ڈے ٹیسٹ میں بھی پنک بال کے استعمال کی تجویز

نمائندہ خصوصی  ہفتہ 14 دسمبر 2019
10سال انتظارکے بعد ملک میں پہلا ٹیسٹ کراچی میں شیڈول کرنا چاہیے تھا

 فوٹو:فائل

10سال انتظارکے بعد ملک میں پہلا ٹیسٹ کراچی میں شیڈول کرنا چاہیے تھا فوٹو:فائل

 راولپنڈی: رمیزراجہ نے عام ٹیسٹ میچز میں بھی پنک بال کے استعمال کی تجویز پیش کردی۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے مصنوعی روشنیوں میں بھی کھیل جاری رکھا جا سکے گا، ایم سی سی کے آئندہ اجلاس میں مشورہ دوں گا، 10 سال انتظار کے بعد ملک میں ہونے والا پہلا ٹیسٹ کراچی میں شیڈول کیا جاتا تو شائقین کو 5 روز کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا۔

تفصیلات کے مطابق سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ جب موسم خراب ہو اور مصنوعی روشنیوں کا سہارا لینا پڑے تو ہم پنک بال کی مدد سے کھیل جاری کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میں استعمال ہونے والی گیند اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکتی ہے۔

شائقین بڑی توقعات کے ساتھ میدان کا رخ کرتے ہیں ان کو مایوسی سے بچانے کے لیے ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے، رکن ہونے کی حیثیت سے میں ایم سی سی کرکٹ کمیٹی کے مارچ میں ہونے والے اجلاس میں پنک بال کے استعمال کی تجویز پیش کروں گا۔

انھوں نے کہا کہ راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے روز بارش اور خراب روشنی کی وجہ سے مایوس کن صورتحال پیدا ہوئی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلا ٹیسٹ کراچی میں کیوں نہیں رکھا گیا؟ وہاں موسم راولپنڈی جیسا نہیں ہوتا، ملک میں 10 سال بعد کوئی ٹیسٹ ہورہا ہے۔شائقین کو 5  روز تک کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔

دسمبر میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں سخت سرد موسم ہوتا ہے، بارش نے بھی کھیل کو متاثر کیا، پہلے روز شائقین کی بڑی تعداد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کے استقبال اور ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے آئے  لیکن موسم کی مداخلت سے ردھم ٹوٹ گیا، میرے خیال میں اس میچ کو بہت بہتر انداز میں شیڈول کیا جاسکتا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔