عالمی بینک کا اسمارٹ پروگرام معطل، پنجاب حکومت 45 لاکھ ٹن گندم خریدے گی

رضوان آصف  پير 23 دسمبر 2019
وزیر اعلیٰ نے عالمی بینک نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں انھیں فیصلے سے آگاہ کر دیا ، گندم خریداری کیلیے مالی انتظامات شروع۔ فوٹو: فائل

وزیر اعلیٰ نے عالمی بینک نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں انھیں فیصلے سے آگاہ کر دیا ، گندم خریداری کیلیے مالی انتظامات شروع۔ فوٹو: فائل

لاہور: وزیر اعظم عمران خان اوروزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے سرکاری گندم خریداری کم کرنے کے حوالے سے عالمی بینک کے ساتھ طے شدہ 5 سالہ اسمارٹ پروگرام معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

وزیر اعظم عمران خان اوروزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب میں صارفین کو سستے آٹے کی فراہمی اور کسانوں کے معاشی تحفظ کیلیے گندم کی اوپن مارکیٹ کو کریش ہونے سے بچانے کیلیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری گندم خریداری کم کرنے کے حوالے سے عالمی بینک کے ساتھ طے شدہ 5 سالہ اسمارٹ پروگرام معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ نے عالمی بینک کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں انھیں آگاہ کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں صوبائی حکومت اس مرتبہ گندم کی سرکاری خریداری کا ہدف45 لاکھ ٹن مقرر کرنے کا اصولی فیصلہ کر چکی ہے جس کے مالیاتی انتظامات کیلیے محکمہ خوراک پنجاب نے کام شروع کردیا ہے، موجودہ قرضوں کی ادائیگی کیلیے صوبائی حکومت سے40 ارب روپے کے حصول کیلیے درخواست کردی گئی ہے جبکہ گندم خریداری مہم کے آغاز سے قبل ضرورت محسوس ہونے پر وفاقی حکومت کو محکمہ خوراک کے قرضوں کی حد بڑھانے کیلئے درخواست بھی کی جا سکتی ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ نے پنجاب حکومت پرزوردیا ہے کہ گندم خریداری کیلیے قرضوں کے حصول کی خاطر صوبائی حکومت بینکوں کو اپنی گارنٹی فراہم کرے۔

واضح رہے 2018ء میں پنجاب حکومت نے عالمی بنک کے ساتھ ’’اسمارٹ پروگرام‘‘ کا پانچ سالہ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت صوبائی حکومت نے مرحلہ وار طریقہ سے محکمہ خوراک کی سرکاری گندم خریداری کو کم کرتے ہوئے 20 لاکھ ٹن تک محدود کرنا تھا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں پنجاب حکومت کی جانب سے تحریری طورپر بھی عالمی بینک کو گندم خریداری کے سمارٹ پروگرام سے نکلنے کے بارے میں مراسلہ بھیج دیا جائے گا۔

نئی گندم خریداری کیلیے مالیاتی انتظامات میں محکمہ خوراک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت نے محکمہ خوراک پنجاب کے قرضوں کی حد 466 ارب روپے مقرر کر رکھی ہے جس میں سے آج کے دن محکمہ خوراک 377 ارب روپے کی حد استعمال کر چکا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔