لیٹر پرنٹنگ پریس کا زمانہ (حصہ اول)

لیاقت راجپر  جمعـء 20 دسمبر 2019

جب مجھے سندھ انفارمیشن محکمے میں اسٹینو کی نوکری ملی تو میرا واسطہ صحافیوں سے پڑا ، ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی والے بھی لاڑکانہ آیا کرتے تھے کیونکہ بھٹو صاحب اکثر لاڑکانہ آتے رہتے تھے۔ اس کی وجہ سے میری ملاقات کامریڈ جمال الدین بخاری سے ہوئی جس کی باتوں سے میری معلومات میں بہت بڑا اضافہ ہوا اور مجھے بھی لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا ہوا جس میں ہمارے انفارمیشن آفیسر محمد لائق حسین کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ میں اکثر و بیشتر کامریڈ بخاری کے گھر جایا کرتا تھا۔

جہاں پر ہفت روزہ اخبار انصاف سندھی میں اور ہفت روزہ اخبار نیو اِرا (New Era) چھپتا تھا۔ وہاں پر پرنٹنگ پریس بھی لگا ہوا تھا جس کا نام بھی انصاف پرنٹنگ پریس تھا۔ جب وہاں پر اخبار، دعوت نامے اور دوسری چیزیں چھپتیں تو میں انھیں بڑے غور سے دیکھتا تھا کیونکہ اس زمانے میں چھپائی بڑی مشکل اور عجیب سی ہوتی تھی اور اس میں پریس میں چھپائی کرنے والے کا بڑا کمال اور ذہانت کے ساتھ محنت شامل ہوتی تھی۔

ایک دن لائبریری میں پڑھتے ہوئے مجھے لیٹر پرنٹنگ پریس کے بارے میں خیال آیا کہ مجھے لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیے جس کے لیے میں کامریڈ جمال الدین کے بیٹے منور سلطان بخاری کی طرف چلا گیا کیونکہ جب پریس کا کام ہوتا تھا تو اسے وہ اور ان کے دوسرے بھائی بھی اس کام میں لگے رہتے تھے۔

جب میں نے انھیں اس بات کا بتایا تو وہ بڑے خوش ہوئے اور اس نے اپنے تجربے اور مشاہدے کے حوالے سے بہت کچھ بتایا۔ لاڑکانہ شہر میں ایک دو اور بھی اس طرح کے پرنٹنگ پریس ہوتے تھے جس میں ایک انقلاب پرنٹنگ پریس تھا جس کے مالک سید احمد دہلوی تھے جو پاکستان چوک پر واقع تھا وہاں بھی میں جایا کرتا تھا کیونکہ محکمہ اطلاعات میں ہونے سے ہمارا پرنٹنگ پریس والوں سے بھی واسطہ رہتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور پرنٹنگ پریس قادریہ کے نام سے قادری محلے میں واقع تھا جسے قادری فیملی کے پڑھے لکھے ادیب، شاعر اور صحافی چلاتے تھے اور اس پریس سے اخبار کے علاوہ باقی بھی پریس کا کام چلاتے تھے۔ لاڑکانہ میں قادری فیملی نے سندھ میں بڑا اور اچھا نام کمایا ہے جو آج بھی جاری ہے۔

جمال الدین بخاری نے اپنی سب بیٹیوں کو صحافت، ادیب اور سیاست سے منسلک رکھا تاکہ وہ اس کے نقش قدم پر چل کر اس کا نام روشن کریں اور ملک و قوم کی خدمت کریں۔ منور اور مکرم تو خاص طور پر شروع سے اس کام میں بڑی دلچسپی لیتے رہے اور چھپائی کے کام میں مہارت اور تجربہ اتنا حاصل کرلیا کہ اگر پریس چلانے والا بیمار ہو جاتا تو منور خود ہی کام کرتے تھے، اخبار نکالتے اور اگر پریس میں کوئی خرابی ہو جاتی تو اسے بھی ٹھیک کرلیتے تھے۔ گھر سے منسلک روڈ کی جانب والے کمرے میں یہ پریس ہوتا تھا اور اس کے ساتھ ہی بیٹھک تھی جہاں پر آنے والوں کے ساتھ بات چیت بھی چلتی رہتی تھی۔

سندھی اور انگریزی زبانوں کے حروف ایک بڑے باکس میں الگ الگ رکھے ہوتے تھے۔ یہ حروف (Lead) سیسہ کے بنے ہوئے ہوتے تھے جو بڑے ہلکے اور نازک ہوتے تھے اور جہاں پر یہ رکھے جاتے تھے اسے وہ اپنی زبان میں باکس کہتے تھے، جہاں سے اٹھا کر انھیں لفظوں کے مطابق سیٹ کیے جاتے تھے جسے Sticks کہا جاتا ہے اور پھر انھیں گیلری میں رکھ کر انھیں مضبوط کرنے کے لیے ان کے درمیان میں Pad رکھے جاتے تھے تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔

پرنٹ کرنے والی مشین کو پاؤں سے چلانا پڑتا تھا اور اس کے اوپر والے کے دوسرے حصے میں پلیٹیں فکس کی جاتی تھیں جس کا چکرہ گول ہوتا تھا۔ اس کی چھپائی میں سیاہی استعمال کی جاتی تھی جسے رولر کے ذریعے پلیٹ پر پھیلایا جاتا تھا۔ کوئی بھی تحریر کی پہلی کاپی نکال کر اس کا پروف کیا جاتا تھا اور اس میں سے غلطیاں درست کرکے پھر اسے چھپانے کے لیے مشین پرسیٹ کیا جاتا تھا۔

اس زمانے میں لال، ہرا اور نیلا اور کالے رنگ کی اخبار یا پھر اور کاپیاں نکالی جاتی تھیں کیونکہ اس زمانے میں رنگین چھپائی بہت مہنگی پڑتی تھی کیونکہ اس کے لیے چار پلیٹیں الگ الگ چھاپ کر لگائی جاتی تھیں جسے پہلے ایک رنگ پھر دوبارہ اس پر دوسرا پھر تیسرا اور آخر میں چوتھا رنگ چڑھایا جاتا تھا جس میں وقت بھی زیادہ لگتا تھا، بہت محنت اور احتیاط کرنا پڑتی تھی اور اس کے پیسے بھی زیادہ ہوتے تھے۔

مجھے پریس کے آپریٹر کی ذہانت اور پھرتی پر عجب سا لگتا تھا کیوں کہ اسے پاؤں سے مشین چلانی ہوتی تھی اور جیسے ہی مشین کی ایک گول پلیٹ چلنے لگتی اسے کاغذ کو اس پر رکھنا ہوتا تھا کیونکہ ایک حصہ جب دوسرے حصے سے ہلکا سا ملتا تھا تو تحریر کاغذ پر چھپ جاتی تھی۔

چھاپنے سے پہلے آپریٹر حروف ایک باکس میں چھوٹے چھوٹے بنے ہوئے باکس میں Alphabaticaly سجائے رکھے ہوتے تھے اور جب وہ تحریر بناتا تو اس کا ہاتھ سیدھا اسی حرف پہ جا پڑتا۔ یہ بھی اس کی مہارت اور ذہن ہوتا تھا کہ وہ حروف کو اسٹک میں رکھتا پھر اسے کالموں میں بانٹتا اور ان کے بیچ میں لکیروں کو بناتا۔ اخبار، میگزین، کتاب، دعوت نامہ وغیرہ کے سائز کے مطابق کالم بنائے جاتے تھے۔ کالم بنانے کے لیے کالموں کے درمیان کاغذ رکھے جاتے تھے جسے space کہا جاتا تھا۔ جب کہ انھیں ہلنے سے بچانے اور مضبوط بنانے کے لیے دھاگے کی طرح موڑ کر درمیان میں فکس کیا جاتا تھا۔

اس وقت زیادہ تر اوساکا کمپنی کی مشین ہوتی تھی ،  جاپان کی بنی ہوئی تھی۔ چھپائی کے لیے پلیٹوں پر گھومنے کے لیے تین رولر ہوتے تھے جو رنگ کو پلیٹ پر پھیلانے کا کام کرتے تھے تاکہ چھپائی صاف اور واضح ہو اور دھبہ نہ ہو۔ ان کے چلانے کے لیے گراریاں ہوتی تھیں جن کے سائز مختلف ہوتے تھے جب کہ مشین کے دوسرے حصے پر کاغذ کو Pins کے ساتھ ملاکر رکھنا پڑتا تھا۔ تاکہ وہ نہ صرف ہل سکے بلکہ مضبوط بن کر کھڑی رہے۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔