جہاں گشت

عبداللطیف ابو شامل  جمعـء 13 دسمبر 2019

حنیف بھائی کو تو قرار آگیا تھا کہ جس ماہ وش کو دیکھا اسے بہ فضل خدا اپنا جیون ساتھی بنانے میں کام یاب ہوئے اور بہ آسانی، بس رب تعالٰی ہی ہے۔

جس کی چاہے اس کی دلی مراد کو آسودہ اور مجسّم فرمادے کہ وہی ہے جو دلوں کو پھیر سکتا ہے اور مشکلات کو آسانی میں بدل سکتا ہے کہ بس وہی ہے قادر مطلق۔ حنیف بھائی کی کتھا ادھوری رہ گئی لیکن خاطر جمع رکھیے کہ فقیر آپ کے گوش گزار کرے گا وہ بھی۔ لیکن اس وقت ایک اور نوجوان فقیر کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے، حنیف بھائی کو تو رب تعالٰی نے وجیہہ بنایا تھا جی! لیکن اس نوجوان کو آزمائش میں پیدا فرمایا کہ بس وہی ہے جو اپنے راز خود ہی جانتا ہے تو اس پر فقیر کی جسارت نہیں کہ کوئی کلام کرے کہ اسے سکھایا گیا ہے کہ کوئی چوں چرا نہیں بس تسلیم اور تسلیم جی! تو حمد ہے اسی رب کی جو سزاوارِ بندگی و اطاعت و توصیف و ثناء ہے۔

وہ نوجوان فقیر کو کہیں ملا تھا کیسا ہے وہ ۔۔۔۔ ؟ چلیے ملتے ہیں اس سے۔ ایسا ویسا نہیں جی، بے کار و بے مصرف تو بس فقیر ہے جی، احمق و ناداں، غبی و حیراں۔ اس نوجوان کو دیکھ کر تو ہمت رقص کرتی، گنگناتی، مُسکراتی ہے۔ حوصلہ اس پر نازاں ہے جی۔ اس نے ناامیدی کو پائے حقارت تلے روند ڈالا ہے۔ وہ رب تعالٰی کا بندۂ تسلیم و رضا ہے ناں، اسی لیے مایوسی سے اجنبی ہے۔ اس نے اتنی سی عمر میں زمانے کے سفّاک رویے دیکھے ہیں، عجیب سی نظروں کو سہا ہے، سرد گرم جھیلے ہیں، لیکن وہ سربلند رہا ہے، سرخ رُو رہنا وہ جانتا ہے۔

اس نے کسی باب رعایت کا انتخاب نہیں کیا، اپنی جواں مردی سے اپنے لیے راستہ بنایا ہے اور پھر اس پر حوصلے اور ثابت قدمی سے روانہ ہوا ہے اس راہ پر، لیکن آسانی سے نہیں۔ بے شمار مشکلات سے گزرا ہے وہ، لیکن کوئی اس کی راہ کھوٹی نہیں کرسکا۔ اس کی ہمت، پُرعزم چہرہ اور روشن آنکھیں صاف بتاتی ہیں کہ وہ ضرور اپنی منزل پر پہنچ کر دم لے گا۔ یہ ایاز خان ہے۔ بہ ظاہر معذور اور ناتواں نظر آنے والا یہ جوان، صرف جواں ہی نہیں، جواں ہمت اور عالی حوصلہ بھی ہے۔

اس نے معذوری کو روگ نہیں اپنی طاقت بنالیا ہے۔ اپنی دُھن میں مگن ایاز خان عزم و ہمت کی چلتی پھرتی مثال اور ہم سب کے لیے روشن مینار ہے۔ ایاز خان نے 1987 میں رئیس احمد کے گھر آنکھ کھولی۔ وہ سات بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پائوں مخالف سمت میں مُڑے ہوئے اور توانائی سے محروم ہیں۔ سنیے ناں اس کی کتھا اور اسی کی زبانی ۔۔۔ !

’’میں معذور پیدا ہوا ہوں، بس اﷲ تعالیٰ کی مصلحت ہے، وہ جو چاہے کرے، وہ بے نیاز ہے۔ میرے سارے بہن بھائی تن درست ہیں، میری پیدائش پر جہاں سب خوش ہوئے، وہیں انہیں اداسی و پریشانی نے بھی گھیر لیا۔ میری والدہ بتاتی ہیں یہ سب کچھ۔ میرے والد چھوٹا موٹا تعمیرات کا کام کرتے تھے، بہت پریشان ہوئے وہ، ظاہر ہے وہ اپنی اولاد کو اس حالت میں دیکھ کر افسردہ ہی ہوتے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو میں بھی پریشان ہوا، لیکن کیا ہوتا ہے پریشان ہونے سے ؟ مصیبت تو نہیں ٹل جاتی ناں۔ پھر میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب جو ہے سو ہے، میں اپنی اس معذوری کا مقابلہ کروں گا۔

لیکن اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنا مُشکل ہوگا جیون۔ سب گھر والے میرا بے حد خیال رکھتے تھے، لیکن اصل زندگی تو باہر کی ہے۔ جب انسان گھر سے باہر قدم رکھے تب معلوم ہوتا ہے کہ کتنا کٹھن ہے جیون۔ مرد بچہ ہوں باہر تو نکلنا تھا، زمانے کا سامنا تو کرنا ہی تھا۔

سو میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ سب بچے اسکول جاتے ہیں، میں نے بھی پڑھنے کا فیصلہ کیا اور پھر مجھے اسکول میں داخل کرادیا گیا۔ پہلے تو داخلہ ہی اتنی مشکل سے ملا کہ ہم اسے کیسے سنبھالیں گے، باقی بچے اس کی وجہ سے پریشان ہوں گے، یہ ہوگا وہ ہوگا۔ داخلہ تو مل گیا، لیکن مجھے وہ اسکول چھوڑنا پڑا۔ وجوہات وہی کہ سب پریشان ہوتے ہیں۔

پھر میں نے معلومات حاصل کرنا شروع کیں تو معلوم ہوا کہ قریب ہی الشفاء اسکول ہے، جس میں معذور بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ میں نے اس اسکول میں داخلہ لے لیا۔ بہت اچھے، بہت ملن سار اور مخلص لوگ تھے وہ۔ سارے اساتذہ بہت شفیق اور مددگار، ہر وقت بچوں کی تربیت اور مد د کے لیے تیار۔ میں معذور تو تھا، لیکن اﷲ تعالیٰ نے مجھے بہت اچھے ذہن سے نوازا ہے۔ کہتے ہیں ناں اور بالکل سچ کہتے ہیں کہ اگر اﷲ تعالیٰ کوئی کمی کرتا ہے، اور ظاہر ہے وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے، تو اس کمی کو دوسری اعلیٰ صلاحیت سے نوازتے ہوئے پورا کردیتا ہے۔

وہ رحیم و کریم ہے ناں۔ اس ربّ العالمین نے مجھے بہترین ذہن سے نوازا ہے۔ میری قوت مشاہدہ بہت اچھی ہے۔ میں بہت جلد سیکھتا ہوں، بس آپ مجھے شروع کرادیں، تھوڑا سا بتادیں، باقی اسے انتہاء پر میں خود پہنچا سکتا ہوں۔ یہ سب صلاحیتیں دیکھتے ہوئے الشفاء اسکول نے مجھے ابتداء ہی میں تیسری جماعت میں داخل کرلیا۔ 1997کا دور ہے جب میں نے باقاعدہ اسکول جانا شروع کیا۔

اسکول کے اساتذہ بہت محبت کرتے تھے مجھ سے۔ وہ تو سب کا خیال رکھتے تھے۔ آپ نے سنا ہے ناں! جس کا کوئی نہیں اس کا تو خدا ہے یارو! میں نہیں کہتا کتابوں میں لکھا ہے پیارو۔ سو فی صد صحیح بات ہے اور اب تو میرا یہ تجربہ بھی ہے۔ میں نے اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر پڑھنا شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد الشفاء اسکول ہمارے علاقے سے ایئرپورٹ کے قریب منتقل ہوگیا۔ اب مجھے نیا مرحلہ درپیش تھا۔ بات ان کی بھی درست تھی کہ اس علاقے میں، میں واحد طالب علم تھا جو یہاں زیر تعلیم تھا اور باقی بچے دوسری جگہوں سے آیا کرتے تھے۔

اسکول انتظامیہ نے جب اسکول منتقل کیا تو میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے آمد و رفت کی سہولت فراہم کردیں، لیکن شاید یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس طرح میرا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اسکول جو ہمارے علاقے میں تھا داخلہ لیا اور 2006 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مجھے ابتداء سے ہی کمپیوٹر پر کام کرنے کا شوق تھا اور میرا بیشتر وقت کمپیوٹر پر گزرتا تھا۔ اس دوران گھر والوں کو کسی نے مشورہ دیا کہ سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے۔ مجھے کسی بہت اچھے ماہر ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔ گھر والوں نے ایک ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور میرا علاج شروع ہوا۔

علاج کیا تھا، اک عذاب تھا۔ وہ مجھے الیکٹرک شاک لگاتے تھے۔ اس سے مجھے اور زیادہ تکلیف ہونے لگی، پھر آپریشن کا کہا گیا اور ہم نے وہ آپریشن کرایا بھی، بہت زیادہ پیسے خرچ ہوگئے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا بل کہ میں روز بہ روز کم زور ہوتا چلا گیا۔ اب سوچتا ہوں کہ مجھے وہ علاج نہیں کرانا چاہیے تھا، لیکن اب تو یہ ہوچکا تھا۔

خیر پھر فزیو تھراپی کراتا رہا اور نتیجہ صفر۔ کسی اور نے مشورہ دیا کہ خاص قسم کے جوتے بنائے جاتے ہیں، جس سے پاؤں صحیح ہوجاتا ہے۔ ہم نے بھی بنوائے اور جب میں نے وہ جوتے استعمال کرنا شروع کیے تو اپنی تکلیف بیان نہیں کرسکتا، بہت تکلیفیں برداشت کیں میں نے۔ آخر تنگ آکر میں نے وہ جوتے بھی پہننا چھوڑ دیے۔ ناقابل برداشت تکلیف ہوتی تھی انہیں پہن کے۔ بس میں نے بیساکھیاں لیں اور میدان عمل میں نکل پڑا۔ کوئی کب تک آپ کا ساتھ نبھا سکتا ہے؟ زندگی بھر کا ساتھ نبھانا تو ممکن نہیں ہے ناں، میں نے خود اپنا ہر کام کرنا شروع کیا حالاں کہ میرے سارے گھر والے بہت زیادہ خیال رکھنے والے ہیں۔ میں اپنے کپڑے دھوتا، انہیں استری کرتا، اپنے سارے کام خود کرتا تھا، پھر باورچی خانے میں اپنی ماں کا ہاتھ بھی بٹاتا تھا۔ مجھے روٹی اور سالن بنانا بھی آتا ہے۔

پھر گھر والوں نے سوچا کہ اب میرے کام کا کوئی انتظام کریں تو اس طرح میں نے اپنے محلے ہی میں پرچون کی دکان کھول لی، کام چلنے لگا، معاشی حالات سب کے خراب ہیں تو لوگوں نے ادھار لینا شروع کردیا۔ میں نے بھی سوچا کہ چلو دے دیں گے لیکن ادھار لے کر لوگ غائب ہونا شروع ہوگئے۔ اب میں معذور بندہ کس کس کے پیچھے بھاگتا پھرتا۔ قصہ مختصر کہ نقصان ہوگیا اور نقصان بھی تھوڑا نہیں، اچھا خاصا تقریباً ڈھائی تین لاکھ کا نقصان۔ دکان بند کرنا پڑی۔ اب کیا کِیا جائے پھر سوچا اور گرہ اس پر بندھی کہ موبائل فون کی دکان کھولی جائے۔ تو میں نے موبائل فون کی دکان کھول لی۔

کچھ عرصے میں دکان چلنے لگی، میں نے بھی نئے موبائل سے دکان بھرلی تھی اور شُکر مالک کا اچھی چل رہی تھی۔ پھر ایک مصیبت آن کھڑی ہوئی۔ ایک دن میں دکان میں تھا کہ تین لڑکے دکان میں داخل ہوئے، ایک نے میرے سر پر پستول رکھ دیا اور باقی دونوں نے سارے موبائل فون سمیٹنا شروع کردیے۔ میرے پاس جو پیسے تھے وہ بھی چھین لیے۔ لو جی پھر سے نقصان، اس بار تو زیادہ نقصان ہوا اور پھر دکان بند کرنا پڑی۔ ٹھیک ہے میرے تجربات تلخ تھے۔ نقصان بھی ہوا۔ لیکن زندگی تو گزارنی تھی، کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔ میں نے بہت سوچا اور ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لے لیا اور سیکھنا شروع کردیا۔ وہاں بہت اچھے ٹیچر مل گئے، ایک ماہ میں جو لوگ سیکھتے تھے میں نے ایک ہفتے ہی میں مکمل کرلیا، تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اس طرح میں نے ایم ایس آفس، گرافکس ڈیزائننگ، کمپیوٹر لینگویج اور دیگر کورس مکمل کیے۔ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ شعبہ گرافکس ڈیزائننگ ہے۔ جب میں یہ سیکھ گیا تو میں نے سوچا سرکاری ملازمت کرلیتا ہوں۔

میں نے نہ جانے کہاں کہاں درخواستیں دیں، نتیجہ صفر۔ یہ جو کہتے ہیں کہ حکومت نے معذوروں کا مخصوص کوٹا رکھا ہے۔ نہ جانے وہ کہاں رکھا ہے؟ کبھی سوچتا ہوں وہ کوٹا رکھ کر بھول گئے ہیں، ہنسی آتی ہے مجھے۔ نہ جانے کن معذوروں کو ملتی ہیں وہ ملازمتیں۔ اس دوران مجھے ایک صاحب ملے اور کہنے لگے دو لاکھ روپے کا انتظام کرلو تمہیں سرکاری ملازمت دلادوں گا۔ میں نے انکار کردیا۔ میں نے طے کیا ہے کہ میرٹ پر ملازمت ملی تو ضرور کروں گا، رشوت تو میں کسی صورت بھی نہیں دوں گا۔

پھر اﷲ کا کرنا یہ ہوا کہ میرا بھائی ایک کمپنی میں کام کرتا ہے۔ اس نے وہاں بات کی، میں نے انٹرویو دیا اور مجھے منتخب کرلیا گیا۔ اب میں یہاں کمپیوٹر آپریٹر ہوں، اکاؤنٹس کے شعبے میں اور میرے کام سے سب لوگ بہت خوش ہیں۔ میں محنت سے کام کرتا ہوں اور محنت کا پھل اﷲ ضرور دیتا ہے۔ جب میں برسر روزگار ہوا تو میری والدہ کو میری شادی کی فکر ستانے لگی۔ ہر والدہ کو اپنا ہی بیٹا اچھا لگتا ہے ناں۔ زیادہ فکر اس لیے ہوگئی کہ مجھ سے چھوٹے بھائی کی شادی ہوگئی اور اس سے چھوٹے کی منگنی۔ امی نے سوچا کہ میں افسردہ رہوں گا اور نہ جانے کیا سوچتا رہوں۔

وہ میری اداسی برداشت نہیں کرسکتی تھیں تو اس طرح میرے لیے لڑکی کی تلاش شروع کی گئی۔ قصہ طویل ہوجائے گا، بہت لوگوں نے رضامندی ظاہر کی اور پھر انکار کردیا۔ بالآخر ایک لڑکی نے حامی بھرلی۔ میں نے اسے سب کچھ صاف لفظوں میں بتادیا کہ جو کچھ ہوں تمہارے سامنے ہوں۔ اس نے اور اس کے گھر والوں نے کہا کہ جو قسمت نصیب میں ہوگا دیکھا جائے گا اور اس طرح میری منگنی ہوگئی۔ ہم سب بہت خوش تھے۔ میں تو بہت زیادہ خوش تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا۔ ہم اکثر ملتے تھے، باتیں کرتے تھے اور وہ میرا بہت خیال رکھتی تھی اور میں بھی اس کا۔ ہم ملتے اس لیے تھے کہ وہ مجھے اچھی طرح سے سمجھ لے اور مطمئن ہوجائے۔ ہم بہت گھومے پھرے، بہت اچھا وقت گزرا۔ آٹھ ماہ پلک جھپکتے میں گزر گئے، کہتے ہیں ناں کہ سہانا وقت جلد ہی خواب بن جاتا ہے، بس یہی ہُوا۔ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہماری محبّت کو اور وہ روٹھ گئی اور وجہ بھی نہیں بتائی۔ اتنی کوشش کی کہ وجہ تو بتادو تو اس نے رابطہ ہی منقطع کرلیا۔

اس کے گھر والوں سے پوچھا تو وہ کہنے لگے لڑکی سے خود ہی پوچھو۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اصولاً تو انہیں بتانا چاہیے تھا، کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے، تو بات چیت کے ذریعے رفع ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی بات ہی نہ کرنا چاہے تو کتنی اذیّت ہوتی ہے۔ کسی کی محبّت کا مذاق اڑانا کتنا بڑا اور سنگین گناہ ہے۔ میں اپنی پوری کوشش کروں گا، لیکن دلوں کا حال اﷲ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اب بھی دعا کرتا ہوں کہ وہ میری زندگی میں خوشی بن کر آئے اور وہ ہمیشہ خوشی بن کر رہے۔ اﷲ تعالیٰ اس کا دل صاف کردے، اس سے بات نہیں ہوتی تو میں اپنی اذیّت بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے پورے اخلاص سے محبّت سے اسے اپنایا ہے۔ کیسے بھول سکتا ہوں اسے؟ آپ بھی دعا کریں ناں میرے لیے۔ اتنا اداس تو میں زندگی بھر نہیں رہا، جتنا ان چند دنوں میں ہوگیا ہوں۔

یہ کچھ دن تو میرے لیے صدیاں بن گئے ہیں۔ میں اپنے کام خود کرتا ہوں، میں کسی پر بوجھ نہیں ہوں، اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے برسر روزگار ہوں۔ ہمارے پاس اﷲ کی ہر نعمت ہے، روزگار ہے، گھر ہے، گاڑی ہے۔ اب میں معذور ہوں تو کیا ہوا، خدا کی مرضی ہے یہ تو۔ میں گاڑی بھی چلا سکتا ہوں، گھومتا پھرتا ہوں۔ اچھے لوگ بھی ہیں دنیا میں، کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ میں اسٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑا تھا، تو لوگوں نے آکر مجھے پیسے دینے کی کوشش کی، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ میں کام کرتا ہوں۔

آپ کا بہت شکریہ! کچھ نے تو بہت اصرار بھی کیا کہ تم ہمارے بھائی ہو، ہم اپنی خوشی سے دے رہے ہیں، لیکن میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور محبت سے ٹال دیا۔ مجھے جہاں تلخ تجربات ہوئے ہیں وہیں بہت خوب صورت لمحات بھی دیکھے ہیں۔ دنیا اسی کا نام ہے، مستقبل میں گرافکس ڈیزائنر بن کر ملک و قوم کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں، انشاء اﷲ کروں گا۔ میں ایک مثال بن کر دکھاؤں گا، میں فارغ وقت میں کمپیوٹر کی کلاسز لیتا ہوں اور اپنی استعداد بڑھاتا ہوں۔ گھومتا پھرتا ہوں، گھر والوں کا ہاتھ بٹاتا ہوں، خوش رہتا ہوں، خوش رکھتا ہوں۔ اگر آپ کو خوش رہنا ہے تو دوسروں کی خوشی کا ضرور خیال رکھیے۔ بس آپ دعا کریں کہ وہ مجھے اپنی زندگی میں قبول کرلے۔ میں اسے ہر حال میں خوش رکھوں گا۔ اس سے زیادہ میں آپ کو اپنی کہانی کیا سناؤں؟ آپ سدا خوش رہیں۔‘‘

فقیر نے اسے سینے سے لگایا، ہاں میں ضرور دعا کروں گا کہ وہ تمہارے جیون میں خوشیوں کی بہار اور گُلوں کا نکھار بن کر آئے، میں چلتا ہوں، ہاں وہ ضرور آئے گی۔

سن لی آپ نے اس کی کتھا، کرم آپ کا جی، مہربانی جی، عنایت! آپ افسردہ ہوئے، بہت اچھے جو ہیں آپ، انسان کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اس کی آنکھ خلق خدا کے غم میں نم ہوکہ بتایا گیا ہے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو جی۔

اپنی افسردہ طبیعت کا بُرا ہو کہ فراز

حادثہ کوئی بھی ہو، آنکھ کو نم ہونا ہے

چلیے! اب آپ خوشی سے جھومیے کہ فقیر آپ کو یہ خوش خبری سناتا ہے کہ ایاز خان کے جیون میں ایک اور پیکر اخلاص پَری رُو آگئی ہے جو ایاز خان کا جیون بہار کیے ہوئے ہے، دونوں اپنے گھر کو جنّت بنائے ہوئے ہیں۔ واہ جی واہ! سبحان اﷲ و بہ حمد

کوئی دل کے بھی سمندر کا کنارہ ہوگا

یہ خیال آیا سمندر کے کنارے دل میں

مُدّتوں اپنا پتا پوچھتے پھرتے رہے ہم

پھر کسی نے یہ بتایا کہ تمہارے دل میں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔