27نومبر کو بلدیاتی انتخابات مشکل، سیاسی جماعتوں میں تذبذب

سید اشرف علی  بدھ 30 اکتوبر 2013
تکنیکی معاملات اور حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے الیکشن کمیشن کیلیے انعقاد چیلنج. فوٹو: فائل

تکنیکی معاملات اور حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے الیکشن کمیشن کیلیے انعقاد چیلنج. فوٹو: فائل

کراچی:  ذرائع نے بتایا کہ تیکنیکی مشکلات اور سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث اب 27نومبر کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کیلیے چیلنج بن گیا ہے۔

اس ضمن میں سیاسی جماعتیں بھی تذبذب کا شکار ہیں اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں کوئی گہماگہمی نظر نہیں آرہی ہے۔ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا اسلام آباد میں منگل کو ہونے والا اجلاس بلدیاتی حلقوں کی تشکیل نہ ہونے کے باعث بے نتیجہ ثابت ہوا جس پر قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق جیلانی نے سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام کو صحیح صورتحال بتانے کیلیے بدھ تک مہلت دی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات فوج کی نگرانی میں کرانے کیلیے درخواست کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ سندھ میں 27نومبر کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن کیلیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ مقناطیسی سیاہی اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہورہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری کا کام جاری ہے جبکہ ووٹرز کی رجسٹریشن بھی کی جارہی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وقع ہے کہ حد بندیاں 13نومبر تک مکمل ہوجائیں گی ۔

جس پر الیکشن کمشنر نے چیف سیکریٹری کو ہدایت جاری کی کہ کل (بدھ) تک فوری حتمی تاریخ بتائی جائے تاکہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کیلیے حتمی شیڈول جاری کرسکے۔ الیکشن کمیشن کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ سندھ میں انتخابی حلقہ بندیوں کا کام سست روی کا شکار ہے تاہم سندھ حکومت کی جانب سے غلط بیانیوں کے باعث الیکشن کمیشن کو مجبوراً 27نومبر تک بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کرنا پڑا، سندھ حکومت کی سست روی کے علاوہ پی سی آیس آئی آر اور پرنٹنگ پریس کارپوریشن نے بھی مقناطیسی سیاہی اور بیلٹ پیپرز کی بروقت فراہمی کی ابھی تک یقین دہانی نہیں کرائی ہیء چیف الیکشن کمشنر نے دونوں متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کو بھی آج(بدھ) کے اجلاس میں طلب کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔