عدلیہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے، وزیراعظم

ویب ڈیسک  پير 18 نومبر 2019
ادارے پاکستان کو مضبوط رکھنے کے لئے ایک پیج پر ہیں، وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو : فائل

ادارے پاکستان کو مضبوط رکھنے کے لئے ایک پیج پر ہیں، وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد / حویلیاں: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔

ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر پر ایک سرکس ہوا، ہماری کابینہ میں کچھ لوگوں کے دل کمزور ہیں، وہ گھبرا گئے تاہم میں نے کہا کہ یہ ایک مہینہ کنٹینر پر گزاردیں میں ان کی ساری باتیں مان جاؤں گا، ہم نے 126 دن دھرنے میں گزارے، میں جانتاہوں کہ کنٹینر اور دھرنا کیا ہوتا ہے، دھرنے کا کوئی مقصد یا نظریہ ہوتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک آدمی جو اپنے آپ کو مولانا کہتا ہے، ڈیزل کے ایک پرمٹ پر بکنے والا دین پر سیاست کررہا ہے، میں نے ان سے کیا انتقام لینا ہے، مجھے مولانا کی آخرت کی فکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر پر بیروزگار سیاستدان کھڑے تھے،  جتنا بڑا مجرم تھا کنٹینر پر کھڑا ہوکر اتنا شور مچارہا تھا تاہم میرا اللہ سے وعدہ ہے ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا جس نے پاکستان کو لوٹا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں برا وقت سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے ہے، بدعنوان ٹولے اور پاکستان کے مفادات الگ الگ ہیں تاہم میں مافیا کا مقابلہ کرنے کا اسپیشلسٹ ہوں، مجھے ہارنا بھی آتا ہے اور جیتنا بھی۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو لبرل نہیں بلکہ لبرلی کرپٹ ہیں جب کہ کابینہ کےزیادہ تر وزراء نواز شریف کو باہر بھجوانے کے حق میں نہیں تھے تاہم ہم عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف ان سے 7 ارب مانگے، ان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ یہ 7 ارب ٹپ میں دیدیں، نوازشریف کے بیٹے باہر بھاگے ہوئے ہیں جب کہ شہباز شریف کہتے ہیں میں ضمانت دوں گا، انہیں ہالی وڈ میں ہونا چاہیے، شہباز شریف پر کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں ان کی ضمانت کون دے گا، شہباز شریف کا بیٹا اور داماد دونوں باہر بھاگے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس اور آنے والے چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ ہمارے ملک کو انصاف دیکر آزاد کریں، ہمارے ملک کی تاریخ رہی ہے کہ طاقت ور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے ایک، طاقت ور فون کرکے فیصلے لکھواتے رہے ہیں، ملک کی تاریخ ہے کہ طاقت ور کو قانون ہاتھ نہیں لگا سکتا لہذا موجودہ اور آنے والے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ اس تاثر کو ٹھیک کریں، ہمارا قانون ایسا ہو کہ کمزور سے کمزور بھی طاقتور کے سامنے کھڑا ہو تو اسے یقین ہو کہ انصاف ملے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے رہنما پی ٹی آئی بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ای سی ایل کیس سمیت آئینی، قانونی اور سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ رول آف لاء سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا، این آر او مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جب کہ احتساب ہمیشہ پہلی ترجیح رہے گی، ادارے پاکستان کو مضبوط رکھنے کے لئے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ریاست کے لیے دیمک ہے، اداروں کی تعمیر نو اور مضبوطی کے بغیر کام نہیں چلے گا لہذا عوامی ریلیف کے لیے اس ماہ بڑے ایکشن سامنے آئیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔