نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت

ایڈیٹوریل  پير 18 نومبر 2019
نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت

نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی رسہ کشی کے کھیل کا بالآخر ڈراپ سین ہو گیا اور لاہور ہائیکورٹ نے ہفتے کو ہونے والی سماعت میں ملک واپسی کا حلف نامہ جمع کروانے پر میاں محمد نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے بغرض علاج بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے تفصیلی سماعت کے بعد حکومتی وکیل کی طرف سے 7 ارب روپے  کے انڈیمنٹی بانڈزجمع کرانے کی  شرط کو مستردکرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل )سے نکالنے کا بھی حکم جاری کردیا اور آیندہ سماعت جنوری 2020 ء کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ۔

عدالت نے قراردیا کہ جب ہائیکورٹ نے ضمانت دی ہے تو بانڈز کا کوئی جواز نہیں بنتا،نوازشریف 4 ہفتوں کے لیے باہرجا سکتے ہیں،علاج کے لیے مزید وقت درکار ہوا تودرخواست گزار دوبارہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ فریقین کے وکلاء میں عدالت میں جمع کرائے گئے مسودے پر اتفاق نہیں ہوسکا ۔میاں نواز شریف نے اپنی واپسی کے حوالے سے بیان حلفی عدالت میں جمع کرا دیا ہے لہٰذا وفاقی حکومت کی جانب سے بیرون ملک سفر کی مشروط اجازت کا میمورنڈم معطل کیا جاتا ہے۔

میاں محمد نواز شریف ایک عرصے سے مختلف بیماریوں کا مقابلہ کر رہے تھے، ڈاکٹرز ان کی صحت کی بحالی کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف رہے مگر ان کی بیماریاں اتنی پیچیدگی اختیار کر گئیں کہ ملک میں ان کا علاج مشکل دکھائی دینے لگا جس پر حکومت اور عدلیہ سے  بیرون ملک علاج کی غرض سے جانے کی وقتی مہلت طلب کی گئی اور یہ کہا گیا کہ میاں محمد نواز شریف صحت یاب ہونے کے بعد فوری ملک واپس آ کر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ جس پر وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ 7ارب روپے کا شور ٹی بانڈ جمع کرا کر بیرون ملک جا سکتے ہیں‘ جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ، وزارت داخلہ کے میمورنڈم کے مطابق نواز شریف یا شہباز شریف کی جانب سے فوری طور پر8ملین برطانوی پاؤنڈ‘ 25ملین امریکی ڈالر یا اس کے برابر پاکستانی رقم مالیت کے بانڈ جمع کرانا ہوں گے۔

مسلم لیگ ن نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے مشروط حکومتی فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ ن کے صدر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ۔ ہفتے کو لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف کو  بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا کہ میاں محمد نواز شریف طبی بنیادوں پر چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں جب ڈاکٹر ان کی تندرستی کی تصدیق کریں گے تو وہ واپس آئیں گے‘ وفاقی حکومت اپنے سفارت خانے کے ذریعے نواز شریف کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے گی۔

وفاقی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلے پراپنے ردعمل میںکہا کہ حکومتی موقف کو عدالت نے ابھی رد نہیں کیا، نیب قانون میں واضح ہے کہ سزا کو معطل اور ضمانت نہیں دی جا سکتی، نواز شریف سزایافتہ ہیں، ان پر7 ارب جرمانہ ہوا، سابق وزیراعظم کی سزا اورجرمانے کا فیصلہ برقرارہے،فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ کابینہ کی صوابدید پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق شریف خاندان نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلنے کی کارروائی مکمل ہونے پر ایئر ایمبولینس منگوانے کا انتظام کر لیا ہے۔خاندانی ذرایع کے مطابق ایئر ایمبولینس کو پہلے اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا تھا۔ اتوار کو پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ نواز شریف کو لے جانے کے لیے ایئر ایمبولینس منگل کی صبح پاکستان پہنچے گی۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے مگر بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ حکومت کو کسی ممکنہ مشکل اور الجھاؤ سے بچنے کے لیے سیاسی مفاہمت کا سہارا لینا پڑتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، دنیا بالخصوص پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ میاں محمد نواز شریف تین بار ملک کے وزیراعظم رہے، بلاشبہ وہ مقدمات میں گھرے ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ شدید بیمار ہیں‘ ایسی صورت میں بہتر یہی تھا کہ انھیں فوری طور پر بیرون ملک علاج کی اجازت دے دی جاتی۔ اب لاہور ہائیکورٹ نے انھیں بیرون ملک جانے کی غیرمشروط اجازت دے کر درست فیصلہ کیا ہے اور حکومت کا بھی اس فیصلے کو تسلیم کرنا سیاسی طور پر خوش آیند ثابت ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔