ہم امریکا کے ساتھ ہیں

محمد عمران چوہدری  اتوار 12 جنوری 2020
پاکستان اس وقت امریکا کا 56 واں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔  (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان اس وقت امریکا کا 56 واں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکا ایران کشیدگی بالآخر اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ آنے والے چند دنوں میں رسمی کارروائیوں کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے۔ امریکی ایوان نمائندگان میں امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد کا منظور ہونا اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اس قرارداد کو ڈیموکریٹس کے اکثریتی ایوان میں 194 ووٹوں کے مقابلے میں 224 ووٹوں سے منظور کیا گیا ہے۔

امریکا ایران کشیدگی کے خاتمے سے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان بھی سکھ کا سانس لے گا۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قاسم سلیمانی کو مارنے کے بعد امریکا نے پہلے سعودی عرب اور پھر پاکستان سے رابطہ کیا۔

ایران کا ساتھ دینے کی خواہش کے باوجو ہم سب امریکا کے ساتھ ہیں۔ ہر وہ پاکستانی امریکا کے ساتھ ہے جو کرپشن کرکے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کررہا ہے۔ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے ساتھ امریکا کو بھی مضبوط کررہا ہے۔ کیوں کہ پھر مالی خسارے کو پورا کرنے کےلیے حکومت وقت کو امریکا کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ہر وہ پاکستانی جو کرپٹ سیاستدانوں کو ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیج رہا ہے، اور پھر یہ کرپٹ لوگ ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر وسیع تر ذاتی مفاد میں امریکا بہادر کے احکامات کی تکمیل شروع کردیتے ہیں۔ ہر وہ پاکستانی امریکا کے ساتھ ہے جو پاکستانی اشیا کے بجائے امریکا کی بنی ہوئی چیزیں استعمال کرتا ہے۔ شائد ایک قلیل تعداد ہوگی جو اپنے عمل سے بھی ایران کے ساتھ ہو، بصورت دیگر ہم سب من حیث القوم امریکا کے ساتھی ہیں۔

یہ ہم سب کی اجتماعی کوشش ہی تھی کہ قانونی، اخلاقی جواز ہونے کے باجود ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ہم زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے، اور ہمیں اسے باعزت طور رہا کرنا پڑا۔ دیگر وجوہات کے ساتھ اس کی ایک بنیادی وجہ ہمارا معاشی طور پر کمزور ہونا تھا۔ معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے ہم امریکا اور اس کے دوستوں پر انحصار کرتے ہیں، جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے کہ وطن عزیز میں ہونے والے ہر فیصلے میں امریکا ہوتا ہے۔ امریکا ہماری قومی زندگی میں اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ وقت کے وزیراعظم کو بھی جب خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ امریکا بہادر سے ہی رابطہ کرتا ہے۔ ہم امریکہ کے بغیر ادھورے ہیں۔ امریکا اگر کہے تو جہاد شروع کروا دیتے ہیں اور جب ضرورت پوری ہوجائے تو انہی مجاہدین کے خلاف جہاد شروع کردیتے ہیں۔

امریکا سے محبت ہمارے خواص ہی نہیں کرتے، بلکہ عوام بھی امریکا سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جس کا واضح ثبوت پاک امریکا تجارت کا 6.6 بلین ڈالر ہونا ہے۔ پاکستان اس وقت امریکا کا 56 واں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان سے تجارت کی بدولت امریکا میں 10000 افراد کو روزگار میسر ہے۔ پاک امریکا تجارت کا بڑھتا ہوا حجم اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا سے عوام کی محبت میں دن رات اضافہ ہورہا ہے۔

اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ہاں میں بھی دنیا کی ہاں ہو۔ ہم پر فیصلے مسلط نہ کیے جائیں بلکہ ہم سے فیصلے کروائے جائیں۔ ہمیں حکم نہ دیا جائے، بلکہ قائل کیا جائے۔ ہمارے پاسپورٹ کی بھی عزت ہو۔ ایئرپورٹس پر ہمارے کپڑے اتروانے والوں کو یقین ہوکہ ان کے بھی کپڑے اتروائے جائیں گے۔ ہماری حیثیت ٹشو پیپر کے جیسی نہ ہو۔ ہمارے وزیراعظم کو بھی دیار غیر میں کچھ اس طرح عزت ملے کہ میزبان ملک کا وزیراعظم ڈرائیور بن جائے۔ تو ہم سب کو صرف پاکستانی بننا ہوگا۔ آنے والے کل کی خاطر آج قربان کرنا ہوگا۔ ہر کام کرنے سے پہلے دین، ایمان اور پاکستان دیکھنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمارا دل تو ایران کے ساتھ ہوگا اور عمل سے ہم امریکا کے ساتھ ہوں گے۔ آئیے آج ہم عہد کریں کہ جو ہوا سو ہوا، آج سے ہم صرف اور صرف اسلام اور پاکستان کو مقدم رکھیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد عمران چوہدری

محمد عمران چوہدری

بلاگر پنجاب کالج سے کامرس گریجویٹ ہونے کے علاوہ کمپیوٹر سائنس اور ای ایچ ایس سرٹیفکیٹ ہولڈر جبکہ سیفٹی آفیسر میں ڈپلوما ہولڈر ہیں اور ایک ملٹی اسکلڈ پروفیشنل ہیں؛ آپ کوچہ صحافت کے پرانے مکین بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔