یہ صرف قبر نہیں

جاوید چوہدری  جمعـء 17 جنوری 2020
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

وہ ایک عام سی قبر تھی‘ مٹی کی ڈھیری ‘ قبر کے قریب سبز رنگ کی دو گندی سی بالٹیاں پڑی تھیں اور مٹی کو بہنے سے بچانے کے لیے قبر کے دائیں بائیں سفید ماربل کے پیس رکھ دیے گئے تھے اور بس‘ قبر کے گرد چار دیواری تھی‘ جنگلا تھا اور نہ ہی مزار تھا‘ میرے دوست نے قبر کی تصویر مجھے بھجوا دی۔

میں نے تصویر کو موبائل پر بڑا کر کے دیکھا تو نیچے لکھا تھا ’’اومان کے سلطان قابوس کی قبر‘ یہ ہے زندگی کی اصل حقیقت‘‘ تصویر بھیجنے والا شاید مجھے زندگی کی بے ثباتی سمجھانا چاہتا تھا لیکن میں یہ تصویر دیکھ کر ہنس پڑا‘ کیوں؟ کیوں کہ میں جانتا تھا میرا دوست بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح غلط فہمی کا شکارہے۔

یہ بھی اس قبر سے عبرت تلاش کر رہے ہیں جب کہ مٹی کی ڈھیری بے ثباتی یا عبرت کی نشانی نہیں ‘ یہ دنیا کے ایک نام ور حکمران کی سادگی‘ عظمت اور پرفارمنس کا عظیم شاہکار تھی‘ سلطان قابوس اور ان کی فیملی چاہتی تو وہ اس قبر کے گرد سونے کا مزار بنا سکتی تھی‘ یہ لوگ سلطان مرحوم کی قبر کو تاج محل بھی بنا سکتے تھے مگر یہ سلطان کی درویشی‘ سادگی اور حقائق پسندی کا مذاق ہوتا‘ سلطان قابوس کتنے بڑے انسان تھے آپ اس کا اندازہ صرف دو چیزوں سے لگا لیجیے‘ سلطان صاحب 1970 میں جس گاڑی پر اقتدار سنبھالنے کے لیے محل آئے تھے ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت بھی اسی 50 سال پرانی گاڑی میں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچائی گئی اور یہ قبر بھی ان کی ہدایت پر سادہ اور عام رکھی گئی‘یہ اسے مزار نہیں بنوانا چاہتے تھے‘ یہ تھے سلطان قابوس۔

سلطان قابوس بن سعید جولائی 1970میں اومان کے بادشاہ بنے‘ اومان اس وقت خلیج کا پسماندہ ترین ملک تھا‘ پورے ملک میں صرف تین سڑکیں تھیں‘ بجلی اور اسپتالوں کا نام تک نہیں تھا‘ پورے ملک میں کوئی تعلیمی ادارہ اور کوئی منڈی نہیں تھی‘ ملک قبائل میں تقسیم تھا اور تمام قبائل ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھے اور اومانی باشندے دوسرے ملکوں میں مزدوری کرتے تھے‘ سلطان قابوس نے بسم اللہ کی اور اومان کو بدلنا شروع کر دیا‘ یہ کس قدر وژنری حکمران تھے آپ اس کا اندازہ ان کے صرف ایک قدم سے لگا لیجیے۔

یہ اپنے مخالفین کو بلواتے تھے اور ان کے جوان بچوں کو حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور یورپ بھجوا دیتے تھے‘ یہ بچے جب دنیا دیکھ کر اور اعلیٰ تعلیم پا کر واپس آتے تھے تو یہ ریاست کے دشمن سے ریاست کے سب سے بڑے دوست بن چکے ہوتے تھے‘ یہ بچے آج حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں‘ اومان اس وقت خلیج کا پرامن ترین اور خوش حال ترین ملک ہے‘ آپ انصاف‘ تعلیم‘ علاج ‘ روزگار اور امن کسی بھی پہلو سے دیکھ لیں آپ کو اومان پورے خطے میں آگے ملے گا‘ مسقط اس وقت سنگا پور کے بعد دنیا کا صاف ترین شہر ہے۔

اومان خلیج کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ اور حکومت میں خواتین کو 17 فیصد نمائندگی دی‘ آپ کو ہر حکومتی دفتر میں خواتین ملتی ہیں‘ سلطان کی پوری کابینہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ وزراء آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہارورڈ اور ہائیڈل برگ جیسی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں‘ مسجدوں کے امام بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ آپ کسی گاؤں کے مفتی سے بھی بات کر لیں‘ وہ بھی اپنے لہجے اور تہذیب سے آپ کو حیران کر دے گا‘ پوری اسلامی دنیا تقسیم ہے‘ ایران اور سعودی عرب کے اندر شیعہ سنی اختلافات انتہا کو چھو رہے ہیں‘ پاکستان کے حالات بھی آپ کے سامنے ہیں لیکن اومان میں کسی قسم کی مسلکی تقسیم ہے اور نہ ہی قبائلی‘ لوگ نماز تک ایک ہی مسجد میں ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں۔

آپ یونیورسٹیاں دیکھیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے‘ آپ اسپتال‘ اسکول‘ کمیونٹی سینٹرز اور شاپنگ مالز دیکھیں‘ یہ بھی آپ کو حیران کر دیں گے اور آپ لوگوں کے رویے بھی دیکھ لیں‘ آپ ان کی شائستگی‘ تہذیب اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ آپ کو اگر موقع ملے تو آپ صرف مسقط کی جامع سلطان قابوس دیکھ لیں یا پھر مسقط کے اوپیرا ہاؤس کا وزٹ کر لیں آپ کو دونوں ششدر کر دیں گے‘ آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے سلطان نے اوپیرا ہاؤس زیادہ اچھا تعمیر کیا یا پھر جامع مسجد اور آپ سڑکیں بھی دیکھ لیں‘ سلطان نے صحرا کے اندر تک سڑکیں پہنچا دیں اور یہ سارے کام ایک ہی سلطان کے دور میں ہوئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے سلطان نے یہ سب کیسے کیا؟ وہ ایک بادشاہ تھے اور بادشاہ عموماً عوام کو سوچنے‘ بولنے اور علم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیتے‘ سلطان قابوس پچاس سال بادشاہ رہے اور انھوں نے بادشاہی کے باوجود اپنے لوگوں‘ اپنے معاشرے کو کھول دیا‘ کیوں اور کیسے؟یہ سوال بہت اہم ہے اور ہم جیسے لوگوں اور معاشروں کے لیے اس میں روشنی کی بے شمار قندیلیں چھپی ہیں‘ سلطان قابوس کا پہلا کارنامہ امن تھا‘ سلطان نے 1970 میں فیصلہ کیا تھا یہ اسلامی دنیا کے کسی تنازع کا حصہ بھی نہیں بنیں گے اور یہ کسی کے ساتھ جنگ بھی نہیں کریں گے چناں چہ اومان پچاس سال میں کسی عالمی یا اسلامی تنازع میں فریق نہیں بنا‘اس دوران ایران میں انقلاب آیا‘ افغان وار ہوئی۔

عراق اور ایران جنگ ہوئی‘ سنی اور شیعہ تنازع بنا‘ عرب ممالک میں ’’انقلابی بہار‘‘ آئی اور آخر میں یمن میں جنگ چھڑ گئی مگر اومان ہر معاملے میں نیوٹرل رہا‘ آپ سلطان قابوس کی ذہانت ملاحظہ کیجیے‘ اومان کی سرحدیں یمن‘ یو اے ای اور سعودی عرب سے ملتی ہیں‘ اومان کے تینوں ملکوں کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی پیدا ہوئے لیکن سلطان قابوس نے لڑنے کی بجائے یو اے ای کے شیخ زید بن سلطان النہیان کو دعوت دی‘ نقشہ ان کے سامنے رکھا اوران سے کہا آپ اس پر لکیر لگا دیں‘ ہم اس لکیر کو سرحد مان لیں گے لیکن ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے نہیں‘ شیخ زید نے نشان لگا دیا اور اومان نے اسے سرحد مان لیا‘تنازع ختم ہو گیا‘ یمن اور سعودی عرب کے ساتھ بھی سرحدی تنازعے اسی طرح سیٹل کیے گئے۔

سلطان کہتے تھے ’’ہم ہمسایوں کے ساتھ لڑ کر امن سے نہیں رہ سکیں گے‘‘ چناں چہ یہ بڑے سے بڑا ایشو بھی گفتگو کے ذریعے حل کرتے تھے‘ سلطان قابوس کے دور میں اومان نے خود جنگ کی اور نہ یہ کسی جنگ کا حصہ بنا‘ یہ ملک ہر دور میں ثالث رہا‘ یہ متحارب گروپوں کے درمیان صلح کراتا رہا‘یہ اس وقت بھی یمن کے دو اطراف کے زخمیوں کا ایک ہی اسپتال میں علاج کرتے ہیں‘ یہ میرٹ پر بھی بے انتہا یقین رکھتے تھے۔

اومان میں پچھلے پچاس برسوں میں تمام عہدوں پر صرف اور صرف اہل لوگوں کو تعینات کیا گیا اور وہ اہل لوگ خواہ سلطان کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں انھیں کوئی نوکری اور ترقی سے نہیں روک سکتا تھا‘ تیسرا یہ انصاف اور عدل پر بھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا ملک کا کوئی طاقت ور شخص کسی کم زور کا حق مار لے اور ریاست اس پر خاموش رہے‘ سلطان نے اربوں روپے کے پلازے اور زمینیں حق داروں کو واپس کرائیں اور اس عمل میں کسی کا دباؤ قبول نہیں کیا‘ مسقط کے اندر الموج (ویوز) نام کا ایک وسیع رہائشی کمپاؤنڈ ہے‘ یہ سمندر کے کنارے ہے اور یہ ہر لحاظ سے دبئی لگتا ہے۔

یہ انٹرنیشنل کمیونٹی کا کمپاؤنڈ ہے‘ آپ اس میں داخل ہوں آپ کو محسوس ہوگا آپ کسی عرب ملک کی بجائے یورپ میں پھر رہے ہیں‘ اسلامی دنیا کے زیادہ تر معزول حکمرانوں کے خاندان الموج میں رہتے ہیں‘ کرنل قذافی کی فیملی بھی یہاں رہتی ہے اور شام‘ یمن‘ عراق اور لبنان کے معزول حکمرانوں اور وزراء کے بچے بھی‘ سلطان قابوس حالات کے شکار حکمرانوں کے برے وقت کے ساتھی ثابت ہوتے تھے‘ یہ ہر لٹے پٹے حکمران اور اس کے خاندان کے لیے اپنے دروازے کھول دیتے تھے‘ شاید یہی وجہ ہے ان کے جنازے میں وہ تمام لوگ موجود تھے جنھیں پوری دنیا مل کر ایک جگہ نہیں بٹھا سکی‘ مصر کے مورسی اور السیسی دونوں گروپ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں‘ یمن میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان لڑائی چل رہی ہے‘ شام میں تین مختلف اسلامی طاقتیں ایک دوسرے کے سر اتار رہی ہیں اور ایران اور سعودی عرب کا تنازع بھی آخری اسٹیج پر پہنچ چکا ہے مگر آپ سلطان قابوس کا کمال دیکھیے‘ ان سب طاقتوں کے سربراہ اور نمائندے سلطان کے جنازے میں موجود تھےْ

یہ سب مل کر ان کے درجات کی بلندی کی دعا کر رہے تھے‘آپ یہ دیکھیے اومان واحد عرب ملک ہے جس میں کوئی ولی عہد نہیں تھا‘ سلطان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کھولی گئی‘ سلطان نے ہیثم بن طارق السعید کو بادشاہ نامزدکیا تھا اور پورے خاندان اور ملک میں سے کسی نے چوں تک نہ کی‘ ہر شخص نے سلطان کے فیصلے پر آمین کہہ دی‘ پوری دنیا کا خیال تھا سلطان قابوس کے بعد تخت اور تاج کے ایشو پر اومان بکھر جائے گا لیکن سلطان کے اخلاص اور محبت نے انتقال کے بعد بھی ملک کو جوڑے رکھا‘ ملک میں کسی جگہ بغاوت ہوئی اور نہ شورش‘ کسی نے مخالفانہ آواز تک نہیں نکالی اور سلطان بلا کے مستقل مزاج بھی تھےْ

یہ جو کام شروع کر دیتے تھے یہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا سلطان قابوس نے کوئی کام شروع کیا ہو اور وہ کام مکمل نہ ہوا ہو چناں چہ میں سمجھتا ہوں سلطان قابوس کی قبر صرف قبر نہیں یہ اسلامی دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے روشن مثال ہے اور یہ مثال ثابت کرتی ہے انسان اگر دنیا میں کچھ کرنا چاہے تو یہ پوری قوم کا مقدر بدل سکتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس مٹی کی چھوٹی سی ڈھیری دنیا کا سب سے بڑا مقبرہ بن سکتی ہے‘ لوگ اس کی کچی قبر کی مٹی کو سرمہ بنا لیتے ہیں اور سلطان قابوس زندہ تھے تو یہ کمال تھے‘ یہ انتقال فرما گئے تو یہ کمال سے بھی بڑا کمال بن گئے‘ یہ ثابت کر گئے لوگوں کی خدمت کرنے والے حکمران مزاروں اور مقبروں کے محتاج نہیں ہوتے‘ ان کی کچی قبریں بھی تاج محل سے بڑی اور قیمتی ہوتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔