پی ٹی سی ایل کے کاروباری ماڈل کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ

شہباز رانا  جمعـء 22 نومبر 2019
حفیظ شیخ کی زیر صدارت اجلاس،پی ٹی سی ایل کو فعال کمپنی بنانے کیلیے مختلف تجاویز پر غور
۔فوٹو: فائل

حفیظ شیخ کی زیر صدارت اجلاس،پی ٹی سی ایل کو فعال کمپنی بنانے کیلیے مختلف تجاویز پر غور ۔فوٹو: فائل

 اسلام آباد /  اسلام آباد: حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ کے کاروباری ماڈل کا دوبارہ جائزہ لینے اور کمپنی کے منارٹی شیئرزہولڈر اتصالات کے ذمے واجب الادا 80 کروڑ ڈالر وصول کرنے کیلیے بھی دوبارہ کوششیں کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

بین الوزارتی کمیٹی کا ایک اجلاس جمعرات کے روز ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کی۔ وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی، سیکریٹری فنانس، سیکریٹری نج کاری، سیریکٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن اور دیگر اعلی سرکاری افسران بھی اجلاس میں شریک تھے۔

وزارت خزانہ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں پی ٹی سی ایل کی نج کاری کے بقایاجات کا جائزہ لینے کے علاوہ تکنیکی خدمات کی فراہمی کے معاہدے، یوفون کے اسپیکٹرم فریکوئنسی لائسنس کی تجدید اور پی ٹی سی ایل اور اس کے ذیلی اداروں کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے معاملات پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں شریک ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ اجلاس میں پی ٹی سی ایل کو ایک فعال کمپنی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا تاکہ کمپنی کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے جبکہ پی ٹی سی ایل کے ذیلی ادارے یوفون کو یا تو پی ٹی سی ایل یا پھر کسی دیگر ٹیلی کام ادارے کے ساتھ ضم کرنے کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔