وٹامن بی12، بی پی، شوگر، نیند نہ آنا الزائمر کی علامات ہیں، ماہرین طب

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 23 نومبر 2019
ابتدائی علامات میں یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے، ورکشاپ سے خطاب

ابتدائی علامات میں یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے، ورکشاپ سے خطاب

کراچی: نیورولوجی اوئیرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام زیر تربیت ماہرین اعصاب و دماغ کے لیے پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کے متعلق تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

تربیتی ورکشاپ سے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان سمیت دیگر ماہرین دماغ و اعصاب نے شہر بھر کے زیر تربیت ماہرین دماغ و اعصاب کو حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کے حوالے سے جدید تحقیقات اور علاج کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ماہرین دماغ و اعصاب پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر حیدر علی نقوی، ڈاکٹر صفیہ اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک دماغی اور زندگی کو کم کرنے والا مرض ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 10 لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس بیماری سے لاعلم ہے، اس کی ابتدائی علامات میں حافظہ کی کمزوری ، یادداشت کی کمی و روز مرہ سرگرمیوں کا بھول جانا شامل ہے، جب مرض بڑھتا ہے تو مریض کھانا کھانا، کپڑے پہننا اور گھر کے پتے سمیت اپنے بچوں اور قریبی عزیزواقارب تک کو بھولنا شروع ہو جاتا ہے، اس کی کیفیت چھوٹے بچے کی سی ہو جاتی ہے جسے کسی بات کا علم نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق الزائمر کی ابتدائی شکل ڈیمنشیا (نسیان) دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا مرض ہے جس کے مریضوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے لیکن ماہرین کے مطابق 2050 تک اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کی تاحال کوئی وجہ معلوم نہیں کی جاسکی، عموماً 60 سال کی عمر کے بعد دماغ کے خلئے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق حافظے، سوجھ بوجھ اور شخصیت سازی سے ہوتا ہے نتیجتاً انسان حساب کتاب اور سوچ بچار تک نہیں کرسکتا اور چیزوں کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔

ماہرین دماغ و ذہنی امراض کے مطابق الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا لیکن وٹامن بی 12 کی کمی، بلند فشار خون، شوگر، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے منفی اور مثبت صحت عادات دیر تک سونا اور جاگنا، چکنائی اور بھاری غذاؤں کا استعمال یاداشت کمزوری کی وجہ بنتی ہے، بے خوابی کی شکایت صبح اٹھ کر سر میں درد ہونا، دن بھر جسم بوجھل رہنا، سوتے میں سانس پھولنا، خراٹے لینا، قوت یاداشت کی کمزوری کی واضح علامات اور وجوہات ہوسکتی ہیں جو افراد نیند کی گولیاں اینٹی ڈپریشن اور سر درد کی گولیوں کا استعمال کرتے ہیں تو ان کو ذہنی کمزوری یا بھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے، مستقل افسردگی، مایوسی، تنہائی اورذہنی تناؤ کا شکار افراد کی قوت یاداشت جلد متاثر ہوتی ہے، مستقل بلڈ پریشر ہائی رہنے سے دماغ کی رگوں میں خون جم جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔