وزیراعلی کا حکم؛ ٹارگٹ کلر یوسف کو گرفتار کرنیوالے دو پولیس افسران معطل

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 21 نومبر 2019
وزیراعلیٰ کے حکم پر اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ ایسٹ اور ایس ایچ او سولجر بازار کو معطل کیا گیا ہے (فوٹو: فائل)

وزیراعلیٰ کے حکم پر اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ ایسٹ اور ایس ایچ او سولجر بازار کو معطل کیا گیا ہے (فوٹو: فائل)

 کراچی: متحدہ لندن کے ٹارگٹ کلر یوسف ٹھیلے والا کو گرفتار کرنے والے دو پولیس افسران کو وزیر اعلیٰ سندھ کے حکم پر معطل کردیا گیا، ٹارگٹ کلر دوسال تک کہاں رہا؟َ یہ بات معمہ بن گئی، تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر کے معتمد خاص انچارج اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ ایسٹ اور ایس ایچ او سولجر بازار کو ایم کیو ایم لندن کے مبینہ ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والا کی گرفتاری مہنگی پڑھ گئی۔

گرفتار ملزم کے 2 سال قبل رینجرز کی حراست میں وزیر اعلیٰ سندھ سے متعلق ویڈیو بیان نے بھی ہلچل مچادی جس میں ملزم نے انکشاف کیا تھا کہ مراد علی شاہ مجھ سے ملنے آئے تھے۔ اب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے حکم پر ایس ایچ او سولجر بازار انسپکٹر جاوید سکندر اور ہیڈ کانسٹیبل عمران گجر کو معطل کر دیا گیا ہے تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ رینجرز کو گرفتاری پیش کیے جانے کے بعد یوسف عرف ٹھیلے والا 2 سال تک کہاں تھا؟ اور ایسٹ زون پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد یوسف ٹھیلے والے کے جو کارنامے سامنے آئے ہیں کیا رینجرز حکام ان سے لاعلم تھے؟

یہ پڑھیں: متحدہ کا ٹارگٹ کلر یوسف ٹھیلے والا گرفتار، فاروق ستار سے رابطے کا انکشاف 

مبینہ ٹارگٹ کلر کی گرفتاری کے بعد ایس ایس پی ایسٹ غلام اظفر مہیسر کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا کہ یوسف ٹھیلے والا 2 سال قبل رینجرز کو گرفتاری پیش کر چکا ہے جبکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا دعویٰ ضرور کیا گیا تھا کہ ملزم سال 1996ء میں رینجرز کے ہاتھوں پہلی بار گرفتار ہوا اور اگلے سال 1997ء میں ضمانت پر رہا ہوگیا جبکہ ملزم یوسف ٹھیلے والا سال 1998ء میں دوبارہ مومن آباد پولیس کے ہاتھوں 2 افراد کے قتل اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار ہوا اور سال 2003ء میں پیرول پر رہائی کے بعد سے مفرور تھا۔

اس پریس کانفرنس میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ ایسٹ زون پولیس ملزم کی 1995ء میں ایم کیو ایم میں شمولیت کے بعد اس کے تمام کارناموں سے تو واقف ہوگئی لیکن حیرت انگیز طور پر انھیں اس بات کی خبر ہی نہیں ہوسکی کہ جس خطرناک ٹارگٹ کلر کے حوالے سے پریس کانفرنس کی جا رہی ہے وہ 2 سال قبل رینجرز کو گرفتاری پیش کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹارگٹ کلر کو نہ جانتا ہوں اور نہ ملاقات ہوئی، یہ میرے خلاف سازش ہے، وزیراعلیٰ سندھ

مبینہ ٹارگٹ کلر یوسف ٹھیلے والے نے گرفتاری کے دوران کیا پولیس سے یہ بات چھپائی تھی کہ وہ 2 سال تک کہاں تھا؟ یا پولیس نے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر مبینہ طور پر یہ بات چھپائی؟ تاہم صورتحال اب بھی یہی ہے کہ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ یوسف ٹھیلے والا رینجرز کو گرفتاری پیش کرنے کے بعد سے اب تک کہاں تھا؟

اس حوالے سے بھی اب تک رینجرز حکام کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ یوسف ٹھیلے والا گرفتاری پیش کرنے کے بعد سے کہاں تھا۔

ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

دریں اثنا کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے ملزم کا ویڈیو بیان ریکارڈ کرانے اور اسے وائرل کرنے میں پولیس کے کردار کا تعین کرنے کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کی سربراہی میں تحقیقاتی کیمٹی تشکیل دی ہے جس میں 3 ممبران ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نعمان صدیقی، ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ ٹو طارق نواز اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ ون عرفان زمان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

کمیٹی وزیر اعلیٰ پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرے گی کہ کس سازش کے تحت ویڈیو بنا کر جاری کی گئی اور تعین کیا جائے گا کہ ویڈیو بیان بنانے اور اسے وائرل کرنے کا مقصد کیا تھا۔

کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ ملزم کے خلاف کتنے مقدما ت ہیں، دو سال پہلے اسے گرفتاری کے بعد کیوں چھوڑا گیا؟ دو سال تک وہ کہاں رہا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔