ٹارگٹڈ آپریشن کے باوجود بھتہ خوری اور بم حملے لمحہ فکریہ ہیں، تاجر رہنما

بزنس رپورٹر  ہفتہ 26 اکتوبر 2013
کراچی کے تاجروں اور مارکیٹوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو راست اقدامات پر مجبور ہوجائیں گے،تاجر۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی کے تاجروں اور مارکیٹوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو راست اقدامات پر مجبور ہوجائیں گے،تاجر۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی:  سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ نے کہا ہے کہ ایک بار پھر منظم سازش کے تحت کراچی کی معیشت کو تباہ کرنے کی خاطر تاجروں کو بھتے کی پرچیاں اور ان کے کاروبار پر بم حملے کیے جارہے ہیں،جو لمحہ فکریہ ہے۔

کراچی میں ٹارگٹڈ ایکشن کی دعویدار سندھ حکومت عوام کو بتا ئے کہ سیکڑوں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے باوجود کراچی سے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ کیوں نہیں ہورہا،کراچی کے تاجروں اور مارکیٹوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو کراچی سمیت سندھ بھرکی تاجر برادری راست اقدامات پر مجبور ہوجائے گی، یہ بات انھوں نے جمعہ کو اتحاد کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی،اجلاس سے اتحاد کے جنرل سیکریٹری اسماعیل لال پوریہ، وائس چیئرمین کاشف صابرانی، محمد ارشد، سلیم میمن، حسین قریشی، محمد یاسین یامین، مقصود اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر گزشتہ روز ٹمبر مارکیٹ میں ایک تاجر کے گودام پر ڈیوائس بم حملے اور اس کے نتیجے میں بچے کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی،اجلاس میں اولڈ سٹی ایریا میں دکانداروں کو ایک بار پھر بھتے کی پرچیاں ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، رہنماؤں نے کہا کہ 5ستمبر 2013 کو کراچی میں شروع ہونے والے ٹارگٹڈ ایکشن کے مثبت نتائج آنا شروع ہی ہوئے تھے کہ ایک بار پھر ملک اور بالخصوص کراچی کی معیشت کے دشمنوں نے کراچی کی تاجر برادری کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور دھمکیوںاورحملوں کے باعث شہربھر کے تاجروں میں شدید خوف اور غصہ پایا جارہا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ کراچی پولیس کے سربراہ اور دیگر امن و امان کی بحالی کے اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ اہلکاروں کے ساتھ ساتھ خود وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزرا کراچی میں ٹارگٹڈ ایکشن کامیاب ہونے کی نوید سناتے نہیں تھک رہے تو وہ آج عوام کو بتائیں کہ کراچی کی مارکیٹوں میں ہونے والے حملوں اور تاجروں کو بھتے کی پرچیاں دینے والے کون ہیں؟ اورکیا ان کو ان اعلیٰ اہلکاروں نے اس کی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔

انھوں نے کہا کہ اب کراچی کے تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور وہ میڈیا ٹرائل پر مشتمل اس نام نہاد ٹارگٹڈ آپریشن کی بجائے حقیقی ٹارگٹڈ آپریشن چاہتے ہیں اور جب تک صوبائی حکومت اور امن و امان کے قیام کے ذمے دار ادارے اس میں مخلص نہیں ہوں گے یہ ممکن نہیں ہوگا، انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف، وفاقی وزیر داخلہ اور چیف جسٹس سے کراچی میں گزشتہ چند روز میں رونما ہونے والے واقعات کا فوری نوٹس لینے اور حقیقی ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔