22 دسمبر: اسلام آباد پر جماعتِ اسلامی کی ’یلغار‘

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 20 دسمبر 2019
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

لیجیے، اب امیرِ جماعتِ اسلامی اپنے وابستگان اور جاںنثاران کے جلَو میں ’’کشمیر مارچ‘‘ کے نام پر اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں۔ اس ’’عظیم ‘‘ مہم کے لیے 22 دسمبر کا دن مقرر کیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے باسی نئے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی اپنی کمر کس لیں۔ بڑے دنوں سے اسلام آباد کی فضائیں جماعتِ اسلامی اور سینیٹر سراج الحق صاحب کی میزبانی کو ترس رہی تھیں۔ اطلاعات ہیں کہ جماعت نے اس مارچ کے لیے خاصی تیاری کی ہے۔

پاکستان کا وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد، شائد دُنیا کا واحد ایسا دارالحکومت ہے جہاں تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ مظاہرے، احتجاج اور دھرنے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کو ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے پاکستان کا سب سے بدقسمت شہر بنا ڈالا ہے۔ اس شہر کے مکین اور فضائیں مظاہرے کرنے اور دھرنے دینے والوں کے پیدا کردہ مسائل سے عاجز آ چکے ہیں۔ نواز شریف کے تیسرے دَور میں عمران خان نے یہاں 126 دنوں کا دھرنا دے کر ایک نئی طرح ڈالی۔ اس کے بعد تو اسلام آباد کئی یلغاروں کی زَد میں آیا ہے۔

مولانا خادم حسین رضوی کی پارٹی بھی آئی اور کئی دنوں تک اسلام آباد /راولپنڈی کا ناطقہ بند رہا۔ ہم جب بھی ’’فیض آباد دھرنا ‘‘ کے بارے میں عدالت کا فیصلہ پڑھتے ہیں، مولانا موصوف بھی یاد آ جاتے ہیں۔ اور ابھی تو حضرت مولانا فضل الرحمن اور اُن کی جماعت کے پروانوں کو اسلام آباد سے گئے چند دن ہی گزرے ہیں۔ قبلہ مولانا موصوف مبینہ لاکھوں افراد کی معیت میں اسلام آباد میں ڈیرہ ڈالے رہے۔ دعویٰ تھا کہ عمران خان کا استعفیٰ لے کر اور پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر ہی جاؤں گا۔ اُن کے دعوے مگر دھرے کے دھرے رہ گئے۔

یہ تماشہ کئی دن لگا رہا اور پھر اچانک پُر اسرار انداز میں منتشر ہو گیا ۔ بغیر کچھ حاصل کیے۔ خالی ہاتھ۔ بقول ناصر کاظمی: ۔۔۔ کہاں سے آیا کدھر گیا وہ؟/عجیب مانوس اجنبی تھا، مجھے تو حیران کر گیا وہ۔ اور ابھی تو حضرت مولانا فضل الرحمن کی عوام کے لیے خاص الخاص حیرتیں ختم بھی نہ ہُوئی تھیں کہ اب امیر جماعتِ اسلامی جناب سراج الحق کی اپنے ’’لاکھوں‘‘ چاہنے والوں کے ساتھ اسلام آباد آمد آمد ہے۔ اللہ خیر کرے۔

اسلام آباد جماعتِ اسلامی اور قبلہ سینیٹر سراج الحق صاحب کا بھی شہر ہے۔ جَم جَم آ ئیں۔ مگر یہ تو بتائیں کہ اصل مقصد و مدعا کیا ہے؟ صرف کشمیر مارچ تو نہیں ہو سکتا۔ جب سے عمران خان برسرِ اقتدار آئے ہیں، سراج الحق صاحب مسلسل اپنے بیانات کے گولے خانصاحب پر داغ رہے ہیں۔

اب کچھ دنوں سے اُن کے جاری کردہ بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ عمران خان کی کشمیر بارے پالیسیوں سے امیرِجماعتِ اسلامی سخت ناراض اور نالاں ہیں۔ آپ کہتے ہیں: وزیر اعظم کشمیر کے بارے میں ’خاموش‘ ہیں، ہم انھیں جھنجوڑنے آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم خاموش قطعی نہیں ہیں۔ ابھی دو دن پہلے خانصاحب نے جنیوا میں ایک بار پھر کشمیریوں کی مظلومیت کا بآوازِ بلند ذکر کیا ہے۔ سراج الحق مگر مطمئن نہیں ہو رہے۔ وہ وزیر اعظم کے خلاف اپنے غصے کا اظہار اپنی  ٹویٹس میں بھی تسلسل کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اگر ہم یہاں اُن کی کچھ متعلقہ ٹویٹس کا حوالہ دیں تو کچھ کچھ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ 22 دسمبر کو اسلام آباد پر یلغار کیوں کرنا چاہتے ہیں:

8 دسمبر کو سراج الحق نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’’126دن کا دھرنا دینے والوں کو کشمیر میں 126 دن کا کرفیو نظر نہیں آتا۔ 22 دسمبر کو مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک بھر سے لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے ۔‘‘ اس سے دو دن پہلے آپ نے رحیم یار خان میں ایک بڑا جلسہ کیا تو ایک ٹویٹ یوں کی: ’’جماعتِ اسلامی مسئلہ کشمیر زندہ رکھے ہُوئے ہے۔

رحیم یار خان میں عوام الناس نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اہلِ کشمیر سے یکجہتی کا اعادہ کیا۔ 22 دسمبر کو اسلام آباد میں فقید المثال یکجہتی ِ کشمیر مارچ ہو گا۔‘‘ ابھی اس ٹویٹ کی باز گشت مدھم بھی نہ پڑی تھی کہ سراج الحق صاحب نے ایک اور ٹویٹ داغ دی۔ لکھا :’’کشمیر گزشتہ چار ماہ سے کربلا بن ہُوا ہے۔ مگر ٹیپو سلطان بننے کے بجائے پتھر دل حکمران کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور قتلِ عام پر خاموش تماشائی بنے ہُوئے ہیں۔ 22 دسمبر کو ملک بھر سے لاکھوں کی تعداد میں عوام اسلام آباد پہنچیں گے اور حکمرانوں کو بے حسی کی نیند سے جگائیں گے۔‘‘  سراج الحق صاحب نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے اُن قائدین میں بھی شمار ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو ’’چلتا‘‘ کیا جائے اور پھر یا تو اِن ہاؤس تبدیلی لائی جائے یا وسط مدتی انتخابات کروائے جائیں۔

اس پس منظر میں جناب نے ایک ٹویٹ یوں کی : ’’حکمران خود اپنے لیے قبر کھودنے لگ جائیں تو حکومتیں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں۔ حالات دن بدن گمبھیر صورت اختیار کر رہے ہیں تو مڈ ٹرم الیکشن کروانے میں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اِن ہاؤس تبدیلی اور قبل از وقت الیکشن بھی جمہوریت کا حصہ ہیں۔‘‘ ماشاء اللہ۔

کوئی اگر نگاہِ مردِ مومن رکھے تو ان ٹویٹس کے ’مطالعہ‘ سے اندازہ اور قیافہ لگا سکتا ہے کہ جناب سراج الحق 22 دسمبر کو اسلام آباد کیوں تشریف لا رہے ہیں؟ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور کشمیریوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھنا تو بہر حال ایک مستحسن جذبہ ہے۔ ہم سب جماعتِ اسلامی کے اس پُر خلوص جذبے کے شاہد بھی ہیں اور اسے سلام بھی کرتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کی حمائت کی ہے۔ جماعت کا ماہنامہ ترجمان جریدہ ( عالمی ترجمان القرآن) کی تقریباً ہر اشاعت بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔

ہر برس منائے جانے والے ولولہ انگیز ’’یومِ یکجہتی کشمیر‘‘ کی بنیاد بھی جماعتِ اسلامی نے رکھی۔ سابق امیر جماعتِ اسلامی، قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور، کی کشمیریوں کے لیے خدمات و جذبات ناقابلِ فراموش ہیں۔ سراج الحق صاحب مگر 22 دسمبر کو جس انداز میں اپنے عشاق کے ساتھ اسلام آباد تشریف لا رہے ہیں، کیا اس سے ایل او سی کے پار کُرلاتے اور بھارتیوں کی گولیاں کھاتے کشمیریوں کی کچھ مدد ہو سکے گی؟ ۔

5 اگست کے ظالمانہ بھارتی فیصلے کے بعد کشمیریوں پر جو کوہِ غم ٹوٹا ہے، جماعتِ اسلامی کو شکوہ ہے کہ جناب عمران خان کشمیریوں کی توقعات کے مطابق اعانت نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی اپنا وہ وعدہ نبھا سکے ہیں جو انھوں نے 27 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب سے پہلے کشمیریوں اور پاکستانیوں سے کیا تھا۔

یہ شکوہ جماعتِ اسلامی کے دانشوروں کی تحریروں میں بھی جھلکتا ہے۔ مثال کے طور پر دسمبر2019کے ’’عالمی ترجمان القرآن‘‘ میں ایک مضمون نگار کے یہ الفاظ: ’’اگست2019 کو مودی حکومت نے جس طرح ریاست جموں و کشمیر کی ’خصوصی حیثیت‘ کو نہ صرف ختم کیا بلکہ ریاست ہی تحلیل کر دی۔

لگتا ہے کہ اسلام آباد میں حکمران طبقے اب اس کو تقریباً ’حقیقتِ حال‘ تسلیم کرنے لگے ہیں۔نئی دہلی کے کئی حلقوں میں اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان،کشمیر کی صورتحال کا اُس طرح فائدہ نہیں اُٹھا رہا جس کا اندیشہ تھا۔‘‘ (صفحہ 87) سوال مگر یہ بھی ہے کہ اس ضمن میں عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور انھیں راہ دکھانے میں جماعتِ اسلامی کی قیادت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟

جماعتِ اسلامی کا یہ شکوہ بھی شائد بجا ہے کہ گزشتہ روز جب فیس بک نے جماعتِ اسلامی (کراچی) کا اکاؤنٹ معطّل کر دیا ( اس وجہ سے کہ جماعتِ اسلامی کشمیریوں کی حمائت کیوں کر رہی ہے) تو اسے کھلوانے اور فیس بک انتظامیہ کی گوشمالی کرنے میں پی ٹی آئی حکومت نے کوئی اقدام کیوں نہ کیا؟ خانصاحب اور اُن کی حکومت پہلے ہی عدلیہ کے تازہ تازہ دو فیصلوں کے کارن خاصی پریشان ہے۔ کیا جماعتِ اسلامی، اسلام آباد آکر حکومتی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔