مہوش حیات بھارتی شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی آواز بن گئیں

ویب ڈیسک  جمعرات 19 دسمبر 2019
 امید کرتی ہوں کہ متحد ہو کر ہی ہم اس شیطانی عمل سے باہر آ سکتے ہیں، مہوش حیات۔ فوٹو: فائل

امید کرتی ہوں کہ متحد ہو کر ہی ہم اس شیطانی عمل سے باہر آ سکتے ہیں، مہوش حیات۔ فوٹو: فائل

معروف اداکارہ مہوش حیات بھی مودی سرکار کی جانب سے مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی ہم آواز بن گئیں۔

مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بھارتی مسلم نوجوان مودی سرکار کی جانب سے متنازع شہریت قانون بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ میں بھارتی مسلمان ہوں اور مجھے بھارت کا شہری ہونے پر شرمندہ کیا جا رہا ہے۔

نوجوان نے یہ بھی کہا کہ مسلم مخالف قانون نہ صرف مسلمانوں کے بلکہ بھارتی ہندوؤں کے جذبات اور شرم کا بھی امتحان ہے، کیوں کہ جب مسلمانوں کو ریاست بدر کیا جا رہا ہوگا تب کیا بھارتی ہندو خاموش رہیں گے ؟۔

نوجوان نے بھارتیوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جو مودی سرکار نے کیا ہے اگر یہ عمل صحیح لگتا ہے کہ تو آپ کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ اگر آپ کو غلط لگتا ہے تو سڑکوں پر آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں، اور مودی کو بتائیں کہ اُن کی یہ غنڈہ گردی نہیں چلے گی۔ اور اس طرح سے ملک آگے نہیں چل سکتا۔

مہوش حیات نے بھارتی نوجوان کی ویڈیو پر اپنے رد عمل میں کہا کہ اس شخص کے پاس میرے جیسا دل ہے جس نے موجودہ صورتحال کو احسن طریقے سے بیان کیا ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ متحد ہو کر ہی ہم اس شیطانی عمل سے باہر آ سکتے ہیں۔

مہوش حیات نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگ اس شیطانی عمل کے خلاف اُٹھ کھڑے نہ ہوئے تو پھر مجھے نہیں پتا کہ کیا ہوگا، جاگ جاؤ کیوں کہ ان سب کو روکنے کے لئے اب بھی وقت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔