امریکا کا جاسوسی پروگرام دہشت گردی کیخلاف تعاون پر اثرانداز ہوسکتا ہے، یورپی یونین

اے ایف پی / خبر ایجنسیاں  ہفتہ 26 اکتوبر 2013
امریکا خفیہ معلومات کا ضابطہ بنائے،اس معاملے میں اسرائیل بھی ملوث ہوسکتا ہے۔  فوٹو: فائل

امریکا خفیہ معلومات کا ضابطہ بنائے،اس معاملے میں اسرائیل بھی ملوث ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

برسلز / واشنگٹن / پیرس: یورپی یونین کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ وہ جاسوسی کے معاملے پر امریکا سے ایک نیا معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ امریکا کے ساتھ اتحاد چلتا رہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر نہ ہو۔

یورپی یونین نے امریکی جاسوسی پروگرام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف جاری تعاون کو متاثر کر سکتا ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کے جاری 2 روزہ سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیلجیئم کے وزیر اعظم نے کہا کہ جاسوسی کے لیے متفقہ قوانین بنائے جائیں، انھوں نے کہا کہ یورپی یونین اور امریکا کا مقصد ایک ہونا چاہے اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ متحد ہوکرلڑی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی رازداری کی بھی عزت کی جائے، برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں شامل 28 ممالک نے متفقہ اعلامیہ میں کہا کہ جاسوسی کے معاملے پرامریکی بداعتمادی سے دہشتگردی کیخلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بداعتمادی پیدا ہونے سے خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے عمل میں تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے، یورپ امریکا سے اپنے تعلقات کی قدر کرتا ہے تاہم انٹیلی جنس سے متعلق حالیہ معاملات نے یورپی عوام میں گہرے خدشات پیدا کیے ہیں۔ جرمنی اور فرانس نے امریکا سے جاسوسی پر پابندی کے معاہدے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ یورپی رہنمائوں کے مطابق خفیہ معلومات دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اہمیت کی حامل ہے، اس سے قبل جرمن چانسلر مرکل نے کہا تھا کہ ان کا ملک اور فرانس چاہتے ہیں کہ امریکا اس سال کے آخر تک نگرانی کے متنازع پروگرام پر ان سے بات چیت کرے تاکہ یہ معاملہ حل ہوسکے۔ برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں مرکل نے کہا ’ایک مرتبہ بداعتمادی کا بیج بو دیا جائے تو انٹیلی جنس تعاون بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے معاملے میں ضابطہ بنائے۔ انھوں نے کہا ’فرانس اور جرمنی امریکا کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے تاکہ اس سال کے آخر تک تعاون اور وضاحت کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل بن سکے۔ فرانس کے مطابق جاسوسی کے عمل میں امریکا کے ساتھ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد بھی شامل ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اجلاس میں کہا کہ امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے سے یورپی ممالک کو بھی بہت فائدہ ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ امریکی خفیہ ایجنسی اور دیگر ممالک کی انٹیلی جنس کی مدد سے یورپی ممالک میں بہت سے دہشت گردی کے منصوبے بے نقاب ہوئے ہیں، اطالوی وزیراعظم انریکو لیٹا نے کہا کہ امریکا کے ساتھ آزاد تجارت پر بات چیت جاری رہے گی۔

برطانوی اخبارگارڈین کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کی طرف سے افشا کی جانیوالی دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی حکام نے 35 عالمی رہنماؤں کے فونز کی نگرانی کی۔ دوسری طرف امریکی صدر باراک اومابا کے ایک مشیر کے مطابق امریکی جاسوسی سے اتحادی ممالک کے ساتھ مسائل پیدا ہوئے ہیں، جاسوسی کے انکشاف کے بعد امریکا اور یورپی ممالک کے رشتے کو نقصان پہنچا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اسپین نے بھی جاسوسی کے معاملے پرامریکی سفیر کو طلب کرلیا ہے۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی عہدیداروں نے کچھ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو متنبہ کیا ہے کہ ایڈروڈ اسنوڈن کے پاس موجود معلومات میں واشنگٹن اوردیگربین الاقوامی خفیہ اداروں کے مابین تعاون کی تفصیلات بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔