کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی

ایڈیٹوریل  پير 18 نومبر 2019
کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی

کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی

پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا خصوصاً دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں تاریخ ساز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ مارکیٹ میں کوئی سبزی ایسی نہیں جو 80,70روپے فی کلو گرام سے کم ہو۔آلو جیسی عام اور سستی سبزی کی قیمت 50روپے سے لے کر 80روپے فی کلو گرام تک ہے۔ ٹماٹر 250سے300کلو گرام تک بک رہا ہے۔

اسی طرح دیگر موسمی سبزیاں جن کی قیمت 10یا 20روپے فی کلو گرام ہوا کرتی تھی آج ان کی قیمت 70روپے پاؤ تک پہنچ چکی ہے۔دالوں کی قیمتیں بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ آٹے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ دسمبر جنوری میں آٹے کی قیمت مزید بڑھ جائے گی۔ ادویات ‘کپڑے‘ جوتوں کی مہنگائی الگ بات ہے لیکن جب کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو اس کا اثر براہ راست غریب طبقے پر پڑتا ہے۔ حکومت کو بھی اس مہنگائی کا علم ہے اور وہ مختلف اقدامات کا اعلان بھی کرتی ہے لیکن مارکیٹ کی سطح پر اس کے اثرات کہیں بھی نظر نہیں آ رہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔

یہاں بہترین نہری نظام بھی موجود ہے ‘اس کے باوجود سبزیوں اور آٹے کی مہنگائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری زراعت زوال کا شکار ہے۔ کسان کی فی ایکڑ پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ جب اپنی فصل شہر میں منڈی کے لیے لاتا ہے تو اس پر بھی اس پر بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔ منڈیوں میں آڑھتی کسان کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اسے لوٹتے ہیں۔

اس وجہ سے چھوٹے کسانوں نے سبزیوں کی کاشت کم کر دی‘ حکومت کی کوئی زرعی پالیسی نہیں ہے ‘چند ایک فصلوں کی قیمت خرید بڑھا کر سمجھا جاتا ہے کہ زراعت کی خدمت کی گئی ہے لیکن اصل ضرورت کسان کو بیج‘ کھاد‘پانی اور بجلی سستی کرنی چاہیے اس کے علاوہ اسے مڈل مین سے بچانا بھی ضروری ہے۔حکومت خطوط پر کام کرے تو زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور سبزیاں سستی ہو جائیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔