قرآن اور طبیعات (دوسرا حصہ)

سعد اللہ جان برق  بدھ 20 نومبر 2019
barq@email.com

[email protected]

چنانچہ اگر دینیات یا الہیات میں اس بارے میں کچھ ہے تو وہ بھی محض اتنا ہے جتنا انسان کے لیے ضروری ہے اور اس کے ظرف کے مطابق ہے۔ یہ سوال تو انسان کے لیے خارج ازبحث ہے کہ وہ اس ہستی کو مکمل طور پر جان سکتاہے پہچان کرسکتاہے اور اسے بیان کرسکتاہے چاہے وہ مذہبی راستے سے ہو یا طبیعاتی راستے سے ہو۔ہاں کوشش کر سکتا ہے اور اس کوشش میں انسان جیسا کہ ان اندھوں نے ہاتھی کوجانا تھا جنھوں نے ہاتھی کو الگ الگ ٹٹولا تھا وہ چاروں جو کہتے تھے وہ بھی سچ تھا کیونکہ وہ ہاتھی کے جس ’’عضو‘‘کو ٹٹولتے تھے وہ بھی ہاتھی تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ پورا ہاتھی نہیں تھا، ہاتھی ان کے ’’علم‘‘ کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔

یہ تو الہیات یا عقائد کی بحث ہوئی اب ہم دیکھتے ہیں کہ طبیعات کے لحاظ سے انسان کے پاس کتنی جانکاری ہے۔ طبیعات کے بارے میں پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ طبیعات ہیں کیا؟ کیونکہ ہمارے ہاں بہت سارے علوم اور چیزوں میں حقائق بہت کم لوگ جانتے ہیں اور اکثر لوگوں کی جانکاری سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہوتی ہے جنھیں اکثرلوگ اپنے اغراض ومقاصد کے لیے زیربحث لاکر ’’میدان گرمیاں‘‘  دکھاتے ہیں۔ طبیعات کے بارے میں ایک بنیادی بات تو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ بھی رب عظیم کے نظام کائنات کا ایک حصہ اور مظہرہے۔اسے سمجھنے کے لیے تھوڑی سی ثنویت پربھی بات کی جائے۔

اس پوری کائنات کی بنیاد ایک اٹل قانون اور اصول پررکھی گئی ہے اور چلائی بھی جارہی ہے اور وہ ہے ثنویت یا دوالیزم یا منفی مثبت جیسے چینی فلسفہ میں ین (yen) اور ینگ(yeng) کہا جاتا ہے اس نظام کائنات میں ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی جس کا جوڑا نہ ہو اور اگر وہ ’’مثبت‘‘ہے تو اس کا منفی یقیناً ہوگا اور اگر ’’منفی‘‘ہے تو اس کا مثبت بھی یقیناً ہوگا۔جیسے اچھا برا،خیر وشر،سیاہ وسفید، اندھیرا اجالہ، اوپر نیچے،نرومادہ،رات دن،حیات وممات۔ یعنی پورا نظام منفی مثبت کے ان دو پایوں پر پیدا بھی کیا گیا ہے اور چل بھی رہا ہے اور یہ بات طبیعات کی ہے لیکن قرآن نے پندرہ سو سال پہلے بتائی تھی اس لحاظ سے گویا طبیعات نے قرآن کی بات پرمہر تصدیق ثبت کی ہے۔

قرآن نے پندرہ سوسال پہلے کہا تھا’’پاک ہے وہ ذات جس نے سب کچھ(کلہا) کوجوڑوں(ازواج) میں پیدا کیا ہے۔نہ سورج چاند سے آگے نکل سکتاہے اور نہ دن سے رات آگے ہوسکتی ہے (سورہ یٰسین)۔اس آیت میں ایک ایک لفظ’’ازواج‘‘کا مطلب وہی جوڑے(منفی ومثبت)  ہیں لیکن ساتھ ہی لفظ ’’کلہا‘‘کہا ہے۔گویا خدانے جو کچھ خلق کیاہے وہ سب کچھ ازواج میں ہے۔اور ایسی کونسی چیز ہے جو اس نے پیدا نہیں کی ہے؟یا جوکچھ اس نے ’’خلق‘‘  کیا ہے وہ سب کے سب ازواج میں ہیں تو باقی کیا بچ جاتا ہے۔ساتھ قرآن کی بلاغت کا ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے الفاظ ، جملے اور مثالیں استعمال کرتاہے جو اس کے نزول کے زمانے والوں کے لیے بھی قابل فہم ہوتی ہیں اور بعد کے زمانوں کے لیے بھی۔

چنانچہ ازواج’’کلہا‘‘کہنے کے بعد اس زمانے کے انسان کے علم اور جانکاری کے مطابق تین مثالیں بھی دی ہیں۔نمبر ایک وہ جو زمین سے اگتی ہیں،نمبر دو جو تمہارے اندر ہیں اور نمبر تین جن کے بارے میں تم نہیں جانتے۔ سب کے سب جوڑوں میں ہے۔اور اس وقت کا انسان یا تو زمین سے اگنے والی چیزوں اور ان کے جوڑوں کے بارے میں جانتاتھا یا اپنے بارے میں باقی سب کچھ کو’’جن کے بارے میں تم نہیں جانتے‘‘کہہ دیا۔یہ ازواج کا سلسلہ صرف نرومادہ تک نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہرچیز اور ہر ذرے میں کارفرماہے جوڑوں سے پیدائش بھی ہوتی ہے اور جوڑوں سے آگے ارتقا بھی چل رہا۔

ہے ایسی کوئی پیدائش کوئی حرکت ممکن ہی نہیں جس میں منفی ومثبت دونوں کار فرما نہ ہوں۔چاہے وہ جمادات میں ہوں نباتات میں یا حیوانات میں۔یہاں تک کہ ایٹم میں تو پہلے ثابت ہوچکا ہے اس سے آگے کوارک وغیرہ میں بھی منفی ومثبت کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اور ان تمام ازواج کی بنیاد اور توانائی جو ایک دوسرے کا زوج ہیں چنانچہ کائنات میں کوئی بھی چیز یا تو ’’مادہ‘‘ہوگی اور یا انرجی یعنی توانائی۔مثال کے طور پر انسان کا جسم مادی ہے لیکن اس کے اندر’’جان‘‘یا روح یا آتما غیرمادی اور توانائی ہے، مادے کو تو انسان پانچ حواس سے معلوم کر سکتا ہے لیکن روح یا آتما یا توانائی کو سوائے علامات کے نہیں محسوس کرسکتا۔اور جب ان دونوں کا ملن ہوتاہے تو کوئی پیدائش کوئی حرکت اور کوئی ارتقا ہوگا ورنہ دونوں اکیلے اکیلے کچھ بھی نہیں ہیں۔

مثال کے طور پرانسان تب تک زندہ اور متحرک رہتاہے جب یہ دونوں ازواج ملے ہوئے ہوں جیسے ہی ایک ختم ہوتاہے دوسرا بھی بے حس وحرکت ہوجاتاہے روح توانائی یا جان اس مادی جسم کے بغیر کچھ نہیں اور جسم اس کے بغیر کچھ نہیں۔بجلی کی مثال بجلی کے اندر خود بھی منفی ومثبت ہوتے ہیں لیکن تاروں کھمبوں یا مشینوں کی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتی ہے، تار بھی مادہ ہیں بلب بھی مادہ ہیں اور مشین بھی مادہ ہیں بجلی اس کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتی اور وہ چیزیں بجلی کے بغیر بے جان ہیں دونوں ملیں گے تو کچھ ہوتاہے۔لیکن ایک اہم بات یہ بھی کہ ان دونوں کا ملاپ بھی ایک خاص طریقے سے ہوتاہے براہ راست اگرملیں گے تو فساد ہوگا۔

ایٹم کے اندر کا زوج بھی غیرمعروف اور غلط طریقے سے توڑا جاتاہے یا دونوں کو توڑ کرغلط طریقے پر ملایاجاتاہے تو دنیا دیکھ چکی ہے کہ پھر کیا فساد ہوتاہے ہیروشیما اور ناگاسا کا ایٹم۔ایٹم کے اندر کا زوج ٹوٹنے ہی کے شاہد ہیں۔چونکہ انسان بھی ان دونوں چیزوں کا زوج ہے اس لیے اس کے ’’نفس‘‘کے اندر بھی جسم اور روح یا مادے اور توانائی یا دماغ اور جسم کا زوج ہوتا ہے۔ چنانچہ انسان ان دونوں سے کام لیتے ہوئے الگ الگ راستوں پرچل نکلا ہے جنھیں ہم مذہب یا طبیعات یا عقیدے اور عقل کی زوج کہہ سکتے ہیں۔ منزل دونوں کی ایک ہے عقیدہ روح اور روحانی راستے کا علمبردار ہے اور طبیعات مادی اور جسمانی یعنی عقل کے راستے سے محوسفر ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں ان میں کسی کوبھی رد نہیں کیاجاسکتا ہے سادہ اور عام لہجے میں کہاجائے تو مذہب اس کا قول تو طبیعات فعل ہے۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔