سیاست اور علما کا کردار

نصیب خان  پير 18 نومبر 2019
مولانا طارق جمیل اور  منظور مینگل معاملے پر سوشل میڈیا پر گستاخیوں کا سلسلہ افسوسناک ہے۔ (فوٹو: فائل)

مولانا طارق جمیل اور منظور مینگل معاملے پر سوشل میڈیا پر گستاخیوں کا سلسلہ افسوسناک ہے۔ (فوٹو: فائل)

سیاست ایسا کھیل ہے جس میں سب کچھ ممکن ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کی زندگی میں مختلف پیچ و خم نظر آئیں گے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسی کہانیوں کی شاہد رہی ہے۔ کوئی سیاسی رہنما اگر آج کرسی پر بیٹھا ہے، عالمی سفر پر ہے اور فائیو یا سیون اسٹار ہوٹلز میں رہ رہا ہے، پروٹوکول اور گارڈ آف آنر کے مزے لے رہا ہے، لیکن کل وہی رہنما جیل کی سلاخوں کے پیچھے پڑا ناقص سہولیات کی شکایت کررہا ہے، پھانسی کے پھندے پر جھول رہا ہے، جلاوطن ہے اور وطن آنے کو تڑپ رہا ہے، دن دیہاڑے قتل ہورہا ہے، یا اس سیاسی جماعت جس کےلیے اس نے ان گنت قربانیاں دیں تھیں، اسی نے نظریں پھیر لیں اور ایسا رویہ روا رکھ رہی ہے جیسا کبھی ایک دوسرے کو جانتے تک نہ تھے۔

یہاں میرے مخاطب روایتی سیاستدان نہیں، وہ مشہور علمائے کرام ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ جڑ کر پاکستانی سیاست میں ’’استعمال‘‘ ہورہے ہیں یا سیاسی جماعتیں ان کی شخصیت، نام اور مقام کو اپنے مقاصد کےلیے استعمال کررہی ہیں۔

علمائے کرام آج کل پاکستانی سیاست میں نئے انداز سے متعارف ہورہے ہیں، مثلاً جب وہ ایک سیاسی رہنما سے ملتے ہیں یا سیاسی جماعت کے کسی جلسے میں جاتے ہیں تو دوسری جماعت کے لوگوں کی طرف سے (خصوصاً سوشل میڈیا کے دور میں) گستاخانہ الفاظ کی بوچھاڑ ہوتی ہے، جبکہ پہلی سیاسی جماعت ان سے عقیدت و یکجہتی کا مظاہرہ کرکے ان کی گستاخی اور کردار کشی پر مگرمچھ کے آنسو بہاتی ہے۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں ہوتا بلکہ اس کے مقابلے میں حریف جماعت دوسری ایسی شخصیت کو لاتی ہے جو اس کے ہم پلہ ہو اور اسی انداز میں اس سے جواب دیا جاتا ہے۔ دل نہیں چاہتا کہ کسی کا نام لوں لیکن ضروری ہے۔ میرا اشارہ مولانا طارق جمیل کے تبصروں کے جواب میں مولانا منظور احمد مینگل کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے آزادی مارچ میں کی۔ جس کے بعد دونوں طرف سے سوشل میڈیا پر الزام تراشیوں اور گستاخیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل نکلا ہے۔

ایک طرف جب ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے نام پر مغربی میڈیا نے اسلام اور مسلمانوں کی کردار کشی شروع کر رکھی ہے۔ داڑھی، حجاب، مسجد اور برقعے کو دہشت کی علامت بنایا جارہا ہے اور اس کے اثرات ہمارے ملک میں بھی واضح نظر آرہےہیں۔ ایک طبقہ ایسا بھی میدان میں آچکا ہے جو کھلے عام ’’میرا جسم اور میری مرضی‘‘ کی بات کررہا ہے۔ دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے لوگ سود پر کاروبار کررہے ہیں لیکن دوسرے فرقے کے لوگ اگر انہیں مکمل کافر نہیں تو اپنے سے کم تر مسلمان نظر آتے ہیں۔ لوگ ایک ساتھ مکہ معظمہ سے حج کرکے آرہے ہیں لیکن یہاں آکر اپنی محلے کی مسجد پر لکھوایا ہوگا کہ فلاں فرقے کا داخلہ ممنوع ہے اور خود دوسرے فرقے کی مسجد میں نماز کو گناہ سمجھتے ہوں گے۔ پڑوسی کے بچے بھوکے سو رہے ہیں، پڑوسی دوا نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ لیکن زیارتوں پر ہزاروں کے نذرانے دیے جارہے ہیں۔ یہ اسلام انہیں کون سکھا رہا ہے؟

بحیثیت مسلمان ان سب باتوں پر دکھ ہوتا ہے، لیکن ان سب کا ذمے دار کون ہے؟ ان کو اسلام کی اصل تصویر کس نے دکھانی ہے؟ اس کا جواب آپ پر چھوڑ دیتا ہوں۔

علما کو پاکستان کی روایتی سیاست کی زیر و زبر کو سمجھنا ہوگا۔ یہاں تو ایسے لوگوں کا نام بھی کیش کرایا جارہا ہے جن کو یہاں کی خبر تک نہیں۔ مثلاً روزانہ طیب اردگان کے جعلی اسٹیکرز بن رہے ہیں، جن میں وہ کسی پارٹی کے سربراہ کی حمایت کررہا ہے اور اسے عالم اسلام کا سرمایہ قرار دے رہا اور لوگ ان جعلی اسٹیکرز پر یقین کرکے آگے پھیلا بھی رہے ہیں۔ آپ سیاست میں ضرور حصہ لیں، لیکن اپنے اصل مقصد اور مقام کو نہ بھولیں۔ لوگوں کی اصلاح اور دعوت کا کام جو آپ کے ذمے ہے، آپ وہ کتنا نباہ رہے ہیں؟ کیا وہ کردار جو آپ ادا کر رہے ہیں یا وہ لوگ جو آپ کی تعلیمات سے فیض یاب ہورہے ہیں (بقول آپ کے مرید ہیں) کو دیکھ کر ایک غیر مسلم مسلمان بننے کی تمنا کرے گا؟

ایک بڑا طبقہ آپ کا پیروکار ہے۔ معاشرے میں صرف آپ ہی ہو جن کو مقدس مقام حاصل ہے۔ لوگ بند آنکھوں سے آپ کی تقلید کررہے ہیں۔ مذہبی فرقوں میں بٹنے کی بات تو پرانی ہوئی، اب اپنے پیروکاروں کو سیاسی فرقوں میں بٹنے سے بچائیے۔

پاکستانی سیاست کی بے رحمی کا اندازہ آپ کو ہم سے بہتر ہے۔ جس نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا، لیاقت علی خان او بے نظیر بھٹو کے خون سے لیاقت باغ کو رنگین کیا، مشرف اور الطاف حسین کو کہاں سے کہاں پہنچایا؟ نواز شریف اور آصف زرداری کو کرسی سے اٹھا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ سیاست دان یہ سب کچھ سہہ لیتے ہیں اور بدلے میں کچھ حاصل بھی کرتے ہیں۔ بقول ان کے پینترے بدلنا سیاست یا جمہوریت کا حسن ہے، لیکن یہ چھوٹ سیاست دانوں کے لیے ہے، آپ کےلیے ہرگز نہیں۔ خدانخواستہ کل یہ سیاست آپ کے دامن پر مزید ایسے داغ لگا چھوڑے جن کا دھلنا ممکن نہ ہو اور آپ کے پیروکار بھی آپ سے منہ موڑ لیں، اس وقت آپ کےلیے یوٹرن لینا ناممکن ہوگا۔ اور رہی آخرت کی جواب دہی اس کا آپ کو ہم سے بہتر پتہ ہے۔ لہٰذا اس طالب علم کا مشوره ہے کسی کی سیاسی ساکھ بننے یا بچانے کا ذریعہ نہ بنیں، اپنے مقام کو پہچانیں اور ہوش کے ناخن لیں۔

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہ ایسے زخم لگاتی ہے جن کا مرہم نہیں ملتا۔ یہ ایسا جنگل ہے جہاں سے قسمت والے ہی اپنا دامن کانٹوں سے بچا کر گزر پاتے ہیں۔ ہوشیار باش۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔