113 کروڑ روپے تیکس چوری کیس میں بلیک لسٹ کمپنی کے یونٹس پر چھاپہ

خصوصی رپورٹر  اتوار 5 جنوری 2020
ایف بی آرنے ریکارڈ قبضے میں لے لیا،ٹیکس ڈیفالٹرذکاالدین شیخ پابندی کے باوجودفرنٹ مین کے ذریعے پروڈکشن یونٹ چلارہاتھا۔ فوٹو: فائل

ایف بی آرنے ریکارڈ قبضے میں لے لیا،ٹیکس ڈیفالٹرذکاالدین شیخ پابندی کے باوجودفرنٹ مین کے ذریعے پروڈکشن یونٹ چلارہاتھا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ اینٹلی جننس اینڈ انویسٹی گیشن نے ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ ٹیکس چوری کے کیس میں بلیک لسٹ کمپنی کی جانب سے فرنٹ مین کے ذریعے چلائے جانیوالی کاروباری یونٹس پر چھاپے مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس ریکارڈ میں بلیک لسٹ فارول کاسمیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کا مالک113 کروڑوں روپے کا ٹیکس ڈیفالٹر ذکاالدین شیخ پابندی کے باوجود پروڈکشن یونٹ چلا رہا تھا جبکہ2016 سے سیلز ٹیکس ریکارڈ میں بلیک لسٹ فارول کاسمیٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کا مالک ذکاالدین شیخ کا اپنے فرنٹ مین ساجد خلجی، ندیم مرزا، علی شوکت اور وسیم ربانی نامی افراد کے ذریعے کراچی ملتان اور لاہور میں پروڈکشن یونٹ چلانے کا انکشاف ہوا تھا جن کے ذریعے کروڑ وں کا سیلز ٹیکس چوری کیا جا رہا تھا جس پر ایف بی آر کے ذیلی ادارے ڈائریکٹریٹ آئی اینڈ آئی لاہور نے مذکورہ بلیک لسٹ کمپنی کے مالک کی جانب سے فرنٹ مینز کے ذریعے کاروباری یونٹس کا سراغ لگا کر تمام شواہد اکھٹے کیے اور  ڈپٹی ڈائریکٹر عمر یار آفریدی، شہزاد احمد گوریہ، غلام مصطفی نیازی، احسان علی شاہ، اسماعیل اور دیگر سینئر افسران پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ لاہور میں کارروائی کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ساجد خلجی نامی فرد کے 2  یونٹس واقع ملتان روڈ اور دفتر واقع جوہر ٹاون پر چھاپہ مارا گیا اور بڑی مقدار بائیوآملہ شمپو کی غیر قانونی پرڈکشن اسٹاک کو سیز کیا گیا اور ریکارڈ قبضے لیا گیا۔

دوران کارروائی انکشاف ہوا کے ان یونٹس کا براہ راست تعلق ذکالدین شیخ سے پایا جاتا ہے اور ذکاالدین شیخ کراچی ملتان اور لاہور میں ایسے کئی یونٹس چلا رہا ہے جبکہ ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق  ٹیکس ڈیفالٹ پر ذکاالدین شیخ ،خالدہ پروین،وامق ذکا اور ذنیر احمد کے نام پر رجسٹرڈ برانڈ کی پروڈکشن پرایف بی آر کی جانب سے پابندی عائد ہے اور ایف بی آر نے 2017 میں ڈائریکٹر جنرل حقوق دانش(آئی پی او) کو اس حوالے سے مطلع کررکھا ہے کہ ذکاالدین شیخ اور ان کی فیملی کے نام پر رجسٹرڈ برانڈ کے ٹریڈ مارک اور کاپی رائیٹس کی خرید و فروخت یا پروڈکشن کے لیے سب لیز کرنے پر پابندی ہوگی اور ایف بی آر سے این او سی کے بغیر ادارہ برائے حقوق دانش کو ان ٹریڈ مارکس اور کاپی رائیٹس کے حوالے سے کسی قسم کی خرید و فروخت یا سب لیز کرنے کی پرسیڈنگ کو روک دیاجائے۔

آئی اینڈ آئی کے ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مزید تحقیقات جاری ہیں اور ممکنہ طور پر جلد ہی ذکاالدین شیخ اور ان کے فرنٹ مین کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔ اس سے پہلے بھی ٹیکس چوری کے کئی مقدمات میں ذکاالدین شیخ گرفتار ہو چکے ہیں اور ساجد خلجی کے ان یونٹس کو گزشہ سال بھی سیل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایف بی آر کے ماتحت ادارے کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس لاہور کی جانب سے پکڑے جانے والے میسز فورول کاسمیٹکس کمپنی پرائیوٹ لمیٹڈ کے ٹیکس چوری کے کیس میں مذکورہ کمپنی کی ٹیکس چوری نہ صرف ثابت ہوچکی ہے بلکہ کمشنر اپیلز، ایپلٹ ٹربیونل نہ صرف اپنے فیصلے دے چکے ہیں بلکہ اپیلیں اور نظر ثانی کی اپیلیں بھی مسترد کرچکے ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔