مصباح لگتا ہے آپ خود گھبرا گئے

سلیم خالق  اتوار 19 جنوری 2020
خدانخواستہ اگر ہم اس ایونٹ کا انعقاد نہ کر پائے تو یہ ہماری کرکٹ کیلیے بہت بڑا نقصان ہوگا۔ فوٹو: فائل

خدانخواستہ اگر ہم اس ایونٹ کا انعقاد نہ کر پائے تو یہ ہماری کرکٹ کیلیے بہت بڑا نقصان ہوگا۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان ملکی حالات سے پریشان عوام کو اکثر ’’گھبرانا نہیں ہے‘‘ کی تلقین کرتے رہتے ہیں، ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہیں اس کے باوجود بعض اوقات گھبراہٹ ہو ہی جاتی ہے، اب مصباح الحق بھی ایسا کرنے لگے،وہ ہمیں کرکٹ میں مستقبل میں اچھے نتائج سامنے نہ آنے پر نہ گھبرانے کی تلقین کر رہے ہیں، ان کی ایمانداری پر کوئی شک نہیں، یقیناً وہ پاکستان کرکٹ کیلیے اچھا بھی کرنا چاہتے ہوں گے، مگر ناتجربہ کاری آڑے آ رہی ہے.

انھوں نے بھی اپنی ٹیم اچھی نہیں بنائی، ہر کام خود کرنے کے چکر میں خود کو غیرضروری دباؤ کا بھی شکار کرلیا، ان کیلیے بہتر تھا کہ کوئی ایک عہدہ لے کر اسی کام پر توجہ دیتے مگر چیف سلیکٹر، ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ وغیرہ وغیرہ سب بن گئے، اس سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ کنفیوز دکھائی دیتے ہیں، دورۂ آسٹریلیا کیلیے ٹی 20 اسکواڈ میں 5 تبدیلیاں کیں، اب بنگلہ دیش سے ہوم میچز کیلیے7 کھلاڑیوں کو باہر کر دیا، کبھی کہتے ہیں نوجوان کھلاڑی ملک کا مستقبل ہیں انھیں موقع دینا چاہیے تو اب 39 سالہ پرانے دوست محمد حفیظ کو واپس لے آئے،.

جب دورۂ آسٹریلیا کا وقت آیا تو ممکنہ نتائج کا سوچ کر کئی ینگسٹرز کو ساتھ لے گئے، سینئرز کو گھر بٹھا دیا تاکہ ہارنے پر تشکیل نو کا جواز دے سکیں، اب ہوم سیریز میں پالیسی تبدیل ہو گئی، حفیظ گذشتہ کچھ برسوں سے نام کے آل راؤنڈر رہ گئے تھے، اب تو انگلینڈ میں بولنگ ایکشن ایک بار پھر رپورٹ ہو چکا، کیا بطور بیٹسمین ان کا کوئی مستقبل ہے جو واپس لے آئے؟

طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے عارضی اقدامات کیے جا رہے ہیں،سری لنکا نے ہوم گراؤنڈ پر ہماری ٹیم کا جو حال کیا، اس سے شائقین سے زیادہ مصباح گھبرا گئے، انھوں نے سوچا ہو گا کہ بنگلہ دیش بھی کہیں ایسا نہ کر دے، اس لیے شعیب اور حفیظ کو واپس لے آئے، ہوم سیریز کے 16رکنی اسکواڈ میں 11 ایسے کرکٹرز ہیں جنھیں سینٹرل کنٹریکٹ سے نہیں نوازا گیا تھا، یہ فہرست مصباح نے نہیں بنائی مگر اب واضح ہو گیا کہ وہ اس سے متفق نہیں ہیں، اس وقت چاہے سلیکشن کمیٹی ہو یا پی سی بی کسی کو یہ پتا ہی نہیں ہے کہ ملک کے بہترین کرکٹرز کون ہیں، جس کو دل چاہے موقع دے دیتے یا باہر کر دیتے ہیں.

فٹنس کے نام پر کھلاڑیوں کو بریانی نہ کھانے دینے کی ہیڈ لائنز چلوائی گئیں، بار بار ٹیسٹ لینے کے ڈرامے کیے گئے، اس کے باوجود فیل ہونے والے بعض کرکٹرز منتخب ہو گئے، یہ دکھاوا کیوں کرتے ہیں، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا، ایسا نہیں چلے گا، آپ خود سوچ لیں کہ کرنا کیا ہے، نوجوانوں پرانحصار یا گھروں سے سینئرز کو بلانا ہے، ایسی متوازن ٹیم بنائیں جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو، بزرگ کرکٹرز کو آزمانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، آپ بنگلہ دیش کو تر نوالہ نہ سمجھیں.

یہ درست ہے کہ مشفیق الرحیم نہیں آ رہے مگرمہمان ٹیم پھر بھی کمزور نہیں ہو گی، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ویسے بھی کوئی بھی کسی کو ہرا سکتا ہے، امید ہے سیریز میں شائقین کو اچھے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے،ویسے یہ سیریز منسوخ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی، شکر ہے ایسا نہیں ہوا کیونکہ اتنی مشکل سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس آئی ہے، اگر بنگلہ دیشی ٹیم نہیں آتی تودیگر ممالک بھی شکوک کا شکار ہو سکتے تھے، یوں ہمیں پھر پیچھے ہٹنا پڑتا، اس معاملے کو ابتدا میں پی سی بی نے درست انداز میں نہیں سنبھالا.

بی سی بی کافی عرصے سے نخرے دکھا رہا تھا اس سے جاکر بات کرنی چاہیے تھی مگر صرف ای میلز پر انحصار کیا گیا، بعد میں جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو پھر دبئی میں ملاقات کر کے سیریز ختم ہونے کا خطرہ ٹالا، اب بنگلہ دیشی ٹیم تین بار ٹورز کرے گی، گوکہ ایک اضافی ون ڈے سے اخراجات تو شاید پورے ہو جائیں مگر اس سے دنیا پر منفی تاثر تو جائے گا، یہاں بات وہی آ جاتی ہے کہ ملک میں کرکٹ ہونی چاہیے، بنگلہ دیشی ٹیم چاہے تین حصوں میں سیریز کھیلے اس کا آنا ہی خوش آئند ہے، میچز بھی تین شہروں میں ہوں گے، اس سے شائقین کو بھرپور انداز میں کرکٹ سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا، پھر پی ایس ایل میں بھی ملکی میدان آباد رہیں گے، اس سے زیادہ خوشی کی اور کوئی بات ہی نہیں ہو سکتی.

اسی کے ساتھ اب وقت آ گیا کہ پاکستان کسی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کی بھی میزبانی کرے، 4،5 سال بعد کے ایونٹس کی میزبانی کیلیے کوشش کی باتیں تو ٹھیک ہیں مگر ساتھ رواں برس ایشیا کپ کا بھی انعقاد کرنا چاہیے، راشد لطیف نے یہ خیال ظاہر کیا کہ شاید ایونٹ کی میزبانی بنگلہ دیش کرے گا، سیریز کے بدلے ایشیا کپ کی ڈیل کا تاثر اب زور پکڑ چکا ہے، میں نے اس بارے میں جب پی سی بی کے میڈیا منیجر سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ڈائریکٹر میڈیا کہہ رہے ہیں ان سے براہ راست پوچھا کریں‘‘ انھیں فون کیا تو جواب نہ آیا، وہ صرف چند دوستوں سے ہی رابطے میں رہتے ہیں اور بورڈ کی ساری خبریں انہی کو دیتے ہیں، پروفیشنلزم کے دعوے یہاں ہوا ہو جاتے ہیں.

خیر انھوں نے پیغام بھیجا کہ ’’دبئی میں ایشیا کپ پر کوئی بات نہیں ہوئی‘‘ مگر اگلے ہی روز بنگلہ دیشی بورڈ کے سی ای او نظام الدین نے اپنے میڈیا کو سب کچھ بتا دیا، انھوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی، آدھے میچز یو اے ای اور ملائیشیا میں کرانا مہنگا پڑے گا، ہم سے میزبانی کا کہا گیا تو تیار ہوں گے‘‘۔ خیر آئندہ ماہ پتا چل جائے گا کہ کیا ایشیا کپ کی میزبانی پر بنگلہ دیش ٹیم بھیجنے پر راضی ہوا یا یہ سب قیاس آرائیاں تھیں،البتہ خدانخواستہ اگر ہم اس ایونٹ کا انعقاد نہ کر پائے تو یہ ہماری کرکٹ کیلیے بہت بڑا نقصان ہوگا.

اسی کے ساتھ پاکستان کو ’’بگ فائیو‘‘پر بھی نظر رکھنی چاہیے، بھارت ہمیں پھر عالمی کرکٹ میں تنہا کرنے کی سازش کر رہا ہے، پی سی بی کو اپنے دوستوں کی تعداد بڑھانا چاہیے، ورنہ مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، امید ہے کہ احسان مانی اور وسیم خان ایسا ہی کریں گے، یقین مانیے پھر لوگوں سے کہہ کر تعریفی ٹویٹس نہیں کرانا پڑیں گی، بلکہ سب خود دل سے کہیں گے’’واہ مانی صاحب،واہ وسیم صاحب کیا زبردست کام کیا‘‘۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پرمجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔