چین میں برف سے بنی عمارات اور شاہکار پر سیاحوں کا ہجوم

ویب ڈیسک  پير 13 جنوری 2020
چین میں ہربن آئس فیسٹول میں اس سال ڈیڑھ کروڑ سے زائد سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ فوٹو: فائل

چین میں ہربن آئس فیسٹول میں اس سال ڈیڑھ کروڑ سے زائد سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ فوٹو: فائل

چین کے شہر ہربن میں رنگ برنگی روشنیوں سے منور برف سے بنے ایسے منور شاہکار تخلیق کیے گئے ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے، اس میلے کو تاریخی اہمیت حاصل ہے جو ’ہربن میلہ برائے برف‘ کے نام سے دنیا بھر میں مشہورہے۔

1999ء سے جاری اس میلے میں چینی دیومالائی اژدہے، خوبصورت عمارتیں، مجسمے اور بہت پیچیدہ عمارتیں 100 فیصد برف سے ہی تراشی جاتی ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ یہ موسمِ سرما کی ایک تفریحی روایت بن چکا ہے۔

گزشتہ 21 برس سے جاری یہ میلہ سال بہ سال بڑھتے بڑھتے دنیا کا سب سے بڑا سنو اینڈ آئس فیسٹول بن چکا ہے۔ یہاں بہترین برفیلے فن پاروں کا مقابلہ بھی ہوتا ہے اور برف تراشنے والے فنکاروں کو انعامات بھی دیئے جاتے ہیں۔ واضح رہے کے ہربن شہر دنیاکے سرد ترین علاقوں میں سے ایک ہے لیکن شدید ٹھنڈ میں لوگ اسے دیکھنے ضرور آتے ہیں۔

بعض افراد کے مطابق برف سے بنے شاہکار بنانے کا سلسلہ یہاں 1999ء سے قبل شروع ہوا تھا لیکن اسے بین الاقوامی پذیرائی 1999ء سے ملنا شروع ہوئی اور اب دنیا بھر میں ہربن فیسٹول کا نام مشہور ہوچکا ہے۔

اس سال برف سے بنے شاہکاروں نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے تراشی ہوئی اشیا کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔ پانچ جنوری سے اس شہر برفاں کا آغاز ہوچکا ہے اور کل 2 لاکھ مربع میٹر برف سے تعمیرات بنائی گئی ہیں، اس بار ڈیڑھ لاکھ سیاح ایسے دیکھنے آئیں گے۔

میلے کی انتظامیہ کے مطابق خاص تربیت یافتہ ماہرین ہی کوئی اچھا فن پارہ ڈھال سکتے ہیں اور ایک مجسمے پر کام کرتے ہوئے کئی ماہ صرف ہوجاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔