تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013 اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

ویب ڈیسک  جمعرات 24 اکتوبر 2013
اس اہم آئینی درخواست پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے، درخواست کا متن   فوٹو: فائل

اس اہم آئینی درخواست پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے، درخواست کا متن فوٹو: فائل

اسلام آباد:  ہائی کورٹ میں تحفظ پاکستان آرڈیننس 2013 کو چیلنج کردیا گیا ہے۔

سابق ڈی آئی جی سلیم اللہ کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس ریاض احمد خان پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کی، درخواست میں آرڈیننس کے اجرا پر صدر ممنون حسین کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے ہائی کورٹ کے بعض اختیارات ختم کردیئے گئے، حبس بے جا میں رکھے جانے والے افراد کے بارے میں ہائی کورٹ کو پوچھنے کا حق چھین لیا گیا ہے اور اپنی شناخت ثابت نہ کرنے والے کی ضمانت بھی نہیں ہوسکے گی۔

درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس اہم آئینی درخواست پر سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ جسٹس ریاض احمد خان نے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کاسی کو بھجواتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو صدر مملکت کی جانب سے جاری کئے گئے آرڈیننس کے مطابق دہشت گردی کے ذریعے ملک کا امن خراب کرنے والے عناصر دشمن تصور کئے جائیں گے اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ملک کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے کے لئے نئی قانون سازی کی جائے گی، عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کے تمام اہل کاروں کی اولین ذمہ داری ہوگی جس کے لئے تمام قانونی اقدامات کئے جائیں گے جبکہ سستے انصاف کےلئے آرٹیکل 37 کے تحت خصوصی وفاقی عدالتیں قائم کی جائیں گی اور مخصوص سنگین جرائم کے لئے سزا میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔