سیاستدان : کہتے کچھ، کرتے کچھ ہیں!

علی احمد ڈھلوں  منگل 14 جنوری 2020
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

ایک وقت تھا جب سیاست ہوتی تو جسم و جان میں ایک تحریک پیدا ہوتی، سیاست ایک ایسا خوبصورت اور بہترین انسانی زندگی گزارنے کے اصول طے کرنے والا عمل ہے جس کے ہر مفہو م کے اندر فلاح و صلاح کے بہترین معنی پنہا ںہیں۔

لیکن یہاں ’’سیاست ‘‘ کو بدل دیا گیاہے ، اسے منفی انداز میں پیش کیا جانے لگا ہے، اگر اسلام کے پوائنٹ آف ویو سے ہی سیاست کو دیکھیں تو حضرت امام غزالی سیاست کی تعریف یوں کرتے ہیںکہ سیاست وہ تدبیر ہے جو زندگی کے وسائل اور ان کے دائرے میں معاشرے کے افراد کے درمیان باہمی محبت،تعاون اور اتحاد پیدا کرے… لیکن ہم نے سیاست میں ’’قبضہ گروپ‘‘ کو متعارف کرا کے دنیا میں خوب نام کمایا ہے۔

خیر موجودہ دور میں سیاست کئی رنگوں میں دستیاب ہے۔ کہیں بادشاہت ہے تو کہیں مغربی جمہوریت۔کہیں فوجی حکومت ہے تو کہیں مذہبی حکومت۔کسی ملک میں یک جماعتی کمیونسٹ حکومت ہے تو کہیں کثیر الجماعتی جاگیردارانہ حکومت۔پاکستان میں گزشتہ سترسال میں دو طرح کی سیاست رہی ہے۔ جمہوری سیاست اور آمرانہ سیاست۔ آمرانہ سیاست میں بھی وہی سیاست دان ہوتے ہیں جو جمہوری سیاست میں ہوتے ہیں مگر دونوں طرح کی سیاست میں فرق محض ’’لیڈر‘‘ کا ہوتا ہے اور یہیںسے ہماری سیاست پروان چڑھتی ہے۔

لیکن موجودہ حالات میں ہماری سیاست نے پروان کیا چڑھنا ہے اُلٹا سیاستدانوں نے سیاست کو ہی بدنام کر دیا ہے، حالانکہ سیاست ایک مقدس لفظ اور عمل ہے جس کا مطلب انسانی خدمت کے ہیں۔ یہ ایمانداری کا کھیل تھا، مدبروں کا کھیل تھا، جو مثبت انداز میں کھیلا جاتا تھا… لیکن اب ہم نے اسے قبضہ گروپ کے سپرد کر دیا ہے۔ یہاں نہ کوئی قول کا پکا، نہ وعدے کا پورا، نہ عزت کا خیال، نہ عوام کا خیال،نہ قانون کی پاسداری ۔ کوئی کہے ووٹ کو عزت دو، اگلے ہی لمحے ایسا یوٹرن کہ سب سیاستدانوں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے۔یعنی ووٹ کو عزت دو والوں کا اعلان بغاوت غیر مشروط مفاہمت میں بدل گیا اور اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے اصول پھر اسی مفاد پر قربان ہوگئے ۔

جمہوریت کی بالادستی کا فرسودہ خواب دکھانے والے عادی منکر ہیں یہ اس سے پہلے بھی کئی بار جمہوریت کی بالادستی کا عہد کر کے صراط مستقیم سے پھسلے، یہ سنبھلنے اور پھسلنے کا ڈرامہ ماضی میں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوتا رہا ہے۔نواز لیگ کا قصہ سب سے عجیب ہے (کوشش ہے اگلا پورا کالم ن لیگ کی سیاست پر لکھوں)اگرچہ یہ پرانی جماعت ہے مگر یہ پارٹی نئی نئی نظریاتی ہوئی ہے۔ سول سپرمیسی کی ازسر نو تشریح کا نعرہ لگا کر ہی نواز شریف نے نظریاتی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ مریم نواز کی سیاست کا محور و مرکز بھی یہی نعرہ تھا۔ یہ ابہام محض بہلاوا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ اور شہباز شریف کا بیانیہ الگ ہے۔

آپ پیپلزپارٹی کو دیکھ لیں، ن لیگ سے مفاہمت نہ کرنے کی قسمیں کھائی جاتی تھیں، پھر تاریخی این آر او لینے کے لیے دونوں جماعتیں مشرف کے خلاف اکٹھی ہوئیں اور پھر اقتدار کے مزے بھی لیے۔ تاریخ کھنگال کر دیکھ لیں آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ کب کیا کیا ہوتا رہا ہے۔ برسوں پہلے یہ ان دنوں کی بات ہے جب بے نظیر بھٹو مرحومہ اور نواز شریف کے درمیان گھمسان کا رن جاری تھا۔

بے نظیر بھٹو نواز شریف کو ’’نوازو‘‘ اور نواز شریف بے نظیر بھٹو کو ’’سیکیورٹی رسک‘‘ کہا کرتے تھے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ پاکستان پانی پت کے میدان کا سا منظر پیش کر رہا ہوتا تھا۔ پھر پیپلزپارٹی جب اقتدار میں آئی تو بی بی کے قتل کا ’’بدلہ‘‘ لینے کا فیصلہ کیامگر 5سال اقتدار میں رہنے کے بعد جان بوجھ کر کچھ نہ کیا۔ پھر موجودہ حالات میں اور پی پی پی کے سابقہ ادوار میں ایم کیو ایم کے ساتھ ہاتھ ملایا، پھر پی پی پی ق لیگ سے ہاتھ نہ ملانے کا اعلان کرتی رہی لیکن اُس نے ’’قومی مفاد ‘‘ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔

آپ پی ٹی آئی میں موجود سیاستدانوں کی بات کر لیں، بلکہ وزیر اعظم عمران خان کی بات کر لیں نیویارک میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا، میں انھیں، نہیں چھوڑوں گا، پیسہ دو اور گھر جاؤ، کسی کو این آرا ونہیں ملے گا… وغیرہ لیکن ’’شیروں‘‘ نے این آراو بھی لے لیا، باہر بھی چلے گئے اور اپنے پارٹی رہنماؤں کے لیے بھی راستے ہموار کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، آئی ایم ایف نے بھی سن لیا، بلکہ سننا کیا تھا اُس نے تو بدلہ لینے کا تہیہ کر لیا، پھر کیا تھا، چھ مہینے ناک رگڑوا کر 6ارب ڈالر قرضہ دیااور وہ بھی تین سال کی قسطوں میں اور اپنی ساری شرائط بھی منوا لیں۔ پھر عوام کو فرمایا گیا کہ ٹیکس ریکوری بہتر ہونے سے حکومت خود مختار ہوگی اور بینکوں سے قرض نہیں اُٹھانا پڑیں گے۔

پتہ چلا کہ پچھلی دو سہ ماہیوں میں 200، 200ارب روپے کم اکٹھے ہوئے ہیں۔ پھر اقتدار میں آنے سے پہلے ایم کیو ایم پر مقدمے بنائے گئے، مگر جب اقتدار ملا تو چند سیٹوں والی ایم کیو ایم کے پیچھے دم ہلاتے پھرتے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیںیعنی بقول راحت اندوری، اعتبار ہی اُٹھ گیا ہے کہ

بن کے ایک حادثہ بازار میں آجائے گا

جو نہیں ہو گا وہ اخبار میں آجائے گا

چور اچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں

کون کب کونسی سرکار میں آجائے گا

اور ہاں بادی النظر میں اسٹیبلشمنٹ نے بھی اپنے مفاد کے لیے ہمیشہ مفاداتی سیاست کو فروغ دیا ہے، تبھی تو آج کل بھی مک مکا کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے ۔ ان سب ’’یوٹرنوں‘‘کے بعد عوام کو کیا حاصل ہوا ہے؟عوام کو کچھ حاصل ہوا ہے تو سو فیصد چیزوں میں سو فیصد ملاوٹ، گلی گلی، محلے محلے دھوکے، دو نمبری ایسی کہ مارکیٹ میں سرف ملا دودھ ہم بچوں کو پلا رہے ہیں، بے ایمانی ایسی کہ چڑیا گھر کے جانوروں کی خوراکیں انسان کھا رہے، قصہ مختصر، اوپر لیڈر شپ اپنا کام نہیں دکھا رہی، نیچے قوم نہیں، اوپر ایک اکیلا لیڈر مفلوج اور باقیوں کی نیت صاف نہیں۔

سچ پوچھیے توپاکستانی عوام وہ فٹ بال بن چکے ہیں، جسے ہر کوئی ٹھوکریں مار رہا ہے۔ لہٰذاآپ چاہے جو بھی سمجھیں مگر سیاسی جماعتوں کو اپنی پوشیدہ کمزوریوں کو اب عوام کے سامنے لانا ہو گا۔ورنہ عوام کا سیاستدانوں پر سے بھرم اُٹھ جائے گا، لوگ سیاستدانوں کے بجائے کسی اور جانب دیکھنا شروع ہو جائیں گے، اور یہ ملک بھیک منگا ہی رہے گا اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی!اس لیے خدارا سیاستدان سیاست کو عبادت سمجھ کر کریں، اپنے موقف، نظریات اور اصولوں پر ڈٹ جائیں یقین مانیں رہتی دنیا تک نام کمائیں گے۔ اور اپوزیشن تو ایک طرف وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو سب سے پہلے سیاست سمجھنی چاہیے ۔ دوسروں پر الزام لگانا اور دوسروں کو گالیاں دینا سیاست تو نہیں ہے۔

اس کے علاوہ عوام کو بھی خود دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں،موجودہ حالات میں عوام بھی منشور دیکھے بغیر سپورٹ کرتی ہے۔ عوام جذباتی ہو کر فیصلے کرتی ہے۔ پھر ملک خراب ہوتو گالیاں بھی دیتی ہے۔ ایسا عمل یقینا ملک کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے !

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔