بڑھک

ایس نئیر  جمعرات 24 اکتوبر 2013
s_nayyar55@yahoo.com

[email protected]

ایک رئیس آدمی، جس کا تعلق تیسری دنیا کی ایک پسماندہ ریاست کے استحصالی اور مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ سے تھا، ایک دن اپنے نوجوان بیٹے کو’’غربت‘‘ سے متعارف کرانے کی غرض سے ایک دیہی علاقے میںلے گیا۔ باپ بیٹے نے دوردراز کے غربت زدہ اور پسماندہ گاؤں میں ایک کسان کے گھر چوبیس گھنٹے گزارے۔ اگلی صبح واپس شہر جاتے ہوئے اپنی درآمد شدہ مہنگی ترین بلٹ پروف گاڑی کی پچھلی نشت پر ٹھنڈے ٹھار ماحول میں ریلیکس ہو کر باپ نے طمانیت سے بھرپور سانس لے کر امپورٹیڈ سگار کے کش لیتے ہوئے اپنے ولی عہد سے سوال کیا ’’تم نے میزبان خاندان کا طرز زندگی دیکھ کر اپنے اور ان کے درمیان کیا فرق محسوس کیا ‘‘ ؟ بیٹے نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں بلا تامل جواب دیا ’’مجھے بہت زیادہ فرق محسوس ہوا ڈیڈی۔ ہمارے پاس صرف ایک رکھوالی کا کتا ہے اور ان کے پاس نصف درجن ہیں، جو مخصوص غذا کے محتاج نہیں۔ جو مل جائے کھا لیتے ہیں۔

ہمارے پاس ایک طویل و عریض سوئمنگ پول ہے اور ان کے پاس میلوں لمبا دریا ہے، جسے نہ کیمیکلز کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اس کا پانی تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں رات میں ٹیوب لائیٹس اور فینسی لائیٹس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جب کہ ان کے پاس چاند کی ٹھنڈی روشنی اور لاکھوں ستارے ہیں۔ ہمیں پیٹ بھرنے کے لیے مہنگی خوراک خریدنے کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ وہ اپنی خوراک خود اگاتے ہیں۔ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے اونچی دیواریں اور سیکیورٹی گارڈز درکار ہوتے ہیں۔ جب کہ اسی کام کے لیے ان کے پاس بے شمار دوست موجود ہیں۔ ہمیں اپنا وقت گزارنے اور تفریح کرنے کے لیے ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، موبائل فونز، ہوم تھیٹر اور ڈی وی ڈیز کی ضرورت پڑتی ہے، جب کہ وہ اپنا وقت اپنی فیملی، اپنے دوستوں اور اپنے رشتے داروں کے ساتھ گزارتے ہیں۔‘‘ آخر میں نوجوان ولی عہد نے احساس محرومی سے بوجھل لہجے میں اپنے والد کی طرف بڑی تشکر آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’بہت بہت شکریہ ڈیڈی، عملی طور پر یہ دکھانے کے لیے کہ ہم کتنے ’’غریب‘‘ ہیں ان کے مقابلے میں؟ آج سے قبل مجھے اس بات کا کبھی احساس تک نہ ہوا تھا۔‘‘

بیٹے کا جواب سن کر باپ کے ہونٹوں سے جلتا ہوا سگار نکل کر اس کے قیمتی سوٹ کو داغ دار کر گیا۔ یہ حکایت چار یا پانچ عشرے قبل کی ہو گی، جس میں زیبِِ داستان کے لیے ٹیلی فون، ہوم تھیٹر، انٹرنیٹ اور ڈی وی ڈیزکے ذریعے رنگ بھر دیا گیا ہے۔ تا کہ یہ کہانی آج کی اور آج کے استحصالی ٹولے کی تیسری نسل کے کسی ولی عہد کا قصہ معلوم ہو سکے۔ لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ تیسری نسل کے ولی عہد اب زیادہ ہوشیار ہو چکے ہیں۔ جدید تعلیم نے انھیں عوام کا استحصال کرنے کے نئے نئے اور سائینٹفیک طریقے سکھا دیے ہیں، اور عوام کی تیسری نسل نہ اب دریاؤں کی مالک رہی، نہ چاندنی کی، نہ ستاروں کی، حتیٰ کہ اب وہ کتے بھی ان کے وفادار نہیں رہے، جنھیں جو مل جاتا تھا، کھا کر حق وفاداری ادا کر دیا کرتے تھے۔ عوام کی تیسری نسل کی حالت اب جانوروں سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ وہ اشرف المخلوقات کے درجے سے گر کر اخلاقی پستی کی اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں برے اور بھلے کی تمیز ہی ختم ہو جاتی ہے۔ مراعات یافتہ طبقے کی تیسری نسل نے ان سے وہ دریا چھین لیے ہیں، جن کے آگے سوئمنگ پولز شرماتے تھے۔ وہ کھیت کھلیان، وہ کھیل کے میدان، جہاں چٹکی ہوئی چاندنی میں گاؤں کے گھبرو کبڈی کھیلا کرتے تھے اب کیچڑ سے لت پت دکھائی دیتے ہیں۔

پچھلی کیچڑ سوکھنے سے قبل نیا سیلاب، نیا عذاب بن کر مسلط ہو جاتا ہے۔ پچھلے مویشیوں کی قسطیں ادا ہونے سے قبل ہی وہ مویشی کیچڑ پانی میں ڈبکیاں کھاتے نظر آتے ہیں۔ جو سخت جان ان سیلابی ریلوں کو جھیل جائیں انھیں کیچڑ میں کلبلاتے سانپ ڈس جاتے ہیں۔ شہروں میں کھیل کے میدان لینڈ مافیا کے لیے سونے کی کان بن چکے ہیں۔ تیسری نسل تجسس میں مبتلا ہو کر حیرت سے پوچھتی ہے کہ واقعی کبھی اس ملک میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی؟ کارخانوں کے پہییے بارہوں مہینے گھومتے تھے؟ روزگار کے وسائل واقعی اتنے تھے کہ جرائم صرف شوقیہ لوگوں اور نو دو لیتوں کی اولادوں کا شغل ہوا کرتا تھا؟ کنکریٹ کے جنگلوں نے بیس بیس منزلوں کے فلیٹوں کی شکل میں کیا واقعی شہروں کا گھراؤ نہیں کیا تھا؟ گاڑیاں کیا واقعی صرف پیٹرول اور ڈیزل پر ہی چلا کرتی تھیں؟ دریاؤں میں کیا واقعی کسی الٹھر مٹیار کی چال جیسی روانی اور سرمستی موجود ہوا کرتی تھی؟ جو کسی مٹیار کی طرح دلوں پر بجلی گراتی اور دریاؤں سے برقی رو پیدا کیا کرتی تھی؟ کیا بجلی کی فی یونٹ قیمت بجائے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ہم خود مقرر کیا کرتے تھے؟ اور یہ اتنی سستی بھی ہوتی تھی کہ اس کا چوری کیا جانا گناہ بے لذت کے زمرے میں شمار کیا جاتا تھا؟

جن کھیل کے میدانوں نے سمیع اللہ، اصلاح الدین، میانداد اور حنیف محمد جیسے لیجنڈ کھلاڑی پیدا کیے تھے کیا ان میدانوں پر لینڈ مافیا کے تعمیر کردہ چھوٹے چھوٹے گھروں میں اب واقعی ایسی نوجوان نسل پیدا ہو چکی ہے، جو استحصالی ٹولے کی تیسری نسل کی بڑھکوں پر ان کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہی اپنی عافیت محسوس کرتی ہے؟ جب یہ تیسری نسل کہتی ہے بلکہ بڑھک مارتی ہے کہ ’’شیر کا شکار کریں گے، پتنگ کاٹ دیں گے اور سونامی کے سیلاب سے عوام کو بچائیں گے تو عوام کی تیسری نسل کیا واقعی یہ سمجھتی ہے کہ ’’ایسا ہی ہوگا‘‘؟ اور اگر ایسا ہی ہو گا تو پھر ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ چوتھی نسل کا کیا ہو گا ؟ مظہر شاہ پنجابی فلموں کا ایک نامور ولن تھا۔ اس کے نام پر فلم بننے سے پہلے ہی تقسیم کار خرید لیا کرتے تھے۔ تیسری نسل نہیں، پہلی نسل اچھی طرح سے واقف ہے کہ مظہر شاہ اپنے معاوضے کے علاوہ، فی بڑھک الگ سے معاوضہ بھی وصول کیا کرتا تھا۔ لیکن محض بیس برس کے بعد مظہر شاہ اس راز سے اچھی طرح واقف ہو چکا تھا کہ ’’شہرت اور خالی خوبی بڑھک سے زیادہ بے وفا شے دنیا میں کوئی اور نہیں ہے‘‘۔ کسمپرسی کے عالم میں یہ اعتراف اس نے بارہا کیا۔ اور فقط دو عشروں میں وہ اس راز کو پا گیا تھا۔ لیکن ہماری تیسری نسل اس ’’بڑھک‘‘ کی حقیقت کب سمجھے گی؟ اگر میں کہوں کہ جلد ہی سمجھ جائے گی تو شاید اس ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی ’’ بڑھک ‘‘ یہی کہلائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔