16 برس بیت گئے، تیسر ٹاؤن کے مکین سہولتوں سے محروم

محمد فصیح الحق  منگل 10 دسمبر 2019
گیس، بجلی اور پانی فراہمی کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار

گیس، بجلی اور پانی فراہمی کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار

کراچی: مون سون کے موسم میں جیسے ہی سورج نے بادلوں سے جھانکا تو رقیہ بیگم نے بھی دیر نہ لگائی اور فوراً اپنی پسندیدہ جگہ یعنی گھر کے ساتھ لگے نیم کے درخت کے نیچے آکر کر بیٹھ گئیں جہاں محلے اور ہمسایے کی دیگر خواتین بھی موجود تھیں۔

رقیہ بیگم کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر گھٹن ہے، سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے، یہاں باہر کم از کم ہم سانس تو لے سکتے ہیں، گھر کا کام بھی کرسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے پریشانیوں اور غم کا ایک دوسرے سے اظہار کرلیتے ہیں۔

رقیہ کے گھر میں 11 افراد رہتے ہیں اور دیگر ہمسایوں کی طرح وہ بھی 80 اسکوائر فٹ کے ایک چھوٹے سے مکان میں مقیم ہے جو اسے تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کے ایک ویران حصے میں الاٹ کیا گیا تھا۔ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور آباد کاری کے لیے 3رہائشی اسکیمیں منظور کی گئی تھیں جن میں تیسر ٹاؤن اسکیم 45 بھی شامل ہے۔

اس معاملے کو اب 16برس گزرچکے ہیں مگر رقیہ بیگم اور اس جیسے دیگر ایک لاکھ 40ہزار کے قریب افراد جو لیاری ایکسپریس کی تعمیر کے دوران بے گھر ہوئے تھے انھیں اب تک مستقل ٹھکانہ دستیاب ہوسکا ہے اور لگتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے یہ لوگ گویا اپنا وجود ہی نہیں رکھتے اور حکومت اور انتظامیہ نے بھی انہیں جیسے بھلادیا ہے۔

شہر کے مرکز سے تیسر ٹاؤن تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے اور اس کے لیے گرد آلود سڑکوں، بنجر ٹیلوں، پرخار جھاڑیوں کے علاوہ صنعتی علاقے میں چلنے والے ٹریلرز کے ہارن کو سہتے اور سنتے ہوئے گزرنا پڑتا ہے اور جب آپ یہ سب کچھ برداشت کرنے کے بعد یہاں پہنچنے تو جو علاقہ آپ کو نظر آتا ہے وہ کسی بھی طرح سے ماڈل ٹاؤن شپ نہیں کہلایا جاسکتا حالانکہ جب لوگوں کو یہاں آباد کیا جارہا تھا تو لیاری ایکسپریس وے ری سٹیلمنٹ پروجیکٹ کے تحت اس کی بطور ایک ماڈل ٹاؤن تشہیر کی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم برائے پاکستان کے لیے کام کرنے والے انصار علی جو گزشتہ دس برسوں سے اس علاقے اور اس کے مکینوں کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر جو کچھ ہوسکتا ہے میں وہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں تاہم یہاں موجود مافیاز کو میرا بولنا پسند نہیں ہے اور مجھے ہمیشہ خطرات کا سامنا رہا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت میں انصار علی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تیسر ٹاؤن کے مکینوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے سیکڑوں قانونی دستاویزات، علاقے کے نقشہ جات، انتظامیہ کو لکھے گئے خطوط بطور ایک شہادت اور ثبوت کے موجود ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے کی جانے والی ان کی کوششوں کے ثبوت ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خود ان کی اہلیہ 2010 میں علاقے میں صحت کی سہولیات فوری طور پر دستیاب نہ ہونے کے باعث انتقال کرچکی ہیں۔ انصار علی کی اہلیہ کے انتقال کا معاملہ واحد واقعہ نہیں ہے، کسی بھی گلے میں آپ چلے جائیں تو آپ کو تقریبا ہر گھر میں ایسی ہی ہولناک اور درد انگیز کہانی سننے کو ملے گی کہ ان کا کوئی پیارا صحت کی سہولیات نہ ہونے باعث یا بروقت علاج نہ ملنے کے سبب چل بسا۔

اسی حوالے سے رقیہ بیگم نے بتایا کہ ان کی بہو حاملہ تھی اور اس کی کی طبعت بہت خراب تھی۔ وہ ایمبولنس کا انتظار زیادہ نہیں کرسکتی تھی اور نہ ہی ہم ہزاروں روپے ان ایمبولنس والوں کو دے سکتے تھے کیوںکہ ان کا مطالبہ یہی تھا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کس طرح میرے بیٹے نے موٹر سائیکل پر اپنی بیوی کو اسپتال پہنچایا تھا۔

علاقے میں ہی مقیم ایک عمر رسیدہ منورہ خاتون کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مجھے ایک آوارہ کتے نے کاٹ لیا تو میں اس وقت کہاں جاتی لہذاس انہوں نے بازار سے ہلدی پاؤڈر لے کر زخم پر لگایا۔

انصار علی کی جانب سے حاصل کردہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیسر ٹاؤن کے سیکٹر 50 اور 51 میں بجلی کی ترسیل کے کام کے لیے 2006 میں کام شروع کردیا گیا تھا اور پھر 2009 میں کے الیکٹرک کو پانچ کروڑ کا آخری چیک جاری کر دیا گیا تھا جو کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع بھی ہوچکا تھا تاکہ علاقے میں کام کو حتمی طور پر ختم کیا جا سکے۔

تاہم آج مزید تیرہ برس گزرجانے کے باوجود کام مکمل نہیں ہوسکا اور علاقہ مکین بجلی کے لیے غیر قانونی کنڈوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں اور جس کے لیے انہیں ادارے کے کرتا دھرتا افراد اور دیگر کو رشوت دینی پڑتی ہے۔

اس کے علاوہ گیس اور پانی کی فراہمی کی سہولیات بھی ان اسکیموں میں ناپید ہیں، حالانکہ پروجیکٹ کے آغاز کے موقع پر پانی کے لیے زیر زمین پائپ لائن بچھائی گئی تھی مگر ان لائنوں کو کبھی پانی نصیب نہ ہوسکا اور وہ پانی کی راہ تکتے تکتے بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔