا جبکہ جموں کے ڈوگرے اپنی شناخت پر وار کے بعد مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے نظر آئے لیکن عملی اقدام کے موقع پر کرگل میں احتجاج جبکہ لیہ میں جشن منایا گیا۔ بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر وار کرنے بعد سے جاری لاک ڈاؤن اور کرفیو اکتوبر کے وسط سے ختم ہو چکا لیکن ریاست کے عوام نے احتجاجاً کرفیو اوڑھ لیا ہے اور  مکمل چپ سادھ لی ہے ۔ بھارتی انتظامیہ اس احتجاجی سکوت سے کس قدر پریشان ہے، اس کا اندازہ گزشتہ ہفتوں میں بھارت کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کے اخبارات میں شائع کروائے جانے والے اشتہارات سے لگایا جا سکتا ہے۔ جن کی عبارت کچھ یوں تھی:

’’کاروبار بند رکھنے کا فائدہ کسے ہے؟ کیا ہم انتہا پسندی کے آگے جھک جائیں؟ذرا سوچیے: پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہ کرنے کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے؟ ‘‘

ستّر سال سے کشمیریوں کو گمراہ کر کے انھیں تشدد اور دہشت گردی کے چنگل میں پھنسا کے رکھا گیا۔ علیحدگی پسندوں نے اپنے بچوں کو تو بیرونِ ملک پڑھنے بھیجا مگر یہاں کے بچوں کو پتھراؤ اور ہڑتالوں پر لگائے رکھا۔ آج ہم چوراہے پر کھڑے ہیں۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ کیا ہم خوف و دہشت کے یرغمال بنے رہیں اور چند پوسٹروں اور دھمکیوں سے ڈرتے رہیں۔ کیا کاروبار بند رکھ کے، روزی نہ کما کر، اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں سے دور رکھ کے ہم خود پر کشمیر کی ترقی کے دروازے بند نہیں کر رہے؟

یہ ہمارا گھر ہے۔آخر ہم کیوں کسی سے ڈریں ؟

منجانب حکومت جموں و کشمیر ۔‘‘

پاکستانی میڈیا تاحال یہی بتا رہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں تاحال کرفیو  نافذ ہے حالانکہ بھارت نے 14 اکتوبر کو کرفیو اٹھا لیا تھا اور پوسٹ پیڈ موبائل سروس بھی آن کی جا چکی ہے۔ تاہم کشمیری عوام نے کرفیو کو خود پر اوڑھ لیا ہے اور بھارت کے خلاف خاموش بغاوت شروع کر رکھی ہے۔اس وقت مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں صورتحال یہ ہے کہ اسکول کھلے ہوئے ہیں مگر بچے گھر پر ہیں۔ سڑکوں پر گاڑیاں لانے پر بظاہر کوئی پابندی نہیں مگر لوگ باہر نکلنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کھول دی گئی ہے مگر ٹرانسپورٹرز گھروں میں بیٹھے ہیں۔حالات نارمل دکھانے کے لیے سیاحوں پر سے پابندی اٹھا لی گئی لیکن جھیل ڈل کے شکارے اور وادی کے ہوٹل خالی ہیں۔ وادی کشمیر کے بازاروں میں سوائے پھل، سبزی، گوشت، کریانے اور ادویات کی دکانوں کے کوئی دکان کم ہی کھلتی ہے۔ یہ دکانیں بھی صبح یا شام میں زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے کھولی جاتی ہیں۔ یہ پابندیاں بھارتی انتظامیہ نے نہیں لگائیں بلکہ کشمیریوں نے خود پر لگا لی ہیں۔

احتجاج کا یہ نیا روپ بھارت کے لیے خاصا پریشان کن ہے۔کیونکہ احتجاجی مظاہروں ، مسلح تصادم ، پتھراؤ ، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کے استعمال کی تصاویر میڈیا پر دکھا کے کہا جا سکتا ہے کہ کشمیریوں کو اس پار سے ورغلایا جا رہا ہے لیکن وہ سکوت جسے بھارت شروع کے دو ماہ کشمیریوں کی رضامندی کے طور پر دنیا میں بیچتارہا، اب وہی سکوت بھارت کو نفسیاتی طور پر ڈسنے لگا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے دیرپا خاموشی کسی خطرے کا پیش خیمہ ہوتی ہے ویسے ہی مقبوضہ جموں وکشمیر میں 5اگست سے طاری سکوت بھارت کو کسی بڑے طوفان کا اندیشہ دے رہا ہے اور بھارت بری طرح نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے۔بھارت یہ چاہتا ہے کہ کشمیری سب بھول بھال کر ایک نارمل زندگی شروع کر دیں مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ کشمیری بھارتی جبر بھول جائیں ِ، اپنے آباؤ اجداد کی قربانیاں بھول جائیں ،اپنے جوانوں کی خون میں لت پت لاشیں بھول جائیں ،خواتین کی عصمت دری بھول جائیں اور یہ بھی بھول جائیں کہ ان سے ان کی شناخت چھینی جاچکی ہے، وہ بھارتی غلامی قبول کرلیں اور دوسرے ،تیسرے درجے کے ہندوستانی شہری بن کر نارمل زندگی زندگی کی طرف لوٹ آئیں، کشمیری اس کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

اس ساری صورتحال میں بھارت نے کشمیر کا سکوت توڑنے کی ہر کوشش کرنے کے بعد ایک نیا حربہ آزمانا کرنا شروع کردیا ہیکہ عوام میں اشتعال پیدا ہو اور یہ سکوت ختم کیا جا سکے۔بھارتی ایجنسیز نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں جہاں کچھ عوامی چہل پہل ہوتی ہے بم دھماکے اور گرینڈ دھماکے کروانے کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ان دھماکوں میں اب تک درجنوں کشمیری شہید جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ’’ پانچ مزدوروں سمیت11 غیر مقامی افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔ اب تک بھارت سے آنے والے ہزاروں کی تعداد میں مزدور کشمیر سے واپس جا چکے ہیں۔ درجنوں مقامی افراد سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق مقامی آبادی میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں کے حوالے سے خوف پایا جاتا ہے۔‘‘

وادی کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے بنیادی طور پر عوامی جذبات کو مشتعل کرنے اور کسی بڑی کاروائی کا جواز پیدا کرنے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ دھماکے مجاہدین یا عسکریت پسند کر رہے ہیں حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں۔ کیونکہ کشمیر میں چپے چپے پر بھارتی فورسز کا پہرہ موجود ہے اور جب کہیں مجاہدین کوئی کاروائی کرتے ہیں تو فوراً اس علاقے کا کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے اور انھیں تلاش کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہو رہا۔ اکتوبر اور نومبر کے ان دنوں میں پانچ دھماکے ہوئے ہیں اور کچھ ہی وقفے پر فوج کے موجود ہونے کے باوجود سرچ آپریشن یا کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا جو اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب بھارتی فورسز کی مرضی سے ہو رہا ہے۔

اس ساری صورتحال میں ریاست جموں و کشمیر میں حریت قیادت سمیت ہند نواز سیاسی قیادت کی نظربندی کے باعث کوئی سیاسی جدوجہد نظر نہیں آ رہی۔ جموں میں بند کمروں میں احتجاجی ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے تاہم فورسز کی زیادتی کی وجہ سے سوائے کرگل کے کہیںکوئی عملی جدوجہد نظر نہیں آئی۔ ایسی صورتحال میں کوئی منظم سیاسی جدوجہد ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اس میں بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہندوستان کے اس اقدام پر جہاں ہند نواز قیادت کو گرفتار کر کے کشمیریوں پر عدم اعتماد کا پیغام دیا وہیں حریت قیادت بھی مکمل خاموش رہی جس سے دونوں قیادتیں عوامی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اب کسی نوجوان سیاسی قیادت کے انتظار میں ہیں جو منظم انداز میں پرامن اور سیاسی جدوجہد کیلئے سامنے آ سکے۔

ریاست کا نیا نقشہ اور پاکستان

31 اکتوبر کو بھارت نے ریاست کی عملی تقسیم کرتے ہوئے لداخ اور جموں و کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز کا درجہ دیا اور ریاست جموں وکشمیر کا نیا نقشہ جاری کیا جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی یونین ٹیریٹریز کا حصہ بتایا گیا۔جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے رسمی مذمت کی۔ اس کے علاوہ کسی سطح پر کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں اب اگر پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو تبدیل کر کے پاکستان میں ضم کرنے کے اقدامات کرے گا تو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ تقسیم کے اس عمل میں پاکستانی حکومت بھی برابر کی شریک ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں مختلف حلقوں میں یہ بات اٹھائی جا رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کو ضلع مانسہرہ، راولپنڈی ، گجر خان  اور جہلم میں شامل کیا جائے گا۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ آزاد کشمیر میں بھی تقسیم کی راہ رائے ہموار کی جا سکے اور عوام کو ذہنی طور پر تقسیم کیلئے تیار کیا جا سکے۔

سیز فائر لائن پر بے چینی میں شدت

سیز فائر لائن پر فائرنگ میں شدت دیکھنے آئی ہے۔ فائرنگ میں یہ شدت پونچھ اور کوٹلی کے مختلف سیکٹرز کے ساتھ وادی نیلم سے ملحقہ سیکٹر پر بھی دیکھنے کو ملی جو 2003 کے فائربندی معاہدے کے بعد پر امن سیکٹر جانے جاتے تھے اچانک بھڑک اٹھے۔ اس سیکٹر پر 2016 ء میں ایک مسافر بس کو بھارتی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نیلم سیکٹرز پر ایسے واقعات بہت کم دیکھنے کو مل رہے تھے جو اب زیادہ نظر آ رہے ہیں۔گزشتہ دنوں کچھ ایسی خبریں بھی سامنے آئی جن میں بھارت کی جانب سے نیلم سیکٹر پر ممکنہ حملے کی اطلاعات موجود تھیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی کیرن سیکٹر پر غیر معمولی نقل و حرکت کسی محدود جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود سیز فائر لائن کی خلاف ورزیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوال سامنے آیا ہے کہ سیز فائر لائن آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ کرگل اور سکردو کے درمیان بھی سیز فائر لائن موجود ہے جہاں فائرنگ کے واقعات نہیں ہوتے کیا ان علاقوں کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی معاہدہ ہے یا اسے واہگہ کی طرح بین الاقوامی سرحد کا درجہ دیا جا چکا ہے؟ کیونکہ سیز فائر لائن کے دو مختلف حصوں پر یکسر مختلف عمل تقسیم کشمیر سے متعلق کئی دوسرے سوالات  بھی جنم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیز فائر سے کراس بس سروس کے ذریعے درجنوں لوگ اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکے جو اپنے رشتے داروں سے ملنے مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر گئے تھے۔

144 نابالغوں کی گرفتاری،450 افراد پر سفری پابندیاں

اکتوبر میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی جووینائل جسٹس کمیٹی نے بھارتی سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ پانچ اگست سے اب تک 9 سے 17 سال کے 144 نابالغوں کو حراست میں لیا گیا ان پر الزام ہے کہ ان نابالغوں نے جموں کشمیر کے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے پر احتجاج کیا تھا۔ جووینائل جسٹس کمیٹی نے پولیس اور ریاست کی دوسری ایجنسیوں سے ملی معلومات کی بنیاد پر یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی۔حقوق اطفال کے لیے کام کرنے والی اناکشی گانگولی اور سانتا سنہا کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جموں کشمیر ہائی کورٹ کی جووینائل جسٹس کمیٹی سے ان الزامات کا پتہ لگانے اور ان پر رپورٹ جمع کروانے کا کہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جموںو کشمیر انتظامیہ نے 450 سے زیادہ کاروباریوں،صحافیوں، وکیلوں اور سیاسی کارکنوں کی ایک فہرست تیار کی ہے جو کہ ایک طے شدہ مدت کے دوران غیر ملکی سفر نہیں کر سکیں گے۔’اکنامک ٹائمز‘ کے مطابق، لوک سبھا میں 5 اگست کو پاس کئے گئے جموں کشمیر تشکیل نو بل کے ذریعے سے ریاست کے خصوصی درجہ کوختم کرنے اور دویونین ٹریٹری میں بانٹنے کے بعد یہ فہرست تیار کی گئی تھی۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ کشمیر کا کوئی بھی مؤثر فرد غیرملکی سفر نہ کر سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔