عید الاضحی اور ہم؟

تسنیم پیرزادہ  ہفتہ 26 اکتوبر 2013

اس مرتبہ عید الاضحی پر لوگ قربانی کے لیے بکروں کی قیمت خرید پر جتنے پریشان تھے، عید قربان پر کیے گئے ایک اہم قومی تجزیے کو سن کر یقینا ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہوں گے؟۔میں نے جب ایک ٹی وی چینل پر یہ تجزیہ سنا تو سوچتی رہی کاش ہماری قوم میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ درد دل ہوتا یا سنت ابراہیمی کے احترام کا بھرم رکھتے ہوئے کم ازکم اتنا احساس تو ہوتا ۔ اسے یوں بے دریغ اپنی ہوس کا نشان نہ بناتے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے کاروبار سے اربوں روپے کا منافع کمایا جاتا ہے؟۔ جانوروں کی خریداری سے لے کر جانوروں کا چارہ بنانے والے افراد جانوروں کے چارے کی خریداری، جانور ذبح کرنے والے قصائی، کھالوں سے چمڑے کی صنعت کا کاروبار، جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والے ذرائع حتٰی کہ جانوروں کی قربانی کے فالتو اعضاء جو کچرے میں پھینک دیے جاتے ہیں، غریب غرباء انھیں اپنی بساط کے مطابق اپنے روزگار کا وسیلہ بناتے ہیںاس کے علاوہ ہر گھر میں عید کی خریداری پر ملکی کاروبار اور معیشت میں پیش رفت ہوتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کاروبار کی کثیر رقم آخر جاتی کہاں ہے؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بے بہا آمدن پر نہ تو حکومت کو ٹیکس ادا کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کاروبار کی آمدن اور خرید و فروخت کا کوئی ریکارڈ ہی موجود ہوتا ہے۔ یہ سب کاروبار کیش پر کیا جاتا ہے؟ ان میں سب سے منفی کردار ان آڑھتیوں اور بااختیار افراد کا ہے جو مویشیوں کا کاروبار کرنے والے افراد سے غیر قانونی اور غیر شرعی جبراً فی جانور بھتہ ٹیکس وصول کرتے ہیں؟ انھیں آج تک نہ کوئی قانون اپنی گرفت میں لے سکا ہے؟ اور نہ ہی حکومت نے اس مذہبی نقطہ نگاہ کے نیک پاک عمل پر کبھی قابو پانے کی کوشش کی ہے؟ غور طلب بات یہ ہے سنت ابراھیمی جس سے عالم اسلام کو ایثار اور قربانی کا درس ملتا ہے، اس عقیدے سے مستفید ہونے کی بجائے اس فریضہ سے حاصل کی جانے والی کثیر رقم اس پر تعینات افراد کی جیبوں میں چلی جاتی ہے؟ایک ایسا ملک جس کی حکومت امیر ملکوں سے امداد لے کر ان کے مفادات بجا لاتے ہوئے اپنی معیشت کو چلاتی ہو؟ اور دنیا بھر میں غریب ملک کہلاتی ہو؟ اس کے اندرون ملک ایک بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہو اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو جب کہ اس مقصد سے حاصل کی جانے والی رقم ملک کے معاشی حالات بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ہمارے ملک میں تعلیم کی اوسطاً شرح بہت کم ہے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ صحت اور بجلی جیسے بڑے ملکی بحرانوں پر ان وسائل سے باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں معروف صوفیوں کے مزاروں سے اسی طرح عقیدت مندوں کی لاتعداد نذر نیاز کا روپیہ اکٹھا ہوتا ہے، انھیں بھی ملکی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ ایران میں امام رضا کے روزے اور ملک بھر میں دیگر مذہبی اکابرین  کے روزوں سے حاصل کی گئی رقم کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر عقیدت مند دل کھول کر عطیات دیتے ہیں، خدا جانے یہ تمام رقم کہاں چلی جاتی ہے؟  ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف نے جانوروں کی منڈیوں سے فی جانور بھتہ ٹیکس وصول کرنے والے افراد کو نا اہل قرار دیا تھا۔

ایک اطلاع کے مطابق ان لوگوں نے دوبارہ اپنا اثرو رسوخ قائم کر لیا ہے۔ اس تجزیے کی ریسرچ پر کام کرنے والے صحافی اور افراد جنھوں نے بغیر خوف و خطر ملک کی بہتری کے لیے اس جدو جہد میں حصہ لے کر ناظرین کو اس خبر سے آگاہ کیا، مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جو قومیں اپنے مذہبی عقیدے سے مستفید نہیں ہوتیں، ان کا احترام نہیں کرتیں، ان کا انجام یہی ہوتا ہے جو آج ہماری قوم کا ہے۔ یورپ اور امریکا میں رہائش پذیر ہمارے دوست و احباب جب پاکستان آتے ہیں تو فخریہ کہتے ہیں کہ ہم بہت آرام ، سکون اور عیش کی زندگی گزار رہے ہیں؟ آپ پاکستان میں کیسے رہتے ہیں؟ حالانکہ انھیں ان ملکوں کے قواعد و ضوابط کے تحت زندگی گزارنی پڑتی ہے جو روزگار کمانے اور ہر ایک کام کو خود انجام دینے کے ساتھ آسان نہیں ہوتی؟۔ قارئین! اس صورت حال پر میں اپنے چند اشعار پیش کر رہی ہوں:

’’ندامت‘‘

(اپنے ان دوست و احباب کے نام جو یورپ اور امریکا میں بیٹھ کر اپنے ملک پر آنسو بہاتے ہیں)۔

ہم ہیں مقیم ایک برباد قوم کے

اور تم ہو فرد ایک خوشحال قوم کے

ہم کو نہیں ہے علم اور نہ کوئی شعور

تم معتبر ہو، باہنر، باعلم قوم کے

سب کچھ لٹا دیا ہے ہم نے اپنے ہاتھ سے

جاہل ہیں، بے ایمان ہیں نا اہل قوم کے

علم و شعور، تاریخ اور تہذیب کو اپنے

برباد کر کے فرد ہیں جاہل قوم کے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔