کھادوں کا غیر متوازن استعمال، زمین کی پیداواری صلاحیت کم ہونے لگی

رضوان آصف  جمعـء 20 دسمبر 2019
چاول کی کاشت کو منڈی بہاؤالدین اور ننکانہ تک محدود کرنے کی سفارش کی، زرعی ماہرین
فوٹو: فائل

چاول کی کاشت کو منڈی بہاؤالدین اور ننکانہ تک محدود کرنے کی سفارش کی، زرعی ماہرین فوٹو: فائل

 لاہور: سنگین انکشاف ہوا ہے کہ کھادوں کے کم یا غیر متوازن استعمال کی وجہ سے زمین کے اندر موجود نامیاتی مادوں کا قدرتی ذخیرہ خطرناک حد تک کمی کا شکار ہو گیا ہے.

محکمہ زراعت پنجاب کے ایک تکنیکی سروے میں یہ سنگین انکشاف ہوا ہے کہ کھادوں کے کم یا غیر متواز ن استعمال کی وجہ سے زمین کے اندر موجود نامیاتی مادوں کا قدرتی ذخیرہ خطرناک حد تک کمی کا شکار ہو گیا ہے جس کی وجہ سے فصلوں کی فرٹیلیٹی سائل (پیداواری استعداد )تنزلی کا شکارہے، سب سے زیادہ قلت پوٹاش کے حوالے سے منظر عام پر آئی ہے جس کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار نہیں بڑھ پا رہی۔

صوبے بھر میں ابھی تک حاصل کیئے جانے والے 20 لاکھ زمینی نمونہ جات کی لیبارٹری ٹیسٹنگ میں ثابت ہوا ہے کہ زمین میں نائٹروجن کی کم 98 فیصدفاسفورس کی کمی 90 فیصد اور پوٹاش کی کمی 53 فیصد جبکہ زنک کی کمی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ پنجاب میں نصب 10 لاکھ زرعی ٹیوب ویلز میں سے 66 فیصد کا پانی زراعت کیلئے ’’ان فٹ‘‘ ہے۔

صوبائی حکومت نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر محکمہ سائل سروے کو ’’ سیریزسائل سروے کرنے کا حکم دیا ہے، 2018 میں کیے گئے سروے میں سائل سیریز کی تعداد بڑھکر 800 ہو گئی تھی اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ زمین میں نامیاتی مادوں کی تیزی سے بڑھتی قلت کے سبب سیریز کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔

محکمہ زراعت پنجاب نے صوبے بھر کی زرعی زمین کے نامیاتی آڈٹ کے حوالے سے ایک ویب سائٹ تیار کر لی ہے جس کا افتتاح آئندہ چند روز میں کیا جائے گا ،پنجاب کا ہر کاشتکار تفصیل جان سکے گا۔ علاوہ ازیں پنجاب میں ایگریکلچرل ایکولوجیکل زونز کی تعداد 8 سے بڑھا کر 14 کردی گئی ہے اور یہ مضبوط سفارش کی گئی ہے کہ کاٹن ایریا میں گنے کی کاشت کو روکا جائے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔