ہاں ہاں مگر کیسے ؟

سعد اللہ جان برق  منگل 31 دسمبر 2019

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کیلئے سبسکرائب کریں

منادیاں ہورہی ہیں، سارے سرکاری نیم سرکاری  ڈھول ’’کڑ کڑکا کڑ‘‘۔’’کڑکڑاکا کڑ‘‘ بج رہے ہیں ، بھونپو چلا رہے ہیں اور دانا دانشور اس پرفلسفوں کی کڑاہیاں چڑھا کر کھیر پکاررہے ہیں۔کہ ادارے ٹھیک کردیے گئے، چوروں کا قلع قمع کردیاگیاہے ،کرپشن کی ایسی کی تیسی کردی گئی ہے، ملک کو صحیح ٹریک پر ڈال دیاگیاہے، ادارے مضبوط کردیے گئے ہیں، بنیادیں رکھ دی گئی ہیں، باغ لگادیاگیاہے جس کا پانی کھاد ہوگیاہے، پھول بس نکلنے والے ہیں پھرثمرات ہوں گے اور ہم ہوں گے۔

ہم سے کہاجائے گا کہ آؤ اپنے  اہل وعیال کے ساتھ اور کھاؤ جتنا چاہو جہاں سے چاہو۔ خوش فہم اور خوش یقین لوگ ہیں، مان لیتے ہیں، یقین کرلیاہے کہ ایسا ہی ہوگا۔مگر کیسے؟۔کیا کہیں سے ’’کھل جا سم سم‘‘کا کوڈ مل گیاہے؟کہیں سے سات بادشاہوں اور قارون کا خزانہ ہاتھ لگاہے، کیا کہیں سے انجیرکا پھول،سفیدسانپ کی جھلی یا سفیدگیدڑ کی گیدڑسنگی مل گئی ہے۔

کیا خسارے والے محکمے، ان کا اورولوڈ خرچ اور وزیروں مشیروں اور افسروں کو کام پرلگادیا گیایا ملک بدر کردیاگیا۔کیا وزیر مشیر معاون منتخب نمائندے بھانت بھانت کی کمیٹیاں اور کمیشن کہیں چلے گئے یا انھوں نے بلا تنخواہ اور بلا مراعات کے کام شروع کردیا گیا۔ کیالیاجانے والا قرضہ’’بانٹنے‘‘کے بجائے کسی کام کے کام میں لگنا شروع ہوگیا کیاسارے سود خور قرض خواہوں نے اپنے قرضے معاف کردیے ہیں؟ کیا ملک کی دولت لے جانے والی بین الاقوامی مافیائیں ختم کردی گئیں؟کیاووٹ خریدنے کے لیے کارڈز وغیرہ بند ہوگئے؟

مفت کے خیرات خانے، لنگرخانے اور نوالے ختم کردیے گئے؟ کیا محکموں اور ان کے چٹوں بٹوں کی لگژری گاڑیاں،بنگلے مراعات وغیرہ بندکردیے گئے ہیں؟کیاوزیروں، مشیروں اور معاونوں کی فوج ظفرموج میں کمی آگئی ہے ؟کیا صدارتی محل،وزیراعظم ہاؤس اور منسٹرزہاؤس کے اخراجات اور اللے تللے میں کمی کر دی ہے۔کیازمین کے سارے کنووں، ٹیوب ویلوں اور چشموں دریاوں میں پانی کی جگہ(جو پہلے ہی کم پڑرہاتھا) صاف شدہ پیٹرول ڈیزل بہنے لگاہے؟کچھ تو ہوا ہوگا ،کچھ تو ہونا چاہیے کیونکہ یہ اتنے بھاری بھرکم سودی قرضے، یہ اتنے بھاری بھرکم انکم سپورٹ،مفت کارڈز اور مفت کی گنگاتو بدستور بہہ رہی ہے چولہابھی وہی باورچی بھی وہی برتن بھی وہی اور سامان بھی وہی تو’’تبدیلی‘‘کا پکوان کہاں بن رہاہے؟

سنگ اور ہاتھ وہی وہی سر اور داغ جنوں

وہی ہم ہوںگے وہی دشت وبیاباں ہوں گے

جب سارے صادق وامین کہہ رہے ہیں صادقوں اور امینوں کا سربراہ یعنی امیرالصادقین وامینین کہہ رہاہے کہ تبدیلی آرہی ہے، بس چند روز مری جان فقط چندہی روز۔  اس کے بدلے روز گوشت پکے گا ہر دوپہر پلاؤ کھائیں اور ہر رات حلوہ ٹھونسیں گے۔راوی چناب ستلج بیاس کے ساتھ دریائے سندھ بھی چین ہی چین لکھے گا۔نہ کوئی بندہ رہے گا نہ کوئی بندہ نواز۔تو یہ سب ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ صادق وامین تو جھوٹ بولتے ہی نہیں سب کا سب سچ ہوگا اور سچ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا لیکن کیسے؟۔

اس ’’کیسے‘‘ پر آکر ہماری گاڑی اٹک جاتی ہے بلکہ پھنس جاتی ہے۔کہ آگے کوئی راستہ نظر ہی نہیں آرہاہے تو گاڑی چلے گی کیسے؟جب پانی تک نہیں تو ڈیزل پیٹرول کہاں سے آئے گا؟۔مان لیا کہ ’’گاڑی‘‘ بھی بالکل نئی نویلی تیار کھڑی ہے، اگرچہ پرائی ہی گاڑی پر نیارنگ وروغن کیاگیاہے لیکن پھر بھی بظاہر نئی نویلی اور چمکدارگاڑی تیارکھڑی ہے، ڈرائیور بھی نئی کڑک وردی پہنے تیار کھڑاہے، سواریاں بھی بیٹھی ہوئی ہیں لیکن صرف پیٹرول یا ڈیزل نہیں ہے تو گاڑی چلے گی کیا ڈرائیور چلائے گا کیا؟اور سواریاں منزل پرپہنچیں گی کیا؟۔ سارے پمپوں والے ادھار دینے سے انکاری ہیں بلکہ سابقہ ادھار کا تقاضا کررہے ہیں۔

غالب تمہی کہو کہ ملے گا جواب کیا

مانا کہ تم کہاکیے اور وہ سنا کیے

ہم حساب کتاب میں کچھ زیادہ ماہر نہیں ہیں لیکن اتنا تو جانتے ہیں کہ ’’جمع‘‘ہو تو اسے تفریق بھی کیاجاسکتاہے، ضرب بھی اور تقسیم بھی۔لیکن ’’جمع‘‘نہ ہو تو منفی،ضرب یا تقسیم کاہے کی ہوگی۔صفر کو آپ کتنا ہی بڑا بڑا لکھ دیں، اس کے آگے پیچھے ہزاروں کروڑوں’’صفر‘‘اور لگادیں، جمع کریں تفریق کریں اور تقسیم کریں۔صفر ہمیشہ رہے گا ’’عدد‘‘ کبھی نہیں بن پائے گا، پانی کو آپ کتناہی بلوئیں مکھن نہیں نکلے گا، آپ کتنی ہی اینٹیں جمع کریں، سمینٹ کے اسٹاک لگا دیں، ریت اور سریے کے ڈھیرلگادیں۔لیکن’’ زمین‘‘نہیں ہے یا زمین جھیل ہے۔تو عمارت کیسے بنائیں گے، ایک اینٹ لگائیں۔دوسرا کھاڑیں۔تو ان ہی چند اینٹوں کو آگے پیچھے کرنے سے تو عمارت نہیں بنے گی۔آپ بڑے اچھے معمار ہیں لیکن صرف ایک تیشے اور کرنڈی سے آپ کیا بنائیں گے؟

مری تعمیر میں مضمرہے اک صورت خرابی کی

ہم نے آپ کو چشم گل چشم عرف قہرخداوندی کے بچپن کاوہ قصہ تو سنایاہی ہوگا جب وہ اپنے باپ کے پاس ’’چندکارتوس‘‘لے آکرآیااور کہا کہ ایک لڑکاہے جو باپ کی پیٹی سے چراکریہ کارتوس سستے میں بیچ رہاہے۔باپ نے پیسے دے کر کہا کہ اسے کہو کہ اور کارتوس لائے ہم خریدیں گے اور کارتوس اس کی ماں کو دے کرکہاکہ پیٹی میں لگادو۔کارتوس آتے رہے خریدے جاتے رہے، ایک دن اس کے باپ نے اس کی ماں سے پوچھا کہ اب تو ’’پیٹی‘‘بھرگئی ہوگی۔ بیوی نے کہا، پتہ نہیں میں تو اس میں کارتوس لگاتی ہوں لیکن پیٹی میں اب بھی اتنے ہی کارتوس ہیں، جتنے پہلے تھے اور پہلے جتنے خانے خالی ہیں۔تب پتہ چلا کہ وہ لڑکا جو باپ کی پیٹی سے کارتوس چراکر سستے میں بیچ رہاتھا، خود چشم گل ہی تھا۔جواپنے باپ کی پیٹی سے نکال نکال کرکارتوس اسی کو سستے میں بیچ رہاتھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔