آغا شورش کاشمیری ؒ‘ 1917‘ 1975ء

آغا مشہود  بدھ 23 اکتوبر 2013

والدِ محترم آغا شورش کاشمیری ؒکے بارے میں لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ انھیں ہم سے جُدا ہوئے 38 برس ہو گئے ہیں۔ میں اُس وقت ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور والدِ محترم کی خطابت کے بارے میں بہت کچھ سُن رکھا تھا لیکن اُنہیں تقریر کرتے ہوئے سُنا اور نہ ہی دیکھا تھا۔ ہم چند دوستوں نے پروگرام بنایا اور نومبر یا دسمبر 1973ء بروز اتوار موچی دروازے باغ کی طرف چل پڑے جہاں والد صاحب نے سید مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ اور نواب زادہ نصراللہ کی ہمراہی میں خطاب کرنا تھا۔ وہ جلسے کے آخری مقرر ہوا کرتے تھے، وہ رات ساڑھے گیارہ بجے تقریر کے لیے اُٹھے، عوام کا جمِ غفیر جلسہ گاہ میں اُمڈ آیا۔ موچی دروازے کے باہر بھی لاؤڈ اسپیکر لگائے گئے تھے۔ جلسے کی غرض و غایت تو مجھے معلوم نہیں لیکن والد ِ محترم کے کچھ الفاظ آج بھی میرے حافظے میں گونج رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی مخصوص بارُعب آواز میں کہا لوگو !

’’سچ بولنا بڑا خطرناک ہے، سچ سے زیادہ کوئی شے کڑوی نہیں۔ سچ کے لیے ہمیشہ دو کی ضرور ت ہوتی ہے ، ایک وہ جو سچ بولے اور دوسرا وہ جو سچ سُنے، یہاں سچ بولنے والے کم اور سننے والے کمیاب بلکہ نایاب ہیں۔ حضرات اکثر سچائیاں صرف اس لیے ناکام ہو گئیں کہ ان کے پاس طاقت نہ تھی اور بیشتر جھوٹ اس لیے سچ ہو گئے کہ انھیں طاقت نے پروان چڑھایا‘‘ –

پھر کہا کہ لوگو!

’’آج کل سچائی قوت کی مرضی اور حق طاقت کی خواہش کا نام ہو گیا ہے‘‘

آج اس واقعہ کو تقریبا چالیس سال گزر چکے ہیں مگر حضرت شورش کاشمیریؒ کے یہ الفاظ آج بھی حقیقت نظر آتے ہیں۔ یہاں مجھے اُنہی کے چند اشعار یاد آ رہے ہیں- ؎

زیادہ دن نہیں ہوئے یہاں کچھ لوگ رہتے تھے

جو دل محسوس کرتا تھا علی الا علان کہتے تھے

گریباں چاک دیوانوں میں ہوتا تھا شمار اُن کا

قضا سے کھیلتے تھے وقت کے الزام سہتے تھے

بڑے لوگ بنائے نہیں جاتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور انھیں مخصوص وقت پر ایک خاص کام کے لیے لایا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے والد محترم کو آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی غلامی اور عقیدہ ختم نبوت کی پاسداری کے لیے پیدا کیا گیا بقول شورش کاشمیری ؎

جان وقف کر چکاہوں محمد کے نام پہ

یہ ہے دلیلِ خاص میرے افتخار کی

نبی اکرم ﷺ سے اُن کی عقیدت ، محبت اور عشق کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ اس حوالے سے یہ اشعار پیش خدمت ہیں۔ ؎

جوتمہارے جی میں آئے جانِ جاں بے شک کرو

ہم کسی ڈر سے سپرانداز ہوں ممکن نہیں

موت سے لڑنا ہی ٹھہرا ہے تو نکلیں سربکف

ہم نوا و ہم خیال و ہمزبان و ہم نشیں

تخت یا تختے پر جب رکھی گئی اپنی نہاد

ہم کسی حجاج بن یوسف سے ڈرسکتے نہیں

پاؤں کی ٹھوکر پہ رکھتا ہوں جلال خسرواں

میرے آقا، میرے مولا رحمت اللعالمین

بلاشبہ وہ ان گنت خوبیوں کے مالک تھے۔ اللہ تعالی نے انھیں تحریر و تقریر میں جو مقام دے رکھا تھا وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ ان کی تحریر کا ایک انداز دیکھئے۔

’’انسانوں میں سب سے زیادہ قابل رحم اور مکروہ وہ لوگ ہیں جو جھوٹ کو سچ پر ترجیح دیتے ہیں اور انسانی کمزوریوں سے اپنی خواہشوں کو پروان چڑھاتے ہیں ‘‘

حضرت شورش کو زبان و بیاں میں اس قدر قدرت حاصل تھی کہ وہ لوگو ں کے دل و دماغ سے کھیلتے تھے۔ الفاظ ان کے نطق کو بوسہ دیتے۔ سب سے نمایاں پہلو جو ان کی شخصیت کو ممتاز کرتا ہوا نظر آتا ہے وہ ان کی بے خوفی اظہارہے۔ انگریز کا دور ہو یا انگریز نما ملکی حکمرانوں کا غرور و طنطنہ ان کی تحریر و تقریر میں خاک میں اُڑتا نظر آتا ہے۔ فرماتے ہیں ؎

جو دل محسوس کرتا ہے اگر تحریر ہو جائے

تو یہ نظمِ مرصّع زلف یا زنجیر ہو جائے

یہ لازم ہو گیا تو موت کو آواز دے لوں گا

قلم میرا وزیر و میر کی جاگیر ہو جائے

وہ کہا کرتے تھے! ؎

’’میرا قلم اُس شخص کو دیا جائے جو اس کو تیشہ کوہکن بنا سکے، مجھے وہ شخص کفن پہنائے جس کی غیرت نے کبھی کفن نہ پہنا ہو ‘‘

ان کی تحریر و تقریر دونوں میں بے پنا ہ سحر تھا اور یہ جادو اس وقت سرچڑھ کر بولتا ہے ، جب اُن کے مدمقابل حکمران طبقہ یا اس کے حواری ہوتے – شورش کاشمیری کے قلم سے نکلنے والا ہر جملہ اپنے اندر خطابت کا رنگ ،شعر کی حلاوت اور ادب کی گھلاوٹ لیے ہوئے ہے۔ ان کے ان اشعار میں ان کی تحریر میں تقریر کا مزہ دیکھیے۔ ؎

کچھ حقائق، کچھ معارف، کچھ لطائف، کچھ نکات

اس طرح بکھرے پڑے ہیں جیسے تارو ں کی بارات

ان میں کوئی زمزمہ ہے اور کوئی فریاد ہے

ہاں! ان ہی الفاظ میں شورش کی روئیداد ہے

مزید لکھتے ہیں!

’’میرے نزدیک وہ تمام ادیب، شاعر صحافی، واعظ، مقرر اور خطیب ہیچ ہیں جنھوں نے جوہر قلم اور جوہر زبان کو بازار کی جنس بنا دیا ہے اور جن کا خیال ہے کہ انھیں درباروں کی چوکھٹ پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں ان کا مقام صرف اور صرف عبرت ہے‘‘-

دین اور ملک سے ان کی والہانہ عشق کا اندازہ ان اشعار سے کیا جا سکتا ہے۔ ؎

میرے ہمراہی کریں گے اس قدر جانیں نثار

دل کے ٹکڑوں کو شہادت کی دُعا دینی پڑے

اس قدر کر جاؤں گا ماؤں کی محبت کو بلند

مغفرت کی ذرے ذرے کو دُعا دینی پڑے

میں اس حقیقت کا بھی برملا اعتراف کرتا ہوں کہ میرا قلم والدِ محترم جیسی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اُن کے سیاسی، صحافتی، ادبی، خطیبانہ اور شاعرانہ پہلوؤں پر لکھنا یا بولنا مشکل ترین کام ہے۔

میںاس وقت ایک ایسے رشتے کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتا ہو ں جس کی تشنگی اور کسک ہم بہن بھائی آج بھی پوری شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ ہے بطور والد اُن کا ہم سے رشتہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے انسانوں کے پاس اپنی اولاد کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے۔ ہم گیارہ بہن بھائی ہیں والد محترم کی صُحبت بہت کم میسر آئی، ان کی زندگی کا بیشتر حصہ پس دیوارزنداں گزرا۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں اپنا تخلص ’’شورش رکھوں یا جیل‘‘

ہم آج جہاں کہیں بھی ہیں اپنی والدہ محترمہ کی دعاؤں کی ہی بدولت ہیں – انھوں نے ہمیں والد ِ محترم کی وفات کے بعد اس طرح پالا جیسے کوئی مصّور اپنے شہپاروں کی رکھوالی کرتا ہے۔ والد ِصبح جلد ی اُٹھنے کے عادی تھے۔ گھر کے باہر لان میں وہ بیٹھتے، اخبارات کا مطالعہ کرتے، مجھے بھی صبح جلد ی اُٹھنے اور اخبار بینی کی عادت ان ہی سے ملی ہے۔ اخبارات کے مطالعہ میں نوائے وقت سرفہرست تھا، کشمیری سبز چائے ہمراہ کلچہ اور پھر محترم مجید نظامی سے ٹیلی فون پر حالات ِ حاضرہ پر تبادلہ خیال۔ ان سے والد کی دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جناب حمید نظامی کو ہم نے دیکھانھیں صرف والد ِ محترم سے سنا ہے کہ وہ حقیقتاً جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے میں رتی بھر نہیں چونکتے تھے، لیکن محترم مجید نظامی سے اُن کے اخلاص، دوستی، محبت اور احترام کو بہت قریب سے دیکھا۔ جناب مجید نظامی نے اُ س رشتے کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔