لاشوں کو ٹکڑے کرنے کے مقدمات، متحدہ لندن کے 5 کارکنان بری

کورٹ رپورٹر  منگل 10 دسمبر 2019
رہا ہونے والوں میں نور الدیں عرف لال بال، محمد کامران عرف مکینک، یونس عرف لمبا، صلاح الدین اور آصف علی عرف مستری شامل ہیں (فوٹو: فائل)

رہا ہونے والوں میں نور الدیں عرف لال بال، محمد کامران عرف مکینک، یونس عرف لمبا، صلاح الدین اور آصف علی عرف مستری شامل ہیں (فوٹو: فائل)

 کراچی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شہریوں کو اغواء کے بعد قتل اور اعضاء کے ٹکڑے کرنے سے متعلق مقدمات میں متحدہ لندن کے 5 کارکنان کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شہریوں کو اغواء کے بعد قتل اور اعضاء کے ٹکڑے کرکے بے حرمتی کرنے سے متعلق مقدمات کا فیصلہ سنادیا جس میں پراسیکیوشن کو بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے متحدہ لندن کے 5 مبینہ ٹارگٹ کلرز کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا ان ملزمان میں نور الدیں عرف لال بال، محمد کامران عرف مکینک، یونس عرف لمبا، صلاح الدین اور آصف علی عرف مستری شامل ہیں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم نور الدین عرف لال بال کی جانب سے پولیس کو دئیے گئے اعترافی بیان کی کوئی قانونی حثیت نہیں، عدالت نے ساتھ ہی 4 مفرور ملزمان کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا ان میں سلیم شیخ، حیات، راجہ اور راشد جمیل شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے اورنگی ٹاؤن سے ہوٹل چلانے والے آزاد حسن کو اغواء کیا۔ ملزمان نے مقتول کو بے دردی سے قتل کیا اور لاش ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دی۔ ملزمان نے ایک شہری کو قتل کیا اس کے جسمانی اعضاء الگ کیے۔ مقتول کی لاش پلاسٹک بیگ میں ڈال کر کچرا کنڈی میں پھینک دی۔ ملزمان کے خلاف پاکستان بازار اور پیر آباد تھانے میں مقدمات درج تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔