ممبئی حملہ کیس، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش

قیصر شیرازی  جمعرات 7 نومبر 2013
اجمل قصاب کا اعترافی بیان حصہ ہے،ملزمان رپورٹ بھیجنے کاطریقہ چیلنج کریں گے۔ فوٹو: فائل

اجمل قصاب کا اعترافی بیان حصہ ہے،ملزمان رپورٹ بھیجنے کاطریقہ چیلنج کریں گے۔ فوٹو: فائل

راولپنڈی:  اسلام آبادکی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ممبئی حملہ سازش کیس میںایک گواہ کابیان ریکارڈ کر کے سماعت 20نومبر تک ملتوی کر دی اور مزید 5گواہان کے سمن جاری کردیے ہیں۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرچوہدری محمداظہر نے بھارت جا کر 4اہم بھارتی گواہان کے بیانات ریکارڈکرنے والے عدالتی کمیشن کی بھارت سے بھجوائی جانے والی رپورٹ باضابطہ طورپر عدالت پیش کر دی ہے۔ اس سربمہر رپورٹ کو آج 7نومبر کوعدالت میںفریقین کے وکلا کی موجودگی میں کھولاجائے گا۔ اس مقصدکے لیے عدالت نے تمام وکلاکو طلب کر لیا ہے۔ گواہ محمدعلی نے بیان میں بتایا کہ کیس کے گرفتار ملزمان اس کے پاس کراچی دفتر آئے اورکشتی کاایک انجن، ایک کشتی، سمندرمیں جان بچانے والی6جیکٹیں اورواٹرپمپ خریدے۔ ملزمان اس بابت خریداری کے لیے2بار اس کی دکان میں آئے۔

ملزمان سے برآمدہونے والے انجن، جیکٹس، واٹرپمپ اور کشتی کی بھی گواہ نے شناخت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ اسی نے ملزمان کوفروخت کی تھیں۔ ملزمان کے وکلانے اس پرجرح بھی مکمل کرلی۔ ذرائع کے مطابق عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں کمیشن کے سربراہ چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ممبئی نے پھانسی پانے والے مجرم اجمل قصاب کااعترافی بیان بھی باقاعدہ ریکارڈکا حصہ بنادیا ہے۔ ملزمان کے وکلانے اس فیصلے اوررپورٹ کوکمیشن کے ساتھ جانے والے عدالتی ریکارڈکے کسٹوڈین عدالتی اہلکارکی بجائے بعدمیں وزارت خارجہ کے ذریعے بھیجنے کوبھی عدالت میں چیلنج کرنے کافیصلہ کیاہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔