ڈرون حملوں پر وزیراعظم کا منطقی استدلال

ایڈیٹوریل  بدھ 23 اکتوبر 2013
امریکی حکام نے ڈرون حملوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر لوگوں کی جان لی، ایمنسٹی انٹرنیشنل  فوٹو: اے ایف پی/ فائل

امریکی حکام نے ڈرون حملوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر لوگوں کی جان لی، ایمنسٹی انٹرنیشنل فوٹو: اے ایف پی/ فائل

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈرون حملے ہماری خود مختاری کے خلاف اور پاک امریکا تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں، ڈرون حملوں میں عوام کا بہت نقصان ہوا ہے، یہ سلسلہ اب ختم ہوناچاہیے، امریکا ڈرون حملے بندکرانے کی ٹھوس یقین دہانی کرائے، امریکا سے مدد مانگنے نہیں آئے، برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، امریکا پاکستان کے تحفظات سمجھے، عزت کرائے اور ہماری بھی کرے۔ منگل کو امریکا میں ادارہ امن میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ ایک نیا اور پر اعتماد پاکستان تشکیل دے رہے ہیں۔ عوام کی جمہوری حکومت سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

وزیراعظم نے اپنی تقریرکے ذریعہ بلاشبہ ایک تیر سے دو شکار کیے ۔ ایک تو انھوں نے ڈرون حملوں کی بندش کے لیے دوٹوک انداز میں امریکا کو بلیغ عالمی پیغام دیا ہے کہ ڈرون حملے پاک امریکا تعلقات کی راہ میں بلڈوزر اور تارپیڈو کا کام کر رہے ہیں،دوسرے اوباما انتظامیہ کے ضمیر پر اس بات کو چھوڑا ہے کہ وہ کب پاکستان کو ڈرون حملوں سے آزاد و خود مختار ملک تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی استدعا یا مطالبہ پر غور کرتے ہیں، تاہم وزیراعظم کے خطاب  نے پاکستان اور اس کے18 کروڑ عوام کے خوابوں اورامنگوں کی بھرپور ترجمانی کی اورامریکی انتظامیہ اور وہاں کے جنگ سے بیزار عوام اور پاکستانی کمیونٹی کو سنجیدہ معروضی قومی امور و مسائل کے حوالے سے پاکستانی ریاست کو درپیش گراں بار اور چیلنجنگ مسائل سے آگاہ کیا  اور ساتھ ساتھ احسن طریقے سے ڈرون حملوں کی تباہ کاریوں اور خطے میں دہشت گردی کی جنگ پر اس کے مہلک اثرات و درد ناک انسانی نتائج کا کیس کمال بردباری سے پیش کیا۔ان کے استدلال پر امریکی میڈیا،ان کے تھنک ٹینکس کو سوچ کے نئے در کھولنے چاہییں۔وزیراعظم کا یہ استدلال ناقابل تردید ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز کبھی نہیں رہا۔

پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور پاکستان میں دہشت گردی میں 40 ہزار لوگ مارے گئے۔ ادھر ڈرون حملوں پر عالمی تشویش کا یہ عالم ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں ڈرون حملے تشویش ناک اور جنگی جرائم یا ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آتے ہیں‘ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہی‘ پاکستان میں ڈرون حملوں میں400 سے 900 شہری ہلاک ہوئے‘ امریکا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 2004 سے اب تک 400 سے زائد ڈرون حملے کر چکا ہے جن میں بچوں اور معمر افراد سمیت کئی بے گناہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والے نئے ثبوت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکا نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر شہریوں کو ہلاک کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی ڈرون حملوں پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ایمنسٹی رپورٹ ان کے موقف کی تائید ہے۔وقت آگیا ہے کہ حکومت ڈرون حملے رکوانے کا وعدہ پورا کرے۔

وعدہ کا مرحلہ ابھی آئے گا، لیکن جس فورم پر وزیراعظم نے ڈرون حملوں کے نقصانات گنوائے ہیں اور جس دلیری کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا ہے وہ ان قوتوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جنھوں نے ڈرون حملوںکی خاموش اور درپردہ اجازت دے کر وطن کی خود مختاری پر آنچ آنے دی۔ ایک بنیادی حقیقت تو یہ ہے کہ ڈرون حملے امریکی استعمار کی تزویراتی عیاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آجکل جدید عسکری اسٹرٹیجی کے تحت امریکا بعض غیر ملکی جنگی اہداف پر بوجوہ زمینی حملے نہیں کرتا ، گویا اسے امریکی اسلحہ کے پندارِ محبت کا ایساخبط ہے کہ اس کے فضائی ڈرون حملے ہی کافی ہیں ۔ وزیراعظم نے بہر حال ایک دلیرانہ موقف اختیار کیا ہے اور گیند امریکا کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔جب کہ امریکا نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ  ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں۔وائٹ ہائوس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔کارنی نے یہ عجیب منطق پیش کی کہ معصوم جانوں کو بچانے کے لیے ہی ڈرون حملوں کا آپشن استعمال کیا۔حالانکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوںسے القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں یا ان سے وابستہ کمانڈروں اور جنگجوئوں سے زیادہ ہلاکتیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غریب بچوں،خواتین اور معمر لوگوں کی ہوئی ہیں۔

معیشت کا الگ بیڑا غرق ہوا ہے اور املاک کی تباہی و خطے کی عدم ترقی اور دربدری سے جن انسانی مصائب نے جنم لیا ان کی داستان ہوشربا الگ ہے۔اپنے امریکا کے دورہ میں وزیراعظم نے پاک بھارت تعلقات کے حوالہ سے کہا ہمارا دوسرا اہم ہمسایہ ملک بھارت ہے اور من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کی خواہش امن کی مظہر ہے۔ پاکستان اور بھارت کو اسلحہ کی دوڑ میں وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ بھارتی حکمرانوں کو وزیراعظم کے اس بیان سے سبق لینا چاہیے ۔ قبل ازیں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں وزیراعظم نے انھیں درحقیقت اپنی حکومت کے آئندہ اقتصادی اور سماجی منصوبوںاور اہداف کی تفصیل سے آگاہ کیا اور اپیل کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد دیں۔ ورلڈ بینک کے صدرجم یانگ کیم نے وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات کی اور انھیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ یوں اس دورہ کے اثرات اور دور رس نتائج کے حوالے سے کیا کچھ ہونے والا ہے ،آئندہ چند ماہ اس ضمن میں اہم ہوں گے۔

بلاشبہ امریکا سے یہ استدعا کرنا کہ وہ ’’عزت کرے اور کرائے‘‘ در حقیقت امریکی استعمار کی نفرت انگیزعالمی پالیسیوں پر ایک سقراطی طنز ہے۔ پاک امریکا تعلقات سرد و گرم زمانے کے کئی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے موجودہ حکومت کی دہلیز تک آپہنچے ہیں ۔ وزیراعظم نے امریکی ڈرون پر کھل کر بات کی ہے۔ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔