جسٹس فائز، شوکت صدیقی کے معاملے پر کمیشن بنایا جائے، اپوزیشن

وقاص احمد / ایجنسیاں  جمعـء 3 جنوری 2020
عدالتی فیصلہ مشرف کو چھو بھی نہیں سکتا،بیرسٹرسیف،وزیراعظم کا احترام ہونا چاہیے، اورنگزیب،بہرہ مند ،صدر کے خطاب پر اظہار خیال

عدالتی فیصلہ مشرف کو چھو بھی نہیں سکتا،بیرسٹرسیف،وزیراعظم کا احترام ہونا چاہیے، اورنگزیب،بہرہ مند ،صدر کے خطاب پر اظہار خیال

 اسلام آباد:  مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملے پر کمیشن بنایا جائے جو فیصلہ کرے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے حوالے سے تاریخی فیصلہ کیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے مشاہداللہ نے کہا چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ بہادر آدمی ہیں لیکن ہم ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑگئے ہیں۔ سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے معاملے کو اگر کسی فورم پر ڈسکس نہیں کیا تو یہی سمجھا جائے گا وہ درست کہہ رہے ہیں۔ حکمران ریاست مدینہ کا نام بدنام کر رہے ہیں آپ تو ریاست کوفہ سے بھی بدتر ہیں۔ ثاقب نثار جیسے بندے نے آپ کو صادق اور امین قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں حریم شاہ اور صندل خٹک کا کیا کام ہے۔ عمران خان نے خود بتایا 1989 میں شوکت خانم کو نوازشریف نے50 کروڑ روپے اور زمین دی، مطلب شوکت خانم عمران خان نے نہیں بنایا صرف اپنی تختی لگائی ہے۔ اب یہ کہتے ہیں کہ شریف فیملی کے پاس ایون فیلڈ فلیٹس کہاں سے آئے؟

مشاہد اللہ نے کہا کہ آپ نوازشریف کو پانامہ میں سزا نہیں دے سکے،آپ نے اپنی پارٹی کے بندے جسٹس ثاقب نثار سے فیصلہ کرایا۔ ارشد ملک کو ثاقب نثار نے حکم دیا کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے اس کی ویڈیو کلپ بھی ہیں۔ ساری دنیا میں حکومتیں سبسڈیز دیتی ہیں۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پرویز مشرف کو نہ توکوئی ایسی سزا دے سکتا ہے اور نہ کوئی سزا دینے کیلئے پیدا ہوا ہے، جسٹس وقارسیٹھ کا فیصلہ مشرف کو چھو بھی نہیں سکتا، انہوں نے کسی اور کو سنانے کیلئے فیصلہ کیا، پرویز مشرف مجرم تھا ہی نہیں اس کیخلاف کیس سیاسی تھا اور سیاسی انداز میں چلایا گیا۔ مشرف نے آئین سے کوئی غداری نہیں کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔