گائے بیل اور گھاس

سعد اللہ جان برق  بدھ 27 نومبر 2019
barq@email.com

[email protected]

ہمیں پتہ تھا، پتہ تھا ہمیں کہ ایک مرتبہ پھر ہمارے چاہنے والے اور نہ چاہنے والے دونوں ہمارے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جائیں کہ اتنا بڑا ہنگامہ اس ملک میں ہوا اتنا بڑا بیسٹ سیلر ڈرامااسٹیج ہوا اور اتنا ’’وہ وہ‘‘۔ اور ’’یہ یہ‘‘ ہوا اور ہم کانوں میں تیل، آنکھوں پر پردہ اور سمجھ پر پتھر ڈالے بیٹھے ہیں، کچھ لکھ رہے ہیں نہ کچھ بول رہے ہیں، نہ مول رہے ہیں نہ تول رہے ہیں اور ادھر ادھر کی ’’فضولیات‘‘ بگھار رہے ہیں۔

تو ہمارا اعتراف اقبال جرم اور تصدیق قصور یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا ہے۔ جو پہلے نہیں ہوا ہے یا ہوتا نہیں رہا ہے، اس باسی کڑھی کی تو خصوصیت یہی ہے کہ اس میں کبھی کبھی باسی عوامیہ کے لیے باسی اشرافیہ کوئی نہ کوئی ’’ابال‘‘ پیدا کرتی رہتی ہے وبال پیدا کرتی رہتی ہے اور نیا نیا حال پھیلاتی رہتی ہے بقول حمزہ شنواری

تا چہ نن حمزہ تہ پہ وعدے پسے وعدہ ورکڑہ

نو سہ نوے خبرہ دے پیدا کڑہ پہ زاڑہ کے؟

یعنی آج تم نے حمزہ کو وعدوں کے بعد ایک اور وعدہ دیا ہے تو کیا نئی بات پیدا کی تم نے پرانی بات میں؟۔ وہ کسی شخص نے ایک ’’حال مست‘‘ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تم یونہی فضول بیکار بیٹھے رہتے ہو۔ تو کچھ کام دھندہ کرو، آخر کب تک اپنی اس دگرگوں حالت میں مست رہو گے تو اس حال مست نے ’’مال مست‘‘ سے پوچھا کہ پھر کیا ہو جائے گا ، اس نے کہا کہ تم دولت کمالو گے مالدار بن جاو گے، پہلے امیر پھر کبیر اور پھر وزیر مشیر بن جاو ٔگے۔ حال مست نے پوچھا۔ پھر؟ پھر تم بڑے آدمی کہلاؤ گے نام ہو گا مقام ہو گا اور شہرہ ہو گا۔ حال مست نے کہا کہ ٹھیک ہے یہ سب کچھ ہو جاوں گا تو پھر؟۔ مال مست نے کہا پھر تم آرام سے رہو گے، کھاؤ، پیو گے اور عیش کرو گے۔

اس پر حال مست نے کہا۔ وہ تو میں اب بھی ہوں اور کر رہا ہوں تو اتنی بھاگ دوڑ کیوں کروں؟۔ بزرگوں نے کہا کہ اگر دنیا ساری بہار ہو جائے تو بھی بعض جانور ویسے ہی کوڑے کے ڈھیر پر لوٹیں لگائیں گے۔ اگر دنیا جل تھل ہو جائے تو بعض جانوروں کی قسمت میں چاٹنا ہی لکھا ہے۔ یہ تو ’’اشرافیہ‘‘ کی آپسی جنگ ہے، ڈاکوؤں کا مال غنیمت پر جھگڑا ہے اور ہڈی پر منہ ماری ہے اس میں پچاسی فیصد عوامیہ کے لیے کون سا ’’تاج‘‘ تیار ہو رہا ہے۔ باراتی تو ہمیشہ باراتی رہتے ہیں، دلہے نہیں بن جاتے، چاہے کتنا ہی ناچیں اچھلیں کودیں اور ہنگامے مچائیں۔ قطروں کی قسمت میں قطرے ہی آتے ہیں دریا نہیں۔ ہاں البتہ سراب جتنے چاہیں لا سکتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں، دکھا سکتے ہیں اور ان میں کشتی جہاز تک چلا سکتے ہیں۔

یہ کوئی کل پرسوں یا ستر سال کی بات نہیں ہے بلکہ ہزاروں سال سے مسلسل چلنے والا سوپ سیریل ہے۔ پہلے بادشاہ، شہنشاہ، جرنیل اور فاتح ہوتے تھے جو عوام یا عوامیہ نام کے اس بٹیر کو، اس مرغ کو دوسری اشرافیہ کے بٹیر سے لڑاتے تھے، نتیجے میں میدان یا انعام یا جیت اشرافیہ کی ہوتی اور عوامیہ کو صرف مبارک سلامت اور شاباشیاں بشرطیکہ اگر جنگ سے بچ جائے۔ تاریخ پر آج ابتدائے آفرینش تک نظر ڈالیے، ہر فتح پرنام، ہر انعام ، ہر فائدہ صرف اشرافیہ کو ہوتا ہے جن کے نام ہوتے ہیں سکندر، چنگیز، ہلاکو، تیمور، بابر، اکبر، اورنگزیب، شاجہان، ولید، عبدالملک، منصور، ہارون، مامون، شہزادہ فلاں اور شہزادی فلاں۔ اور اتنے مردے اتنے جلے اتنے ڈوبے صرف عوامیہ کے ہوتے ہیں۔

عوامیہ نام کی جس ’’گائے‘‘ کو یہ گوالے دوہتے ہیں، اس کے دوتھن تلوار والے اور دوتھن کتاب والے ہوتے ہیں اور جب سارا دودھ یہ لے جاتے ہیں تو گائے کا اپنا بچھڑا دوچار بوند پر زندہ رہتے ہوئے وقت سے پہلے چرنا شروع کر دیتا ہے، یہاں وہاں چر کر کوڑے کے ڈھیر پر، سوکھی گھاس پر اور پس خوردہ کھا کھا کر جب وہ ’’بیل‘‘ بن جاتا ہے تو اشرافیہ کے پاس ان کی گردنوں کے لیے کوئی نہ کوئی ’’جوا‘‘ ہوتا ہے اور ان کو کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ بیل گاڑیوں میں جوتا جاتا ہے اور اشرافیہ کے لیے کھیت میں ہل چلاتا ہے، میدان جنگ میں لڑتا ہے، دھرنوں جلسوں جلوسوں میں استعمال کیا جاتا ہے، ووٹ کے انڈے حاصل کیے جاتے ہیں۔

دور کیوں جایئے یہ جو اسلام آباد، دہلی ، کابل، لندن، دبئی،ریاض، واشنگٹن، ڈھاکا، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں اشرافیہ بیٹھی ہوئی ہے اس نے کبھی مٹھی بھر اناج پیدا کیا ہے؟ اس کا کوئی رکن کسی جنگ میں مرا ہے۔ سکندر نے بھی دنیا فتح کی تھی، دوسرے بہت سارے فاتحین حکمران اور اشراف وغیرہ گزرے ہیں ، کبھی ان میں کوئی کسی جنگ میں مرا ہے، کسی جلسے جلوس میں کام آیا ہے، کبھی مظاہرے میں شہید ہوا ہے، پاکستان بنتے وقت جو کام آئے جو اجڑے جو لٹے جن کی عصمتیں تار تار ہوئیں ان میں کوئی اشراف تھا۔

پھر ڈھاکا میں جو کھوپڑیوں کے مینار بنے اس میں کوئی اشراف کھوپڑی تھی؟ جب ہمیں پتہ ہے کہ یہ سارا تام جھام صرف کرسی یا تخت نام اور چہرے کی تبدیلی کے سوا کچھ نہیں ہے تو پھر یہ بات کیوں نہ یاد رکھوں۔ کہ مومن کو ایک ہی سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جا سکتا اور جو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں کیا وہ مومن ہیں یا ہو سکتے ہیں؟

اگر گاؤ آمد و خر رفت تو کیا فرق پڑا ، کچھ وعدوں کے اور کچھ اور وعدے ، کچھ سبز باغوں کے بعد اور سبز باغ ہمیں یاد ہے جب ہم گندم بوائی کرتے تھے اور بیل بہت تھک کر قدم اٹھانے کے قابل نہ رہتے تو کسان کسی ایک کو گھاس کا مٹھا دے کر بیلوں کے آگے کر دیتے وہ بیلوں کو وہ گھاس دکھاتا بلکہ بعض اوقات منہ کے قریب بھی  ہلاتا، بیل گھاس کی لالچ میں اس کے پیچھے چلتے، ہل چلتا لیکن گھاس کبھی ان کے منہ میں نہیں دی جاتی، ایک فاصلے پر ہلائی جاتی۔ اگر بیل گھاس کھا لیتے تو پھر کس لالچ میں چلتے؟ اور ہل کیسے کھینچتے، ہمارے اس کھیت میں بھی ستر سال سے یہی تو ہو رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔