شام‘ شام‘ شام

انتظار حسین  جمعرات 7 نومبر 2013
rmvsyndlcate@gmail.com

[email protected]

اس وقت ایک سفرنامۂ دمشق ہمارے سامنے ہے۔ خیر سفر ناموں کی تو اب ہماری زبان میں بہتات ہے۔ ہونی ہی تھی۔ سیر و سفر کی صورتیں بہت نکل آئی ہیں۔ وہ زمانے گزر گئے جب سفر ایک جوکھم ہوا کرتا تھا۔ اور جب کسی کسی کے سفر کی صورت پیدا ہوتی تھی تو مائیں بہنیں بیویاں بازو میں امام ضامن باندھ کر قرآن کی ہوا دے کر یہ کہتے ہوئے رخصت کرتی تھیں کہ جیسے پیٹھ دکھا رہے ہو ویسے صورت بھی دکھانا۔ اب سفر ہمارے روزمرہ میں شامل ہے۔ سو روز روز تو امام ضامن نہیں باندھے جاتے۔

سفر بھی ہمارے لیے دو رنگ کے ہیں۔ ایک تو دنیاوی سفر ہیں۔ لندن‘ پیرس‘ نیو یارک اور ہاں دبئی۔ مگر وہ جو ہمارے دل و دماغ میں دوسرے رنگ کے شہر بسے ہوئے تھے مکہ مدینہ کربلا۔ ادھر کی راہیں بھی تو ہمارے لیے کھل گئی ہیں۔ ایسے سفر نامے بھی بہت لکھے جا رہے ہیں۔ کتنے ایسے سفر ناموں کو ہم نے اپنے کالموں میں سمیٹا ہے۔ ایسے سفر ناموں کا معاملہ ہم نے یہ دیکھا کہ ان میں عقیدت کا مظاہرہ تو بہت ہوتا ہے۔ مگر آورد کا رنگ زیادہ‘ آمد کم کم۔ ویسے زیارت گاہ پر پہنچ کر کیفیت تو طاری ہوتی ہو گی۔ اور یقیناً ہوتی ہے مگر اس کیفیت کے بیان کا سلیقہ بھی تو ہونا چاہیے۔ جب قلم ہی زندگی میں پہلی مرتبہ اٹھایا ہو تو یہ سلیقہ کہاں سے آئے گا۔

یہ جو سفر نامے اب ہم پڑھ رہے ہیں اس کا امتیازی پہلو یہی ہے کہ شروع سے آخر تک ایک سرشاری کی کیفیت ہے۔ جیسے سفر روحانی تجربہ بن گیا ہو۔ ویسے شاید صورت یہی ہے۔ یہ اصل میں شائستہ زیدی کا سفر نامہ ہے۔ اور سفر نامے کا عنوان ہے۔ ’شام‘ شام‘ شام‘

یہ کس شہر کا بیان ہے۔ زمیں جس کی چہارم آسماں ہے۔ کم از کم اس مسافر کے لیے تو اس شہر کی یہی صورت ہے۔ تو اس ذکر میں یہ مت سوچئے کہ آپ کو آج کے دمشق کی کوئی جھلک نظر آئے گی۔ آج تو پیش نظر ہی نہیں ہے۔ سفر بیشک پی آئی اے سے کیا۔ لیکن جہاز سے اتر کر جب اس شہر میں قدم رکھا اور اس ہوا میں سانس لیا تو آج کا زمانہ تو ہوا ہو گیا۔ ماضی زندہ ہو کر سامنے آ کھڑا ہوا اور تاریخ میں سفر شروع ہو گیا۔ یہ مت پوچھئے کہ کونسی تاریخ کیونکہ یہاں تو ماقبل تاریخ بھی تاریخ کے ساتھ اپنے درشن کرا رہی ہے۔ ہمارے عقیدے کے حساب سے تاریخ کا وہ دھندلکا جس میں آدمی نے روئے زمین پر اتر کر ابھی قدم ہی رکھا تھا کہ ایک قتل کی واردات ہو گئی۔ ہابیل کی قبر دیکھی۔ کہتی ہیں کہ ’’بہت لمبی قبر ہے… تاریخ کا پہلا مظلوم‘ پہلا مقتول‘‘۔

اور ہاں یہیں کہیں اصحاب کہف کا غار بھی ہے۔ جو سنتے ہیں اندر دور تک چلا گیا ہے۔ کچھ دور بعد اس میں آگے جانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ غار ہے جس کے متعلق لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہاں اصحاب کہف سو رہے ہیں‘‘۔ جاگے تو تھے۔ پھر سو گئے ع

دیدیم کہ باقیست شب فتنہ غنودیم

اور پھر حضرت زینبؓ کا روضہ۔ عجب جگہ ہے۔ ماقبل تاریخ اور تاریخ دونوں ایک دوسرے سے کس طرح متصل ہیں۔ یہیں ہابیل کی قبر ہے۔ یہیں کہیں ایک عقیدے کے مطابق حضرت امام حسینؓ کا سر دفن ہے اور کتنا کچھ دفن ہے۔ مزاریں ہی مزاریں۔ مزار حضرت بلال حبشیؓ۔ مزار حضرت اسماء بنت حمیس۔ مزار سیدہ میمونہ بنت الحسن اور مزار سیدہ حمیدہ بنت مسلم بن عقیل۔ مزار عبداللہ ابن امام زین العابدین مزار عبداللہ ابن امام جعفر صادق۔ ضریح ام کلثوم بنت علی۔ بی بی سکینہ کا روضہ۔ ارے کہاں تک نام گنائیں۔ لگتا ہے کہ سارا خاندان رسالت یہاں اسودۂ خاک ہے۔ یہ کچھ دیکھ کر ایک خیال تو آدمی کے ذہن میں ضرور آنا چاہیے۔ یہ خاندان اس شہر ستمگر میں کتنا کچھ سہہ کر گیا تھا۔ اور ہاں بعد میں بھی جب حضرت زین العابدین سے کسی نے سوال کیا؎

عابد سے جب وطن میں کسی نے کیا کلام

گزرے ستم زیادہ کہاں تم پہ یا امام

مولا نے تین بار کہا‘ شام‘ شام‘ شام

مرثئے کے ایک مقام ہی سے تو اس کتاب کا عنوان مستعار لیا گیا ہے۔ ہاں ایسے جانکاہ تجربے کے بعد پھر یہ اجڑا خاندان اسی شہر خراب کا رخ کرتا ہے بلکہ خاندان کے جو افراد مدینہ میں رچے بسے تھے انھیں بھی سمیٹ کر اسی خرابے میں لے آیا۔ شائستہ زیدی نے کچھ اس کا جواب تو دیا ہے۔ حضرت زینب کی دوبارہ یہاں واپسی کی یہ توجیہہ کی ہے کہ ان کے شوہر نامدار کا بڑا کاروبار تھا اور دمشق دارالخلافہ ہونے کے ناتے بڑا کاروباری مرکز تھا۔ تو وہ یہاں منتقل ہو گئے تھے۔ یہ جواب تشنہ ہے۔ ایک حضرت زینب پہ موقوف نہیں۔ پورا گھرانا ہی یہاں آ کر بس گیا۔ کیا یہ سوچ کر کہ جہاں خاک بسر ہوئے تھے اور اسیری کا رنج سہا تھا اب وہیں چل کر اسوہ خاک ہونا ہے۔ جہاں ہمارے اتنے چاند ستارے جہاں تہاں سوئے پڑے ہیں وہاں ہم بھی کیوں نہ چل کر ان کے قرب میں مٹی ہو جائیں۔

خیر ایسے سوالات اور بھی ہیں۔ اس وقت تو ایک سفر شوق کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ کیسا شوق کا عالم ہے اور کتنا تجسس ہے۔ اس سارے علاقے کی خاک چھان ڈالی۔ ایک ایک اینٹ اٹھا کر دیکھی جا رہی ہے۔ شہر کا‘ اس کے نواح کا‘ قریب و دور کا ایک ایک گوشہ‘ ایک ایک نکڑ۔ اچھا یہ وہ زنداں ہے‘ اور یہ اس زنداں کی سیڑھیاں ہیں۔ اور یہ وہ پتھر ہے جہاں امام کا سر رکھا گیا تھا اور یہاں اس سے خون رس رس کر گرا تھا۔ دمشق‘ حلب‘ کوفہ‘ کربلا۔ اس سارے علاقہ میں کتنا کچھ بکھرا پڑا ہے۔ اور ہاں مسجد کوفہ؎

جب مسجد کوفہ کے برابر حرم آئے

زینب کو بہت یاد علی کے حشم آئے

شائستہ نے کمال کیا ہے۔ اس ساری ظالم زمین کو جو اب مظلوموں شہیدوں کے فیض سے مقدس بن چکی ہے کس تفصیل کے ساتھ چھانا ہے اور کس سرشاری کے عالم میں کتنے شوق سے اور جذبے سے اسے بیان کیا ہے کہ پورا ماضی خواب سے جاگ کر ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ و تابندہ نظر آنے لگتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔