جیتی بازی ہارنے کا فن کوئی پاکستان ٹیم سے سیکھے

سلیم خالق  پير 11 نومبر 2013
ٹیلنٹ دشمن پالیسی نے کرکٹ کی ناؤ ڈبودی۔ فوٹو: فائل

ٹیلنٹ دشمن پالیسی نے کرکٹ کی ناؤ ڈبودی۔ فوٹو: فائل

’’دیکھ لینا پاکستان یہ میچ نہیں جیتے گا،ابھی کچھ دیر بعد تم خود بیٹھے ان کھلاڑیوں کی برائیاں کر رہے ہوگے‘‘۔

چوتھا ون ڈے دیکھتے ہوئے جب آفس کے ایک ساتھی نے یہ الفاظ کہے تو مجھے سخت بُرا لگا، دل ہی دل میں کہا کہ اب توسب ہی ماہرین کرکٹ بن گئے ہیں،80 گیندوں پر93رنز درکار اور مصباح اور صہیب سیٹ ہو چکے، عمر اکمل اور شاہد آفریدی جیسے ہارڈ ہٹرز بھی موجود ہیں ایسے میں کیسے ہاریں گے، ساتھ ہی ایک اور سوچ دل میں آئی کہ تم خود کتنے ٹیسٹ کھیل چکے جو خود کو ایکسپرٹ سمجھتے ہو، یہی پاکستانی ٹیم پہلا میچ کیسے ہاری تھے بھول گئے، لہٰذا کوئی جواب دیے بغیر دوبارہ میچ دیکھنے لگا اور پھر جب دھڑا دھڑ وکٹیں گرنے لگیں تو ان صاحب نے فخر سے میری جانب ایسے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں ’’دیکھا میں نے کیا کہا تھا‘‘۔

واقعی پاکستانی ٹیم آج کل جیسے میچز ہار رہی ہیں انھیںدیکھ کر حیرت ہی ہوتی ہے، شائقین کا کھیل پر سے اعتماد ختم ہونے لگا،ان کے ذہن میں یہی سوچ ہے کہ آخر ایسے اتفاقات ہمارے میچز میں ہی کیوں ہوتے ہیں،ورلڈکپ سیمی فائنل میں مصباح اور یونس جیسے بہترین فیلڈرز ٹنڈولکر کے آسان کیچز نہیں پکڑ پاتے، زمبابوے جیسی کمزور ٹیم سے ہم ون ڈے اور ٹیسٹ ہار جاتے ہیں، زیادہ دور کیوں جائیں، چوتھے ون ڈے میں ایسا لگا جیسے کسی نے عمراکمل کے ہاتھ پائوں باندھ دیے ہوں وہ کھلاڑی جو ٹیسٹ میں بھی5گیندیں ضائع نہیںکرتا اس سے ون ڈے کے اہم موڑ پر ایسی غلطی ہو گئی،کیوں اہم مواقع پر ہمارے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں، یہ مسئلہ حل کرنے کیلیے دنیا کے بہترین کوچ کی نہیں ماہر نفسیات کی ضرورت ہو گی،10،20رنز کے اضافے سے 6،7 وکٹیں گریں گی تو ایسے اتفاقات ہمیں کسی بڑے مسئلے کا شکار کر دیںگے۔

حالیہ سیریز کا اگر جائزہ لیں تو پاکستان کی بیٹنگ لائن بُری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، ٹیسٹ سے حفیظ باہر ہو چکے، ایسا لگتا ہے کہ اب ون ڈے سے بھی ان کی واپسی کا وقت آ چکا،4میچز میں وہ ایک نصف سنچری بھی نہیں بنا سکے، جب ناصر جمشید کو2اور عمر امین کو 3میچز میں ناکامی پر ڈراپ کیا جا سکتا ہے تو پھر انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ پانچویں میچ میں حفیظ کو بھی باہر کیا جائے،20،30رنز بنانا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، اگر آپ نائب کپتان ہیں تو سنچری اور اس سے بھی آگے کا سوچنا چاہیے، وکٹ کیپر سرفراز احمد نے چار میچز ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر دیکھ لیے، اب تک یو اے ای کی خاصی سیر بھی کر لی ہو گی لہٰذا ایک موقع تودے ہی دینا چاہیے، عمر اکمل بطور بیٹسمین کھیل سکتے ہیں۔

ناصر جمشید بدستور مایوس کر رہے ہیں، کئی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد وہ زوال کا شکار ہوئے، پھر ٹیم میں واپس آئے تو اب بھی اسکور نہیں بن رہا،ایسے میں اب کسی اور نئے کھلاڑی کو تلاش کر کے اسکواڈ میں شامل کرنا چاہیے، ناصر کیلیے مناسب یہی ہے کہ کچھ عرصے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر فارم بحال کرنے کی کوشش کریں، ان کے کھیل میں یقینا ایسی کوئی خامی ہے جسے واٹمور دور نہیں کرا سکے، پاکستان میں جاوید میانداد، ظہیرعباس اور حنیف محمد جیسے سابق عظیم بیٹسمین بھی موجود ہیں، ناصر کو ان سے مدد لینی چاہیے،خرم منظور نے ٹیسٹ میں اچھا پرفارم کیا تھا انھیں ون ڈے میں بھی آزمانا مناسب رہتا، ویسے بھی پاکستانی کرکٹرز تینوں طرز کی کرکٹ تقریباً ایک ہی انداز سے کھیلتے ہیں، انھیں کسی ایک فارمیٹ تک محدود رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

عمر امین کو ان دنوں مستقبل کا کپتان قرار دیا جا رہا ہے، انھیں کس کی پشت پناہی حاصل ہے یہ راز ابھی تک نہیں کھل پایا، کئی سینئرز کی موجودگی میں پاکستان اے کی قیادت ایسے ہی نہیں مل جاتی،2010میں عمر امین نے ون ڈے ڈیبیو کیا اور12میچز میں ایک ہی ففٹی بنا سکے ہیں، اس دوران انھوں نے20کی اوسط سے220رنز اسکور کیے،اس سے 10،12کم اسکور تو روہت شرما جیسے بھارتی بیٹسمین ایک اننگز میں ہی بنا چکے مگر عمر نے3سال صرف کر دیے، ان کا ٹیلنٹ آخر کہاں چھپا ہے اور مزیدکتنے سال میں سامنے آئے گا سلیکٹرز ذرا یہ بتائیں گے، ڈومیسٹک کرکٹ میں اور بھی تو کئی کھلاڑی ہیں انھیں کب موقع ملے گا، کسی کے والد بینک کے اعلیٰ افسر ہوں یا کوئی کسی اہم حکومتی شخصیت سے تعلق رکھتا ہو تو اسے فوراً چانس مل جاتا ہے، بغیر کسی سفارش والے پلیئرز آخر کہاں جائیں جیسے صہیب مقصود ہیں، وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگا کر تھک گئے مگر اب ڈیبیو کا موقع ملا۔

قارئین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ایسا محسوس ہوا کہ وہ پہلا میچ کھیل رہے تھے،پروٹیز جیسی ٹیم کے خلاف ڈیبیو پر56رنز بناکر صہیب نے اہلیت ثابت کر دی، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مصباح الحق اور محمد حفیظ جیسے سینئرز نے اپنی جگہ خطرے میں پڑنے کے خطرے سے صہیب کو تاخیر سے موقع دیا،اب جب کوئی چارہ نہ بچا تو نوجوان بیٹسمین کو میدان میں اتارنا ہی پڑا، اسی سوچ نے پاکستانی کرکٹ کا بیڑا غرق کر دیا، مصباح کے بارے میں کچھ لکھوں تو ان کے پرستار ناراض ہو جاتے ہیں کہ دیکھیں انھوں نے اتنا اسکور کیا ہے، میں مانتا ہوں یہ سچ ہے لیکن اس بیچ ہماری ٹیم کہاں گئی، مصباح خود توہیرو بن گئے ٹیم کو زیرو کر دیا، رواں برس انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ1101 رنز بنائے،اس میں12 نصف سنچریاں شامل ہیں، آسٹریلوی جارج بیلی نے1098جبکہ بھارتی روہت شرما اور ویرت کوہلی نے بالترتیب1071اور1033 رنز اسکور کیے، اب ذرا یہ بتائیں کہ یہ بھول کر کہ مصباح پاکستانی ہیں ان چاروں میں سے3پلیئرز کو ورلڈ الیون میں لینا ہو تو کسے لیں گے، زیادہ تر کی رائے بیلی، روہت اور ویرت کے انتخاب کی ہی ہو گی، وہ لوگ جو تمام ٹیموں کو فالو کرتے ہیں انھیں بیلی کی ویسٹ انڈیز کے خلاف 125 جبکہ بھارت سے میچز میں 98اور156 کی اننگز یاد ہوں گی۔

اسی طرح روہت شرما نے تو جن9میچز میں 50 سے زائد رنز بنائے ان میں سے8بھارت نے جیتے،انھوں نے آسٹریلیا کیخلاف ناقابل شکست141 اور209رنز کی یادگار اننگز کھیلیں، ویرت کوہلی کے9ففٹی پلس اسکور میں سے صرف2بار بھارت ہارا، زیادہ دور کیوں جائیں آسٹریلیا سے حالیہ سیریز میں ہی انھوں نے ناقابل شکست 100 اور 115 کی اننگز کھیلیں، کیا کوئی مجھے بتائے گا کہ مصباح نے کتنی بار ایسا اسکور کر کے ٹیم کی نائو پار لگائی، 132میچز کھیلنے کے باوجود ہمارے کپتان ایک سنچری بھی نہیں بنا سکے، ویسٹ انڈیز کے خلاف رواں برس جب انھوں نے96ناٹ آئوٹ اور زمبابوے سے میچ میں 83رنز ناٹ آئوٹ بنائے تو دونوں بار ٹیم ہار گئی، یقینا مصباح نے پاکستان کو چند میچز جتوائے اور وہ تسلسل سے اسکور کر رہے ہیں لیکن فنشنگ کے فقدان کی وجہ سے وہ اب تک سپراسٹار کا درجہ حاصل نہیں کر سکے، اگر کوئی پاکستان کے ٹاپ5بیٹسمینوں کی فہرست بنائے تو افسوس مصباح کا نام شامل نہ ہو گا،اب بھی وقت ہے ٹیم میں ان کی جگہ کو خطرہ نہیں لہٰذا انھیں اپنا دفاعی انداز تبدیل کرنا ہو گا۔

ون مین آرمی اسے کہا جاتا ہے جو اکیلا جتوائے وہ نہیں جو میچ بنائے اور پھر ہمت ہار کر چلتا بنے۔ یہ سن کر ہمارے کان پک چکے کہ ’’بیچارہ مصباح کیا کرے اس نے تو ففٹی کر دی ٹیم کچھ نہ کر پائی‘‘ انھیں خود تیسرے یا چوتھے نمبر پر آ کر کھیلنا چاہیے، ساتھ جونیئرز کی رہنمائی بھی کریں، ان کے کیریئر میں جتنی کرکٹ لکھی ہے وہ کھیلیں گے، صہیب مقصود جیسا کوئی بھی اچھا بیٹسمین انھیں اس سے محروم نہیں کر سکتا، لہٰذا کھلاڑیوں کو منصفانہ مواقع دیں اور خود اسکور کرنے کے ساتھ دوسرے پلیئرز کو بھی ایسا کرنے کی تحریک دیں، جاوید میانداد اور عمران خان یہی کرتے تھے اسی وجہ سے بطور کھلاڑی دونوں کے نام آج بھی سنہری حروف میں جگمگا رہے ہیں۔

حالیہ سیریز کا واحد مثبت پوائنٹ احمد شہزاد کی بیٹنگ نظر آتی ہے، اوپنر کے اسٹروک پلے کا کوئی جواب نہیں مگر عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہے، جس دن انھوں نے ایسا کیا وہ بھی کوہلی، بیلی اور روہت کی صف میں شامل ہو جائیں گے، جنوبی افریقہ کے خلاف3اننگز میں وہ 40پلس اسکور کو سنچری میں تبدیل نہ کر پائے، کسی بڑے بیٹسمین میں ٹمپرامنٹ کا ہونا بے حد ضروری ہے احمد کو بھی اپنی بیٹنگ میں یہ عنصر لانا ہوگا۔نوجوان بیٹسمین اسد شفیق کو حالیہ سیریز میں2 مواقع ملے اور دونوں بار جلد وکٹ گنوا دی، وہ اب 23ٹیسٹ،45 ون ڈے اور10ٹی ٹوئنٹی کھیل چکے لہٰذا جونیئر نہیں کہلا سکتے، نجانے ان کی بیٹنگ میں تسلسل کب آئے گا۔ عمر اکمل نے بھی حالیہ سیریز میں خاصا مایوس کیا، لگتا ہے کہ اب دوہری ذمہ داری کے بوجھ سے ان کا کھیل اثرانداز ہونے لگا، حالانکہ وکٹ کیپنگ انھوں نے پہلے بھی کامیابی سے کی تھی۔پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ آل رائونڈرز کی کمی بھی ہے، شاہدآفریدی اب بہترین لیگ اسپنر بن چکے اور اپنی عمدہ بولنگ سے ٹیم کو میچز جتوا رہے ہیں، ان سے بیٹنگ میں توقعات وابستہ کر کے بعد میں لعن طعن کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا، جب ریگولر بیٹسمین کچھ نہ کریں تو آفریدی کیا کر سکتے ہیں،انھیں اب شائقین بولر ہی سمجھیں تو بہتر ہے اور وہ یہ ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں، وہ اور سعید اجمل اس وقت پاکستانی بولنگ کی جان ہیں،البتہ فاسٹ بولرز جنید خان، محمدعرفان اور سہیل تنویرکو وکٹیں لینے کی صلاحیت بڑھانی ہو گی، وہاب ریاض کے بارے میں ایک سچ بتائوں چلیں رہنے دیں،بہرحال پاکستانی ٹیم میں کئی سفارشی کرکٹرز کھیل رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈکے معاملات بدستور بحران کا شکار ہیں، نجم سیٹھی اختیارات کی کمی کا رونا روتے رہے جس سے عدالت کا دل بھی پسیج گیا اور انھیں ایک ماہ کا وقت دے دیا ہے، اقتدار کا نشہ آسانی سے نہیں چھٹتا، وہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب رہے اور پھر کرکٹ میں آ گئے، یہاں تو ان کا پروٹوکول کہیں زیادہ ہو گا، ایسے میں قائم مقام کتنے عرصے تک رہتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپی کا حامل ہے، ویسے بھی نجم سیٹھی بارہا واضح کر چکے کہ جلد انتخابات کا ہونا ممکن نہیں، اب معاملات کو مزید اتنا الجھا دیا جائے گا کہ کئی ماہ گذرنے کے بعد بھی الیکٹورل کالج مکمل نہیں ہو پائے گا، یوں ایڈہاک کمیٹی ہی راج کرتی رہے گی، رقم کے عوض نوبال کرنے پر جیل کی ہوا کھانے والے عامر کے معاملے کو بیجا اہمیت دینے والے چیئرمین ان دنوں اپنی ایک خود ساختہ ’’کامیابی‘‘ پر نازاں ہیں، انھیں لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ سے سیریز رکھ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا،بقول چیئرمین اس ٹور سے پاکستان کو 15کروڑ روپے کا فائدہ ہو گا، پی سی بی جیسے ادارے کیلیے یہ رقم زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، اتنے پیسے تو وہ بغیر کام کیے تنخواہ وصول کرنے والے جاوید میانداد کو دے چکا ہوگا۔

البتہ ہارون لورگاٹ کی مدد ہو گی، پاکستان سپر لیگ کے ناکام منصوبے سے کروڑوں روپے کمانے والے موجودہ جنوبی افریقی کرکٹ چیف بھارتی مخالفت کے سبب دبائو میں تھے، اب ان کے کریڈٹ پر یہ بات آ گئی کہ دھونی الیون سے سیریز مختصر ہونے سے بچنے والے وقت کو کارآمد بنا لیا، مسلسل چار ماہ کرکٹ کھیل کر پاکستانی کھلاڑیوں کا کیا حال ہو گا یہ کوئی ان سے ہی پوچھے، چیئرمین کا کہنا ہے کہ اس ٹور سے ٹیم کو سیکھنے کا موقع ملے گا، رواں برس ہی ایک اور پروٹیز کے دیس کا ٹور ہوا تھا اس سے بھی ہارنا ہی سیکھا، اب بھی جنوبی افریقی ٹیم ہماری درگت بنا رہی ہے تو مزید 5میچز رکھ کر پلیئرز کا مورال مزید گرانے کا مکمل انتظام کر لیا گیا، اس کا سری لنکا سے سیریز میں بھی نقصان ہو گا،یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان میں ان دنوں کرکٹ نہیں ہو رہی لیکن ٹیم بیرون ملک تو مصروف رہتی ہی ہے، آئی لینڈرز کیخلاف مقابلوں سے قبل پلیئرز کو آرام کا موقع دینے کے بجائے ایک اور سیریز رکھ کر بورڈ نے سراسر گھاٹے کا سودا کیا اس کا اندازہ کچھ عرصے بعد ہی ہو گا۔

سابق کرکٹر عبدالقادر معاہدے کی تجدید نہ ہونے پر بورڈ کے خلاف محاذ کھول چکے، اب قارئین ان کے تنقیدی بیانات پڑھنے اور سننے کے لئے تیار رہیں، سابق اسپنر عظیم کرکٹر رہے ہیں مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ عہدہ قبول کرنے کے بعد بھی ملکی کرکٹ کی خامیوں پر آواز اٹھاتے رہتے، ملازمت ملتے ہی سب اچھا ہو گیا، ہر ماہ ملنے والے چیک کے صفر دیکھ کر صفر پر آئوٹ ہونے والے بیٹسمینوں کی خامیاں گنوانا وہ بھول گئے، اب جب معاملات خراب ہوئے تو انتخابات میں حصہ لینے کی بات کر رہے ہیں ، ضرور وہ ایسا کریں یہ ان کا حق ہے مگر ساتھ یہ بتاتے چلیں کہ بورڈ کی ملازمت کے دوران انھوں نے ملک کو کتنے اسپنرز تیار کر کے دیے؟

ڈائریکٹر جنرل جاوید میاندادکے2خاص افراد کو برطرف کر کے پی سی بی نے ان کی مخالفت بھی مول لے لی، محمد الیاس بھی معاہدے کی توسیع نہ ہونے پر آستین چڑھا کر تیار بیٹھے ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ یہ تمام افراد اقتدار میں رہتے ہوئے بھی ملکی کرکٹ کی خامیوں کی نشاندہی کیا کریں، باہر ہونے کے بعد ایسی باتیں کیا اہمیت رکھیں گی۔

مجھے فخر ہے کہ جن لوگوں کو اپنے میچز کے پریس ریلیز چھپوانے کے لئے دیتا تھا، آج انہی کے ساتھ کام کر رہا اور’’ایکسپریس‘‘ جیسے بڑے گروپ سے وابستہ ہوں، پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے بھی اسی طرح ترقی کی منازل طے کیں اور اب بڑے عہدے پر فائز ہیں،عبدالقادر نے انھیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا لیکن ایسے لوگ ہمارے رول ماڈل ہونے چاہئیں جو نیچے سے ترقی کر کر اعلیٰ عہدوں پر پہنچیں، ان پر انگلیاں اٹھا کر کچھ حاصل نہیں ہونا، مجھے نہیں یاد کہ آخری بار کتنے سال قبل سبحان سے بات یا ملاقات ہوئی مگر انھوں نے اپنی محنت سے یہ مقام بنایا جس پر ان کی بڑی عزت کرتا ہوں۔

جاتے جاتے ان قارئین کا شکریہ جنھوں نے آئی سی سی ایوارڈز کی ووٹنگ اکیڈمی میں شامل ہونے پر مبارکباد کی ای میلز ارسال کیں یا فون کیے، یہ صرف میرا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے لئے بھی اعزاز ہے۔n

[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔