یہ پہلے کہاں تھے

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہماری اپوزیشن ہماری حکومت کے لیے مسائل پیدا کرتی تھی جب کہ ہم اب اپوزیشن...


Muhammad Saeed Arain November 11, 2013

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہماری اپوزیشن ہماری حکومت کے لیے مسائل پیدا کرتی تھی جب کہ ہم اب اپوزیشن میں رہ کر حکومت سے نہ صرف تعاون کررہے ہیں بلکہ حکومت کو سہولت بھی دے رہے ہیں اور حکومت کے لیے مسائل پیدا نہیں کررہے۔ اس سے قبل ستمبر میں پیپلزپارٹی کے حقیقی چیئرمین آصف علی زرداری صدر مملکت کی حیثیت سے وزیراعظم نواز شریف کے الوداعی ظہرانے میں کہہ چکے ہیں کہ اب سیاست 5 سال بعد ہوگی اور پیپلزپارٹی وزیراعظم نواز شریف کی حکومت سے تعاون جاری رکھے گی۔

18اکتوبر کے پی پی کے شہدا کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں پی پی کا چیئرمین کہلوانے والے بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد کو کمان اور خود کو تیر قرار دیتے ہوئے شیر کے شکار کا بھی اعلان کیا تھا۔ اب پیپلزپارٹی نے وزیر داخلہ کے سینیٹ میں دیے گئے ایک بیان کو بنیاد بناکر اپنے دو سینیٹروں میاں رضا ربانی اور چوہدری اعتزاز احسن کے ذریعے سینیٹ میں اپنی اکثریت کے باعث وزیر داخلہ اور حکومت کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پارلیمانی تاریخ میں احتجاج کے نام پر سینیٹ کے ایوان کا بائیکاٹ کرکے لان میں ٹینٹ لگاکر اپنے حامیوں اے این پی اور ق لیگ سے مل کر ایسا اجلاس منعقد کیا جس کو خود پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے بھی غلط قرار دیا۔

پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں موجودہ اپوزیشن ارکان کی اکثریت نہیں رکھتی کیونکہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف، ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کی تعداد پی پی ارکان سے زیادہ ہے جب کہ جے یو آئی، جماعت اسلامی اور دیگر چھوٹی جماعتیں بھی اپوزیشن میں شامل ہیں مگر ن لیگ کی حکومت نے باہمی ملی بھگت یا تحریک انصاف کے خوف سے اقتدار میں آتے ہی پی پی کے خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا تھا۔ عمران خان خورشید شاہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے انھیں تبدیل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

مستقبل میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو آنیوالا وقت بتائے گا مگر پی پی نے اپنے ہی اعلانات کے برعکس سینیٹ میں حکومت کے ساتھ محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے۔ سندھ سے رضا ربانی اور پنجاب سے منتخب پی پی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے ایک غیر ضروری ایشو کو بنیاد بناکر سینیٹ میں نہ صرف دھواں دار حکومت مخالف تقریریں کیں بلکہ ایوان کے باہر اپنے حامیوں کا اجلاس منعقد کرنے کا غیر قانونی ریکارڈ بھی قائم کیا، جس کی صدارت کے لیے انھیں اپنی پارٹی کے چیئرمین سینیٹ اور ق لیگ کے ڈپٹی چیئرمین بھی دستیاب نہ ہوسکے۔ جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ انھیں اس سلسلے میں اپنے چیئرمینوں کا بھی اعتماد حاصل نہیں تھا اور وہ اکثریت بھی ثابت نہ کرسکے۔

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پنجاب میں چوہدری اعتزاز اور سندھ میں میاں رضا ربانی نے حکومت کے خلاف پریس کانفرنسوں اور میڈیا ٹاک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ دونوں پیپلزپارٹی کے وہ رہنما ہیں جنہوں نے پی پی حکومت میں چپ سادھ کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ گزشتہ حکومت کے پانچ سال میں کرپشن کے ریکارڈ قائم ہوئے مگر ان دونوں سینیٹروں کی آنکھوں کو کرپشن کہیں نظر نہیں آئی، نہ دونوں کے لب اس سلسلے میں کھلے۔

دونوں رہنما ملک میں ہونے والی بجلی وگیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے، بڑھتی بیروزگاری کے ذریعے قائم ہونے والی خودکشیوں کے ریکارڈ، وفاق، سندھ و بلوچستان میں ملک کی سب سے بڑی کابیناؤں میں وزیروں کی بھرمار، کے پی کے اور بلوچستان حکومتوں کی دنیا میں دھوم مچانے والی کرپشن، سندھ میں پی پی کے وزیروں اور رہنماؤں کے ذریعے ہونے والی سرکاری ملازمتوں کی فروخت اور اقربا پروری دیکھتے رہے مگر دونوں کو ان میں کوئی برائی نظر نہ آئی اور دونوں رہنما اپنے کان اور آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے۔ دونوں نے ان کے خلاف کوئی پریس کانفرنس کی نہ سینیٹ میں آواز بلند کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ دونوں نے صدر مملکت اور وزیراعظم کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کو بھی ضروری نہ سمجھا۔

سینیٹر بننے کے لیے پی پی کے بعض ارکان صدر مملکت کی خوشنودی میں مصروف رہے، پی پی کے ایک وکیل تو سپریم کورٹ سے وزیراعظم گیلانی کو ریلیف دلانے کی کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔

سینیٹر میاں رضا ربانی آئین میں ترامیم کرانے کی کمیٹی کی سربراہی میں خوش رہے اور ایک بار وزارت چھوڑنے کے بعد بھی حکومت میں شامل رہے انھوں نے آئینی ترامیم میں جو کردار ادا کیا اس کے بارے میں پی پی پی کے اپنے ہی گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کہاکہ رضا ربانی نے آئین کا بیڑا غرق کردیا ہے۔

پنجاب کے دوسری بار منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ اپنے پہلے دور میں لوڈ شیڈنگ پر نہ صرف احتجاج کرتے تھے بلکہ انھوں نے مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ بھی لگایا تھا، نے اقتدار میں آنے کے چار ماہ تک اس سلسلے میں مکمل خاموشی اختیار کررکھی تھی اور اب کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ نے ملکی معیشت تباہ کرکے رکھ دی ہے۔ شہباز شریف نے انتخابات کے موقع پر جذبات میں آکر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی مختلف تاریخیں دی تھیں جس پر ان پر کافی تنقید ہوئی جس کے جواب میں انھوں نے خاموشی اختیار کرلی تھی اور اب چار ماہ بعد انھوں نے اس سلسلے میں لب کشائی کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اقتدار سے قبل لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف سخت بیانات دیے تھے اور اقتدار میں آکر انھوں نے لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی تو ختم نہیں کی بلکہ اور بڑھا دی ہے۔

وزیر اطلاعات اقتدار سے قبل قوم کو میٹھی گولیاں دیا کرتے تھے اور اب قوم کو کڑوی گولیاں نگلنے کا مشورہ دینے لگے ہیں۔ وزیر خزانہ اور وزیر پانی و بجلی کے بیانات بھی اب بدل گئے ہیں، یہ دونوں پہلے کچھ کہتے تھے اور اب کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ اپوزیشن والے پہلے بولتے زیادہ تھے اور اقتدار والے خاموش رہنے میں عافیت سمجھتے تھے مگر اب اقتدار جانے کے بعد ان کے لہجے اور رویے بدل گئے ہیں، اقتدار والوں کو اب عوام یاد نہیں اور اقتدار سے اپوزیشن میں آنے والوں کو اب عوام یاد آگئے ہیں اور اسی وجہ سے پیپلز پارٹی کے ارکان بھی خاموشی کے بعد سخت بیانات دینے لگے ہیں اور اب انھیں اپنے اصول بھی یاد نہیں رہے۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

 

مقبول خبریں