صحتیابی تک نواز شریف کو لندن میں ہی زیرعلاج رہنا چاہیے، برطانوی ڈاکٹر کی رپورٹ

ویب ڈیسک  منگل 14 جنوری 2020
انجیو گرافی نہ کرائی گئی تو دل کی حالت مزید تشویشناک ہوسکتی ہے، ڈاکٹر لارنس کی رپورٹ فوٹو: فائل

انجیو گرافی نہ کرائی گئی تو دل کی حالت مزید تشویشناک ہوسکتی ہے، ڈاکٹر لارنس کی رپورٹ فوٹو: فائل

 لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ان کی میڈیکل رپورٹس حکومت کو بھجوا دی ہیں جس میں کہا گیا ہے مکمل صحتیابی تک انہیں لندن میں ہی زیرعلاج رہنا چاہیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کی رپورٹس حکومت کو بھجوا دی ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے یہ رپورٹس ٹویٹر پر بھی شیئر کر دی ہیں، ان رپورٹس میں پیٹ اسکین اور ایکو کارڈیا گرام وغیرہ شامل ہیں۔

نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ برطانوی معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی جانب سے تیار کی گئی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ دی گائیز اینڈ سینٹ تھامس اسپتال میں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس تعداد مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لئے ماہرین کام کررہے ہیں، نواز شریف جب تک مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوتے انہیں لندن میں ہی زیر علاج رہنا چاہئے۔

میڈیکل رپورٹ میں ڈاکٹر لارنس نے دل کے دورے کے خطرے کے پیش نظر فوری انجیوگرافی کرانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فوری انجیو گرافی نہ کرائی گئی تو دل کی حالت مزید تشویشناک ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔