پاکستان میں آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا، عالمی ادارہ صحت

ویب ڈیسک  جمعرات 7 نومبر 2013
آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش سے ماں میں انفیکشن کے علاوہ بانجھ پن جیسے کئی قسم کے پوشیدہ امراض بھی لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے. فوٹو: فائل

آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش سے ماں میں انفیکشن کے علاوہ بانجھ پن جیسے کئی قسم کے پوشیدہ امراض بھی لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے. فوٹو: فائل

لندن: عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کارجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ماؤں کی عمومی صحت پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے نقصان دہ اثرات کے باعث ناپسندیدہ طریقہ قرار دیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود جنوبی ایشیا خصوصی طور پر پاکستان میں یہ طریقہ خوفناک حد تک پروان چڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح 15 فیصد تک ہونی چاہئے تاہم ترقی یافتہ ممالک میں اس کی شرح 25 سے 28 فیصد جبکہ بھارت اور چین میں 30 سے 33 فیصد ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری علاقوں میں اس کی شرح 50 فیصد سے بھی زائد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہروں میں نجی اسپتال اور زچہ و بچہ کے مراکز کے علاوہ سرکاری اسپتالوں میں تعینات طبی عملہ بھی بچوں کی پیدائش کے لئے یہی طریقہ تجویز کررہا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس طریقے سے جہاں عاقبت نااندیش لوگ اپنا وقت بچاتے ہیں بلکہ ان کے ذہن میں زچہ و بچہ کی جان بچانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی ہوس بھی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش سے ماں میں انفیکشن کے علاوہ بانجھ پن جیسے کئی قسم کے پوشیدہ امراض بھی لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے جس کی وجہ سے اسے دائمی تکالیف کا سامنا رہتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔