تعلیم کا بیڑا غرق…

شیریں حیدر  اتوار 12 جنوری 2020
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

میں ایک ماں ہوں ، جس کے تین بچے اسکول میں پڑھتے ہیں۔ میں اور میرے شوہر دن رات جان مار کر کام کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو چکی بنائے ہوئے ہیں تا کہ انھیں وسائل پیدا کر سکیں کہ اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھا سکیں ۔ بچے ہم سب ماں باپ کی وہ دولت ہوتے ہیں جسے وہ اپنے اچھے مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہماری ہر خوشی اور غم کا تعلق ہماری اولاد سے ہوتا ہے ۔ میں آپ کو بتاتی ہوں کہ میرے بچوں کو اس ملک میں تعلیم کے نام پر کیا مل رہا ہے ۔

سال کے باون ہفتوں میں ، ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں ہوتی ہیں، وہ کل ایک سو چار دن بنتے ہیں ۔ گرمیوں کی چھٹیاں اڑھائی ماہ کی بنتی ہیں ، یہ کل پچھتر دن بنتے ہیں، کئی بار اسی بھی ہو جاتے ہیں ۔ اس میں سے ہفتہ اور اتوار کے وہ دن نکال دیں جو کہ ہم پہلے ہی شمار کرچکے ہیں، لگ بھگ بیس دن تو یہ چھٹیاں ساٹھ دن بن جاتی ہیں۔ سردیوں کی چھٹیاں پہلے دن ہوا کرتی تھیں، اب چند برس سے پندرہ دن تک ہو جاتی ہیں اور اس دفعہ اکیس دسمبر سے لے کر ، حکومت کے حالیہ اعلان کے مطابق، بارہ جنوری کو اسکول کھلنے تک بائیس دن بنتے ہیں، اس میں سے بھی ہفتہ اور اتوار نکال دیں تو سولہ دن بن گئے۔ اب تک یہ شمار ایک سو اسی تک پہنچ چکا ہے۔

دونوں عیدین پر تقریبا آٹھ دن کی چھٹی بن جاتی ہے۔ عید میلاد النبی، عاشورہء محرم، یوم کشمیر، یوم شہادت بے نظیر، یوم پاکستان، شب برات، مزدوروں کا عالمی دن۔ یہ سب ملا کر سولہ دن اور بن گئے اور اب شمار 196 پر پہنچ گیا ہے۔ چلیں چار دن اور لگا لیں، کبھی کوئی ہڑتال تو کبھی دھرنا یا ہمارا بچہ ہی بیمار پڑ جاتا ہے۔ پہلی ٹرم کے امتحانات سے قبل نومبر میں بچوں کو پانچ دن کی چھٹی ملتی ہے، دوسری ٹرم کے امتحانات سے قبل، مئی میں پانچ دن۔ یہ چھٹیاں امتحانات کی تیاری کے لیے دی جاتی ہیں ، جو کہ بچوں سے زیادہ اسکول والوں کی امتحانات کی تیاری کی غرض سے ہوتی ہے۔ اسی طرح امتحانات ختم ہوتے ہیں تو کئی اور دن، جو کہ کم از کم پانچ پانچ دن ہوتے ہیں، اس دوران امتحانی پرچے چیک کر کے نتائج تیار کیے جاتے ہیں۔ سو، بیس دن اور چھٹیوں کے بن گئے اور شمار220 تک پہنچ گیا۔

سال میں دو دفعہ بچے کسی تفریحی مقام پر دورے کے لیے جاتے ہیں ، اس میں دو سے چار دن نکل جاتے ہیں، اسپورٹس ڈے کی تیاری اور اس دن کو ملا کر کم از کم سات دن ایسے ہوتے ہیں جب بچوں کی پڑھائی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اسکول کے سالانہ ڈے کی ریہرسل اور اس تقریب کے دن کو ملا کر اگر دس دن لگا لیں تو یہ کل بیس دن بن جاتے ہیں۔ کل شمار اب 240 تک پہنچ گیا ہے ۔ یہ سب وہ دن ہیں جن دنوں میں ہمارے بچے چھٹی پر ہوتے ہیں ۔ سال کے 365  دنوںمیں سے 240 دن نکال دیں تو جو باقی دن بچتے ہیں، وہ 125  ہیں ۔

ہم میں سے کوئی بھی باشعور شخص جان سکتا ہے کہ ہمارے بچوں پر کتابوں کا جو بوجھ لدا ہوا ہے اس کے لیے سال میں ایک سو پچیس دن کافی نہیں ہیں ۔ ہمارے ہاں ہر ایک انہونی اور حادثے پر ، سب سے پہلے تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کے ان ممالک میں بھی کہ جہاں کئی کئی فٹ برف پڑتی ہے اور درجہء حرارت منفی سے پچاس پچاس ڈگری تک نیچے چلا جاتا ہے، وہاں بھی بچوں کے اسکول بند نہیں ہوتے اور نہ ہی سردی کے موسم میں ان کی کھیلوں کی سرگرمیاں بند کی جاتی ہیں ۔ ہم ایسی قوم ہیں جو کہ چھٹی کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں اور دعائیں تک کر رہی ہوتی ہیں کہ پرنسپل کا کوئی مر جائے تو بھی چھٹی مل جائے ۔

بد قسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کے نظام کا ہر دور میں بیڑا غرق ہی رہا ہے۔ ملک کے زیادہ تر علاقے ایسے ہیں جہاں تعلیمی اداروں کے نام کی کوئی سہولت ہے ہی نہیں ۔ لاکھوں کے حساب سے ایسے اسکول بھی ہیں جن کا صرف کاغذوں میں وجود ہے، ان اداروں میں اساتذہ کی بھرتیاں ہوتی ہیں، عمارتوں کا کرایہ یا تعمیر کے اخراجات ، اسکولوں کا فرنیچر اور اساتذہ اور اسٹاف کی تنخواہیں، باقاعدگی سے حکومتی خزانے سے جاتی ہیں ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انھیں  ghost schools کا نام دیا گیا اور بڑے پیمانے پر ان کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کی گئی… مگر کیا اس وقت کوئی  ghost school نہیں ہے؟ کیا اس عفریت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا تھا یا اب بھی یہ ’’ تعلیمی نظام ‘‘ چل رہا ہے ۔

ہمارے سیاسی لیڈر اپنے علاقوں میں ساری سہولیات پہنچانے کا وعدہ کرتے ہیں اور کسی حد تک کوشش بھی کرتے ہیں، ماسوائے تعلیم کے۔ ان کے خیال میںاگر ان کے ووٹر پڑھ لکھ گئے تو ان کا تختہ الٹ جائے گا کیونکہ وہ باشعور ہو جائیں گے اور انھیں اچھے اور برے کی تمیز آ جائے گی۔ ان کا یہ خوف بالکل بے جا ہے، ہمارے ہاں تو تعلیم صرف رٹ لینے اور گریڈ اکٹھے کرلینے کا نام ہے ۔ یہانتک کہ وہ اسکول جو انگریزی میڈیم اور ملک کے بہترین اسکول ہونے کا دعوی کرتے ہیں، ان کے ہاں بھی زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ ان کے بچوں نے بائیس مضامین میں او لیول میں اے پلس گریڈ لیا ہے، کسی نے تیس مضامین میں اور کسی نے چھتیس مضامین میں ۔ جب ایک عام او لیول کے لیے ضرورت آٹھ مضامین کی ہو تو اتنے اضافی مضامین میں چھ چھ ماہ تیاری کرو ا کے ہر بارچھ چھ مضامین کا امتحان دلوا کر تین سال میں درجنوں مضامین میں او لیول یا اے لیول کی ڈگریاں لینے کا کیا اضافی فائدہ ہے؟ اس کی سمجھ مجھے اس نظام کا حصہ ہونے کے باوجود نہیں آئی۔ ایک سینئر استاد کے درجے پر پہنچ جانے کے باوصف میں اس مقام تک نہیں پہنچ سکی ہوں کہ اسکول کے پالیسی کے معاملات میں مداخلت کر سکوں ۔

سمجھ تو مجھے اس بات کی بھی نہیں آئی، اپنے بارے میں۔ میں خود ایک نجی ادارے میں استاد ہوں ، میںنے اس ملازمت کو بہت سال پہلے ایک ان ٹرینڈ استاد کے طور پر شروع کیا، ایم اے انگریزی کر رکھا تھا مگر چونکہ تعلیم سے متعلق ڈگری حاصل نہیں کی تھی تو میرا ماہانہ مشاہرہ اتنا ہی مقرر کیا گیا تھا، جتنا کہ حکومت نے کم از کم اس مزدور کے لیے اس وقت مقرر کر رکھا تھا کہ جسے الف بے بھی نہیں آتی اور وہ صرف بوجھ ڈھو کر کما سکتا تھا۔ ہم بھی تو کتابوں کے بوجھ ڈھونے والے مزدور ہی ہیں۔ اپنی ایک ڈگری کے ساتھ ملازمت کرتے ہوئے، بچے پیدا کر کے پالتے ہوئے، کتنے ہی سال کا سفر کر کے عمر عزیز کے قیمتی سال تعلیمی مزدوری کرتے ہوئے گزار دیے اور اب بھی تنخواہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ، مزدور کے کم ازکم مشاہرے سے چند ہی ہزار زائد ہوئی ہے۔ ایم اے انگریزی کے بعد، ایم اے ایجوکیشن، ایم ایڈ اور مونٹیسوری کی ٹریننگ نے عمر کے کئی سال اور تنخواہ کا بیشتر حصہ لے لیا ۔

مجھے تو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں نے صرف میٹرک پاس کر کے ہی ٹیچنگ کیوں نہ شروع کر دی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ تجربہ تو میرا ہو ہی جانا تھا۔ یونہی اینا قیمتی وقت اور سرمایہ ڈبویا۔ اس وقت مجھے عقل ہوتی اور میں انتظار کرتی تو پی ٹی آئی کی حکومت آنے تک، تعلیم کے میدان میں میرا اچھا خاصہ تجربہ ہو جاتا۔ مجھ پر بھی حکومتی ایوانوں سے کوئی نظر کرم پڑ جاتی اور اگرمیں، کے پی کے ، کے وزیر تعلیم، اکبر ایوب خان کی طرح، صوبہ پنجاب میں وزیر تعلیم بن جاتی۔

’’آخر تجربہ بھی کوئی حیثیت رکھتا ہے، صرف تعلیمی ڈگریاں ہونا ضروری نہیں ہے!!‘‘ ان کے پاس ماضی میں بھی حکومت میں رہنے کا تجربہ بھی ہے، ایوب خان کا پوتا ہونے کی ڈگری بھی ہے اور ایک بڑا ووٹ بینک رکھتے ہیں ۔ اگرچہ ان کی قابلیت کے شخص کی بطور وزیر تعلیم تقرری، ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں مگر مجبوری ہے شاید حکومت کی کہ انھیں دینے کو اس وقت کوئی اور محکمہ نہیں ہے ۔ کاش اس ملک میں الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم بی اے کی ڈگری کے اصول کو برقرار رکھا جاتا تو معاشرے میں عدم توازن نہ ہوتا جہاں کئی کئی ڈگریوں کے حامل عمر بھر ایک اسکول میں استاد بنے رہتے ہیں اور جن کے پاس پیسہ اور وسائل ہیں وہ اپنی کم تعلیم کے باوجود ہم پر وزراء کے طور پر مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔

بد قسمتی سے ہمارے خان صاحب کے پاس ارادے ہیں، خواہشات ہیں اور ملک سے وفاداری کے جذبات ہیں۔ نہیں ہے تو تجربہ نہیں ہے ورنہ وہ اپنے ارد گردموجود گھاک اور تجربہ کار لوگوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر، جلد بازی میں، کرسی بچانے کی خاطر یوں احمقانہ فیصلوں پر اپنی مہریں نہ ثبت کر رہے ہوتے ۔ اللہ ہی حافظ ہے اس ملک کا، اس ملک کے نظام تعلیم کا اور… خان صاحب کا!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔