وارث میر انڈر پاس : کم ظرفی کی انتہا!

علی احمد ڈھلوں  بدھ 20 نومبر 2019
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

کبھی کبھی آپ کا خبروں سے ’’بے خبر ‘‘ وقت گزارنے کا دل کرتا ہے اور اس ’’عظیم‘‘ مقصد کے پیچھے صرف ایک وجہ ہوتی ہے کہ ہنگامہ خیز دنیا سے کہیں دور جایا جائے جہاں کوئی پریشان کردینے والی خبروں سے واسطہ نہ پڑے۔

اس دوران جو خبریں مس ہو جاتی ہیں بطور صحافت کے ایک طالب علم کے وہ نقصان کے زمرے میں گنی جاتی ہیں،ایسی ہی ایک خبر نہ جانے کیسے نظروں سے اوجھل رہی کہ چند ماہ قبل لاہور میں وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے ’’کشمیر انڈر پاس‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ شاید یہ خبر ابھی تک چھپی رہتی کہ اگر نیو کیمپس انڈر پاس سے گزرتے ہوئے اچانک کشمیر انڈرپاس کے نئے بورڈ پر نہ پڑتی۔ یہ نام کیوں رکھا گیا، کیوں بدلا گیا؟ موجودہ حکومت کو اسی  نام کے ساتھ کیوں تکلیف ہوئی؟ یہ سب سوال ایک طرف مگر یہ ’’ٹرینڈ ‘‘سرا سر غلط روایت کو دعوت دیتا ہے۔

یہ بالکل اسی طرح غلط ہے جس طرح ہم نے منٹگمری کو ساہیوال،لائل پور کو فیصل آباد۔ للیانی کو مصطفی آباد، کرشن نگر کو اسلام پورہ، رام گلی کو رحمن گلی اوربھائی پھیرو کو رانا پھول نگر بنا دیا۔سب سے پہلے تو ہم یہ بات کرتے ہیں کہ آخر نام رکھے کیوں جاتے ہیں؟ اور اس کے پیچھے فلسفہ کیا ہوتا ہے؟ حقیقت میں کسی جگہ کا نام کسی شخصیت سے منسوب اس لیے کیا جاتا ہے کہ آنے والی نسلوں کو اس شخصیت سے روشناس کرایا جائے، مغرب ہی کی مثال لے لیں، وہ تعلقات یا مفادات پر سڑکوں کے نام نہیں رکھتے۔وہاںاتنی آسانی سے سڑکیں کسی کے نام سے منسوب نہیں ہوتیں۔وہاں کسی کے نام سڑک یا گلی کے منسوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی کی عظمت کو اپنی نسلوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔

اس کام کے لیے پوری چھان بین کی جاتی ہے۔اور اگر کہیں کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو لوگ کورٹ چلے جاتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔فرانس(پیرس) کی ایک گلی سلیم شہزاد کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ یہ اُس پاکستانی صحافی کے نام ہے جس نے خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر سچ لکھا اور زندہ جاوید ہوگیا۔شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا۔ سیسل چوہدری نے ساری زندگی پاکستان کے دفاع میں گزار دی۔ وہ 1965اور 1971 کی پاک بھارت جنگ میں سکوارڈن لیڈر رہے اور ستارہ جرأت پانے والوں میں بھی نمایاں رہے۔ دینا ایم مستری کو دیکھ لیں جن کی ساری زندگی مسلمان بچوں کو پڑھاتے گزر گئی۔

بپسی سدھوا نے پاکستان کے اُن پہلوؤں کو اُجاگر کیا جو براہ راست معاشرے کے ساتھ جڑے تھے۔ ان کے علاوہ دانش کنیریا، جمشید کیکوباد، جولیس سالک، رانا بھگوان داس، سلمان البرٹ، شبنم، رتھ فاؤ، سنیتا مارشل، مسٹر جیفری، ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک، لوئس جان پنٹو، دیپک پروانی، بینجمن سسٹرز، سردار رمیش سنگھ اروڑا سمیت بہت سی شخصیات ہیں جنھوں نے پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دیں لیکن ہم انھیں صرف اس لیے یا د نہیں کرتے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ بہرحال واپس وارث میر انڈر پاس کی طرف آتے ہیں ۔

دراصل 2013 میں لاہور کے ایک درجن سے زائد انڈرپاس اور سڑکیں ملک کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کے ناموں سے منسوب کی گئیں جن میں فیض احمد فیض، حبیب جالب، اشفاق احمد، جسٹس اے آر کارنیلیئس، استاددامن، چوہدری رحمت علی، خوشحال خان خٹک، لیاقت علی خان، چاکر اعظم رند، جسٹس اے آر کیانی اور پطرس بخاری وغیرہ شامل تھے۔ان میں سے بعض نام تو ایسے تھے جن کے بارے میں عام پنجابیوں کو ککھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہیں اور اپنے شعبے میں ان کی کیاخدمات اور کارہائے نمایاں ہیں کیونکہ ان کے بارے میں ہمارے تعلیمی نصاب میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔مثال کے طورپرایک انڈر پاس چاکراعظم کے نام نامی سے منسوب کیا گیا ہے۔

کتنے لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ چاکر اعظم کون تھا اور اس کا ہمارے خطے بالخصوص بلوچستان کی تاریخ سے کیا تعلق ہے؟چند سیاسی  کارکن تو شائد اس کی شخصیت اور جدوجہد بارے کچھ جانتے ہوں عام پنجابیوں کو اس بارے میں کچھ علم نہیں ہے اور یہ بھی کم ہی لوگوں کو علم ہوگا کہ اس بلوچ سردار کی قبر پنجاب میں ہے۔لیکن ان میں سے راتوں رات وارث میر انڈر پاس کا نام بدل دیا گیاجب کہ وجہ جاننے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی وجہ نہیں ملی۔ پروفیسر وارث میر ایک نامور دانشور، لکھاری، مصنف اور استاد تھے اور معروف صحافی حامد میر اور عامر میر کے والد تھے جن کی گرانقدر صحافتی خدمات کے اعتراف میں ریاست پاکستان نے انھیں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’ہلال پاکستان‘‘ سے نوازا تھا۔

پروفیسر وارث میر میرے اُستاد بھی تھے جنھوں نے جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں اپنی جراتمندانہ تحریروں کے ذریعے آواز حق بلند کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ہونے کے علاوہ وارث میر نے یہاں تقریبا 25 سال صحافت پڑھائی تھی۔ آپ نے سچائی کے لیے لکھو اور لوگوں کی آواز بن کر بولو کے مصداق ایک مشن کے ساتھ پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی۔ پروفیسر وارث میر کی تحریر کردہ کتابوں میں حریت فکر کے مجاہد، کیا عورت آدھی ہے، فوج کی سیاست، فلسفہ خوشامد اور پاکستان کی درباری سیاست و صحافت شامل ہیں۔

بہرکیف نام بدلنے کی سیاست کو ختم ہونا چاہیے، اور اگر کسی چیز کا نام بدلنا انتہائی ضروری بھی ہے تو اس کے لیے مناسب فورم تشکیل دیا جائے ۔وارث میر کا نام کسی تختی سے کھرچ بھی دیا جائے تو ان کی سوچ کو ذہنوں سے نہیں کھرچا جا سکتا، ہم وارث میر کی کتابوں اور مقالات کو دریا برد بھی کر دیں تو بھی ان کی سوچ زندہ رہے گی۔

لہٰذااعلیٰ ظرفی یہی ہے کہ مذکورہ انڈرپاس کا نام دوبارہ تبدیل کیا جائے اور اس تاثر کو زائل کیا جائے کہ تحریک انصاف کسی سے ذاتی بغض یا دشمنی رکھتی ہے، بلکہ سابقہ حکمرانوں کی اس روایت کوبھی توڑے کہ جو سیاستدان سرکاری منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں سجایا کرتے ہیں اس کی بھی مذمت ہونی چاہیے ، بلکہ میں تو کہوں گا کہ مراد سعید ٹنل کے نام سے جس ٹنل کا افتتاح کیا ہے اُسے کسی اور مقامی و تاریخی شخصیت سے منسوب کیا جائے تو اسے حکومت کا بڑا پن ہی تصور کیا جائے گا اور کم ظرفی کا زور بھی ٹوٹ جائے گا!!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔