امریکا نے جان بوجھ کر حکیم اللہ محسود کو ہلاک کرکے مذاکرات سبوتاژ کئے، عمران خان

ویب ڈیسک  ہفتہ 9 نومبر 2013
طالبان سے مذاکرات کے لئے ڈرون حملے ہر صورت روکنا ہوں گے اور ہم مذاکرات کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ ہیں، عمران خان  فوٹو: رائٹرز

طالبان سے مذاکرات کے لئے ڈرون حملے ہر صورت روکنا ہوں گے اور ہم مذاکرات کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ ہیں، عمران خان فوٹو: رائٹرز

لندن: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا اگر چاہتا تو حکیم اللہ محسود کو پہلے بھی ہلاک کرسکتا تھا لیکن اس نے جان بوجھ کر اسے اس نازک موقع پر ہلاک کرکے مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ کرکے امریکا نے ثابت کیا ہے وہ پاکستان میں امن کے حق میں نہیں، امریکا شمالی وزیرستان میں بدامنی کی فضا برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ 2014 میں افغانستان سے انخلا کے موقع پر مقامی طالبان لڑنے کے لئے افغانستان نہ جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افغانستان میں جنگ ہار چکے ہیں، طالبان گوریلا جنگ کے ماہر ہیں اور انہیں ہرانا آسان نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے لئے ڈرون حملے ہر صورت روکنا ہوں گے اور ہم مذاکرات کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امریکا کے خلاف نفرت انتہا کو پہنچ چکی ہے، طالبان سمجھتے ہیں کہ ہم امریکا کے غلام ہیں کیونکہ ہم ان سے ڈالرز لے کر ان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں اس لئے انہوں نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور فوج کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تاہم اب ہمیں دہشت گردی کے خلاف برسوں سے جاری اس پرائی جنگ سے ہر صورت باہر نکلنا ہوگا اور یہی ہمارے حق میں بہتر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔