بول کہ لب آزاد ہیں

جاوید قاضی  اتوار 8 دسمبر 2019
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

ہم سب ایک ہیں، ہماری ڈوریں آپس میں الجھی ہوئی ہیں اور یوں بھی ہے کہ سادگی سے نظر بھی آتی ہیں، بینائی سے نہ سہی حالات و سکنات سے ۔ ہم ان کو محسوس کر سکتے ہیں ،کچھ اس طرح کے جیسے پورا ہاتھی دکان میں گھس آیا ہو کہ، جیسے زلزلہ برپا ہوا اور ہم کہیں کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

سوئس بینک میں ایک اکائونٹ تھا جو بے نظیر بھٹو کے نام منسوب کیا گیا،اور نواز شریف نے سیف الرحمان کی معرفت اس کا اتا پتا ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ وہ اکائونٹ وہاں ہے مگر اس کا وارث کون ہے یہ پتہ اب تک نہ چل سکا ۔ اس میں سوئزر لینڈ کے قانون اور تقاضے (Banking practice) آڑے آ گئے ۔ ایسے نہ جانے ہزارؤں اکائونٹ ہوںگے، سوئزر لینڈ کی بینکوں میں جو تیسری دنیا یعنیٰ ہم جیسے ممالک کے لیڈران نے وہ چاہے سول ہوں یا عسکری انھوں نے وہاںکھولے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے لوٹی ہوئی دولت سے یہ امیر ملک مستفید ہو رہے ہیں۔ اور اس طرح یورپ کے اندر ایک لمبی بحث چھڑ گئی ہے ۔

پھر ان بینکنگ چینلز میں ایسا پیسہ بھی آنے لگا جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا تھا تو انھوں نے اپنے بینکنگ چینلز کے ذریعے آنے والی رقوم کا تفصیل سے جائزہ لینا شروع کیا۔کچھ سال قبل جب یونان کے اندر معاشی بحران آیا اور ان کے بیرونی قرضوں کا حجم بڑھ گیا اور افراط زر بڑھنے لگا، ان کی معیشت کو مندی کا سامنا ہو اور پھر سیاسی بحران بھی شروع ہوا۔ تو انھوں نے بھی سوئزرلینڈ کی حکومت سے کہا کہ ان کے ملک سے بہت سارا لوٹا ہوا پیسا ان کی بینکوں میں جمع ہے وہ انھیں واپس چاہیے۔ بہت تلخی کے بعد بل آخر سوئزر لینڈ نے یونا ن کے ساتھ کچھ تعاون کیا تھا۔

یہ پاناما سکینڈل کیا تھا۔ آف شور کمپنیاں کیا تھیں؟ یہ سب وہی آماج گاہیں تھیں جہاں سے تیسری دنیا کے سربراہاں اپنے ملک سے پیسا لوٹ کر پاناما میں لا فرم ’’موزیک فونزیکا ‘ ‘ کی مدد سے کمپنیاں کھلواتی تھیں اور اس طرح ان کمپنیوں کے نام پر ملین ڈالر جمع ہو جاتے تھے ۔ یہ کمپنیاں جن کا دھندا کچھ بھی نہیں تھا لیکن پیسوں سے مالا مال تھیں۔ اور ان کمپنیوں کے نام پر پیسے سوئس بینکوں میں جمع ہوتے تھے ۔ ان سوئس بینکوں کی ڈیوٹی تھی کہ وہ چھان بین کرے کہ آیا یہ کمپنی دو نمبر ہے یا واقعی بزنس کر تی ہے؟

یہ تو پاناما سکینڈل کے حوالے سے ہمیں پتہ چلا ، مگر ایسی سیکڑوں کمپنیاں پاکستان میں تھیں جن کا دھندا کوئی نہیں مگر پیسوں سے مالا مال تھیں ۔ ایسی کئی کمپنیاں ہیں جن میں آصف زرداری اور شریف برادران کا نام بھی آیا۔ چونکہ یہ سیاستدان ہیں ان کے نام آسانی سے لیے جا سکتے ہیں ۔ لیکن ان کمپنیوں کے اگر براہ راست مالک نہ سہی بلواسطہ ہی سہی ایسے افسر شاہی لوگ بھی ہوںگے جو اپنی سرکاری نوکری کی وجہ سے ان کمپنیوں میں حصہ نہ رکھ سکتے ہوں۔

اتنی تفصیل میں تو نہیں جایا جا سکتا مگر چند برس پہلے برطانیہ کی پارلیمینٹ نے سوچا کہ برطانیہ کی سر زمین کو اب ان غریب ممالک سے لوٹی ہوئی دولت کے لیے ان کی زمین کا ان بینکوں کو استعمال سے روکا جائے۔ یہ کام جو امریکا سے لے کر تمام امیر ملکوں نے کرنا تھا، اس میں برطانیہ نے یہ پہل کی اور قانون سازی کی۔ آجکل FATF فعال نظر آ رہی ہے، اس کا مقصد بھی اصولی طور پر یہی ہے۔ اب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ دبئی بھی ایسی ہی بڑی ایسی رقوم کے لیے آماجگاہ تھی ۔ اب FATF صرف بینکنک چینلز کی اس حد تک رسائی چاہتی ہے کہ ان بینکوں کے ذریعے وہ رقوم جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہوں ان تک پہیچ سکے۔ منی لانڈرنگ اب بھی ہو سکتی ہے مگر اب اتنی آسان نہیں۔

دنیا کی تاریخ میں پہلی بار برطانیہ نے اپنے جامد اصولوں کے مطابق یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب ان غریب ملکوں سے لوٹی ہوئی رقوم ان کو ہی واپس ہو اور یہ بھی حقیقت ہے برطانیہ کا وجود ہندوستان اور پاکستان کے سو سالہ ا ستحصال سے لوٹی ہوئی دولت کا موجد جیسا ہے۔ دیر آید درست آید۔ مگر بدنصیبی یہ ہے کہ ہماری موجودہ حکومت اور ایسے بہت سے ادارے ابھی تک اس حقیقت کی تشریح کرنے میں ناکام ہیں، جو برطانیہ نے کی ہے۔آج پاکستان اپنے بیانیہ کے حوالے سے ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے اور پوری دنیا اب ایک ذمے دار رویے کے ساتھ آگے آ رہی ہے ۔

مجھے لگتا ہے پاکستان کی اشرافیہ اب سمجھتی ہے کہ نقصان ان سب کا ہے جس طرح سے دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ یقیناً اب آپس میں ٹکرائو والی کیفیت سے نکل آئیں گے۔ لیکن اب اگر یہ بات یوں نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔ ؎

ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یونہی پذیرائی

جس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی

(فیضؔ)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔